جمعہ، 30 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

گائے کے تحفظ کے نام پر انسانی وقار کی قربانی؟ تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

دنیا کی تاریخ میں انسان نے تہذیب، جمہوریت، آئین، قانون اور انسانی حقوق کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔ اس جدوجہد کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کسی انسان کی زندگی، آزادی، عزت اور مذہبی شناخت کو ریاستی طاقت، اکثریتی جذبات یا کسی مخصوص نظریے کے تابع نہ بنایا جائے۔ لیکن جب کسی معاشرے میں جانوروں کے تحفظ کے نام پر انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگیں تو اس پر سنجیدہ مکالمہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔

بھارت کی ریاست گجرات کے ضلع گاندھی نگر کی ایک عدالت نے 26 اکتوبر 2026 کو تین مسلمان افراد، وسیم قریشی، محمد رفیق قریشی اور اشفاق کو گائے کے مبینہ غیر قانونی ذبیحے کے مقدمے میں عمر قید اور فی کس تین لاکھ بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ مقدمے کا تعلق 22 اگست 2024 کو گاؤں جملا میں پولیس کارروائی سے تھا، جہاں مبینہ طور پر 277 کلوگرام گوشت برآمد ہوا۔ مقدمے میں چھ افراد نامزد تھے، دو بری ہوئے اور ایک دورانِ مقدمہ فوت ہوگیا۔ یہ خبر انڈین ایکسپریس، ہندوستان ٹائمز اور انڈیا ٹوڈے سمیت متعدد ذرائع نے شائع کی۔

یہاں میرا سوال کسی جرم کی حمایت کرنا نہیں بلکہ قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کی نشاندہی کرنا ہے۔ اگر کسی نے واقعی قانون توڑا ہے تو اسے شفاف عدالتی کارروائی کے بعد سزا ملنی چاہیے، لیکن کیا ہر جرم کے لیے عمر قید ہی متناسب سزا ہے؟ کیا سزا کا تعین صرف کسی مذہبی طبقے کے جذبات یا جانور کی مذہبی اہمیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے؟ کیا عدالتوں میں مذہبی حوالوں کے ساتھ آئینی اصولوں، انسانی وقار اور سزا کی متناسب نوعیت کو بھی یکساں اہمیت نہیں ملنی چاہیے؟

قرآن مجید سورۂ بنی اسرائیل، آیت 70 میں واضح فرماتا ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ، یعنی ہم نے بنی آدم کو عزت و تکریم عطا کی۔ یہ عزت کسی مخصوص مذہب، نسل، قوم یا مسلک تک محدود نہیں بلکہ انسان ہونے کی بنیاد پر ہے۔ سورۂ نساء، آیت 135 اور سورۂ مائدہ، آیت 8 میں بھی انصاف پر قائم رہنے اور کسی قوم کی دشمنی میں ناانصافی نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مکتبِ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات بھی اسی انسانی احترام کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ نے نہج البلاغہ کے مکتوب نمبر 53 میں مالک اشتر کو مصر کا گورنر مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ رعایا کے ساتھ رحمت، محبت اور مہربانی کا برتاؤ کرنا، کیونکہ لوگ دو قسم کے ہیں: یا دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے انسان۔ یہ تعلیم کسی انسان کو مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر کمتر سمجھنے کی اجازت نہیں دیتی۔

بین الاقوامی قانون بھی اسی اصول کی حمایت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 1، 3، 5، 7 اور 10 انسانی وقار، زندگی، مساوات، غیر انسانی سلوک سے تحفظ اور منصفانہ سماعت کی ضمانت دیتے ہیں۔ بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کا آرٹیکل 14 منصفانہ ٹرائل اور آرٹیکل 26 مساوات اور عدم امتیاز کا اصول بیان کرتا ہے۔

بھارتی آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 21 بھی مساوات، مذہبی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت اور زندگی و شخصی آزادی کا تحفظ کرتے ہیں۔ دوسری طرف آرٹیکل 48 جانوروں کے تحفظ اور گائے کے ذبیحے کی ممانعت کے لیے ریاستی اقدامات کی رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن آرٹیکل 48 بنیادی حقوق کا متبادل نہیں۔ اس قانون کے نفاذ میں بھی بنیادی حقوق اور منصفانہ عدالتی کارروائی کا احترام لازم ہے۔

میرا مؤقف واضح ہے: جانوروں پر ظلم غلط ہے، ان کا تحفظ بھی ضروری ہے، لیکن کسی جانور کے تحفظ کو انسانی تذلیل، مذہبی تعصب، غیر متناسب سزا یا بنیادی حقوق کی پامالی کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ قانون کا مقصد انتقام نہیں، انصاف ہونا چاہیے۔

ریاستوں، عدالتوں اور قانون ساز اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی مذہب کے احترام کا مطلب دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی عزت مجروح کرنا نہیں۔ مذہبی جذبات کا احترام اپنی جگہ، مگر انسانی جان، آزادی، وقار اور منصفانہ انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہیں۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا قانون انسانوں کی حفاظت اور انصاف کے لیے بنایا جاتا ہے یا انسانوں کو کسی نظریے کے سامنے جھکانے کے لیے؟ جانوروں کا تحفظ بھی کیجیے، مذہبی آزادی بھی دیجیے، لیکن انسان کی عزت اور بنیادی حقوق کو کبھی قربان نہ کیجیے۔ یہی دین، آئین، انسانیت اور حقیقی انصاف کا تقاضا ہے۔