جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

قلم کی صدائیں ، الذی علم بالقلم ،تحریر: بینا علی

نقطہ نظر

قلم کی حرمت میں اترنے والی سب سے پہلی وحی قلم کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ "اسی رب نے انسان کو قلم کے ذریعے وہ علم سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔"

قلم انسان کی وہ طاقت ہے جو دم توڑتی ہوئی آوازوں، دبی ہوئی چیخوں اور خاموش سسکیوں کی ترجمان بن جاتی ہے۔ جب لب سل جاتے ہیں، جب خوف سے زبانیں بند ہو جاتی ہیں، تب قلم بولتا ہے۔ خاموشی قلم کی طاقت سے گونج اٹھتی ہے، اور اس کی آواز بلند و بالا ایوانوں میں بھی سنائی دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ فرعونوں کے تخت قلم کی ایک جنبش سے لرز گئے، اور ظلم کے ایوان قلم کی جنبش سے زمین بوس ہو گئے۔ عصرِ حاضر میں تلوار، نیزے، بندوق اور گولی والے طریقۂ جنگ اب ختم ہو چکے ہیں۔ میدان بدل گئے ہیں، ہتھیار بدل گئے ہیں۔ جہاد کی ایک عظیم قسم "جہاد بالقلم" ہے یعنی قلم کے ذریعے جہاد۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں قلم کی یہ قسم سب سے زیادہ مؤثر اور دور رس نتائج کی حامل ہے۔ اب سیاہی کی ایک بوند خون کے دریا سے زیادہ طاقتور ہے۔ قلم کی صدا، قلم کی چیخ، ایک لمحے میں دنیا کے ہر کونے میں سنائی دیتی ہے۔ سوشل میڈیا، اخبار، کتاب، بلاگ یہ سب جدید دور کے قلم ہیں، اور ان کی گونج سرحدوں کی محتاج نہیں۔قلم صرف احتجاج کا نام نہیں، یہ تعمیر کا اوزار بھی ہے۔ نوکِ قلم کے زور پر امن معاہدے طے پاتے ہیں، دستور لکھے جاتے ہیں، قوموں کی تقدیر کے فیصلے رقم ہوتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، ملکوں کے آئین، سب قلم کی طاقت کا مظہر ہیں۔ جہاں توپ خاموش ہو جاتی ہے، وہاں قلم بولنا شروع کرتا ہے اور دیرپا امن کی بنیاد رکھتا ہے۔قلم کی صدائیں خاموشی میں بھی چیخ اٹھتی ہیں۔ ایک مظلوم فلسطینی بچے کی تصویر کے نیچے لکھا ہوا ایک جملہ پوری دنیا کو رلا دیتا ہے۔ ایک سچا کالم حکمرانوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے۔ ایک کتاب نسلوں کی سوچ بدل دیتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ قلم تلوار سے زیادہ تیز ہے، کیونکہ تلوار جسم کاٹتی ہے، مگر قلم ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔قلم ایک مقدس امانت ہے۔ جس طرح اس سے روشنی پھیلتی ہے، اسی طرح اس سے فتنہ بھی پھیل سکتا ہے۔ جھوٹا قلم، بکا ہوا قلم، اور ظالم کا قصیدہ پڑھنے والا قلم "قلم" کہلانے کے لائق نہیں۔ اصل قلم وہ ہے جو سچ کے لیے اٹھے، مظلوم کی صدا بن جائے ۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم کی طاقت کا شعور دیں۔ اے صاحبانِ قلم! میرے عظیم لکھاریوخدارا لکھو کہ تمھارا لکھا ہوا لفظ شاید کسی کا سہارا بن جائے اور قلم کی یہی صدائیں رہتی دنیا تک گونجتی رہیں گی۔