قطری ثالث پھر تہران پہنچ گئے، امریکی سفیر کا ایران سے معاہدے کے ’انتہائی قریب‘ ہونے کا دعویٰ

قطری ثالث ایک بار پھر تہران پہنچ گئے ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان حتمی معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کے ’انتہائی قریب‘ پہنچ چکے ہیں۔ مذاکرات سے باخبر ایک اعلیٰ عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ قطری ثالثوں کا یہ دورہ امریکی حکام کی رضامندی اور مشاورت سے ہو رہا ہے۔ اس سے قبل قطر نے ایران کو ایک امن مسودہ پیش کیا تھا، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ابتدائی تجاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تہران اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
معاہدے کے لیے دونوں فریقین کی ترجیحات مختلف ہیں؛ واشنگٹن آبنائے ہرمز کی بحالی کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرنے پر بضد ہے، جبکہ تہران کا بنیادی مطالبہ ہے کہ امریکہ سب سے پہلے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے اور تیل کی برآمدات پر عائد تمام پابندیاں اٹھائے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے اس ضمن میں کہا ہے کہ تہران ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ ان کی پیشکش پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے جس کا مقصد خطے میں جنگ کا خاتمہ ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران کے ساتھ حالیہ رابطے طبی امداد اور انسانی امور سے متعلق تھے۔ ادھر استنبول میں امریکی سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام و عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں میں فوجی جھڑپوں کی شدت کم کرنے کے لیے اہم اور واضح اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹام باراک کا کہنا تھا کہ ہم اتنے قریب پہنچ چکے ہیں کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں۔ فوری طور پر کوئی جامع یا حتمی معاہدہ ممکن نہیں، لیکن دشمنی اور حملوں میں وقفہ پیدا کر کے مزید مذاکرات اور نئے علاقائی انتظامات کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
قطر اور پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار امریکی نمائندے ٹام باراک نے سفارتی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے قطر، پاکستان اور دیگر اتحادی ممالک کی کوششوں کا خصوصی طور پر اعتراف کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام ممالک نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سیاسی عمل اور بات چیت پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں بلاشبہ کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایک ایسا انتہائی اقدام ہے جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی حکومت سنجیدگی سے لیتے ہیں، تاہم اس وقت تمام سفارتی اور متبادل راستے اختیار کیے جا رہے ہیں تاکہ جنگ اور طاقت کے استعمال سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں





