بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

انسانی تعلقات اور رویے، تحریر:پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

انسانی تعلقات کی دُنیا میں بعض جملے محض الفاظ نہیں ہوتے، وہ ہمارے رویّوں کے پس منظر میں چھپی ہوئی حقیقتوں کو بے نقاب کر دیتے ہیں۔ فرانسیسی ادیب وکٹر ہیوگو سے منسوب یہ قول بھی ایک ایسی ہی گہری معنویت رکھتا ہے:”مجھے یہ مت بتاؤ کہ لوگوں نے میرے بارے میں کیا کہا؛ مجھے یہ بتاؤ کہ انہیں تم سے یہ بات کہتے ہوئے اتنا اطمینان اور بے تکلفی کیوں محسوس ہوئی۔“

بظاہر یہ ایک سادہ سا جملہ ہے، لیکن اس کے اندر انسانی نفسیات، دوستی، اعتماد، کردار اور تعلقات کی پیچیدہ گرہیں پوشیدہ ہیں۔ یہ قول ہمیں دوسروں کی زبان سے نکلنے والے الفاظ سے زیادہ اپنے کردار، اپنے تعلقات اور اپنی حدود پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

جب کوئی شخص ہمارے بارے میں کوئی منفی بات کسی تیسرے فرد سے کرتا ہے اور وہ فرد آ کر ہمیں اس گفتگو سے آگاہ کرتا ہے تو ہمارا پہلا ردِعمل عموماً غصے، دُکھ یا حیرت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ہم فوراً یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کس نے کیا کہا، کیوں کہا اور کس بنیاد پر کہا۔ لیکن وکٹر ہیوگو سے منسوب یہ قول ہماری توجہ ایک مختلف سمت میں موڑتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ آخر وہ شخص تمہیں اپنا رازدار سمجھنے میں اتنا مطمئن کیوں تھا؟ کیا تمہاری خاموشی نے اسے حوصلہ دیا؟ کیا تمہارے رویّے نے اسے یہ یقین دلایا کہ تم اس گفتگو کو ناپسند نہیں کرو گے؟ یا تمہاری موجودگی میں دوسروں کی کردارکشی ایک معمول کی بات بن چکی ہے؟ یہ سوال اہم ہے، کیونکہ بعض اوقات کسی غلط گفتگو میں ہماری خاموش شرکت بھی دوسرے شخص کے اعتماد کو تقویت دیتی ہے۔

………………………………

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے کسی کی برائی میں حصہ نہیں لیا تو ہم بری الذمہ ہیں۔ لیکن انسانی تعلقات میں خاموشی کے معنی ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ کبھی خاموشی حکمت ہوتی ہے، کبھی مصلحت اور کبھی کسی غلط رویّے کی بالواسطہ حوصلہ افزائی۔

فرض کیجیے کہ دو افراد کسی تیسرے شخص کی غیر موجودگی میں اس کی خامیاں بیان کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک گفتگو کر رہا ہے اور دوسرا خاموشی سے سنتا جا رہا ہے۔ اگر سننے والا نہ اختلاف کرتا ہے، نہ موضوع بدلتا ہے اور نہ ہی گفتگو کی حدود متعین کرتا ہے تو بولنے والا یہ تاثر لے سکتا ہے کہ اس کی باتیں قابلِ قبول ہیں۔ یوں خاموشی، خواہ اس کا مقصد کچھ بھی ہو، ایک غلط فہمی کو جنم دے سکتی ہے۔ البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر خاموش شخص کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے۔ بعض حالات میں انسان کسی تنازع سے بچنے یا معاملے کو بگڑنے سے روکنے کے لیے خاموش رہتا ہے۔ اصل سوال خاموشی سے زیادہ اس رویّے کا ہے جو کسی شخص کو دوسروں کی عزت پامال کرنے کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔

………………………………

دوستی کا ایک بنیادی تقاضا اعتماد ہے، لیکن اعتماد کا مطلب یہ نہیں کہ کسی کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف ہر بات سن لی جائے۔ حقیقی دوست وہ نہیں جو آپ کے سامنے ہر شخص کی برائیاں بیان کرے، بلکہ وہ ہے جو آپ کو دوسروں کے بارے میں غیر منصفانہ رائے قائم کرنے سے روکے۔

اس کے برعکس، بعض تعلقات میں قربت کا اظہار دوسروں کے راز کھولنے، ان کی کمزوریاں بیان کرنے اور ان کی ذاتی زندگی پر تبصرے کرنے سے کیا جاتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ کسی تیسرے شخص کے بارے میں مشترکہ منفی رائے انہیں ایک دوسرے کے قریب کر دے گی۔ لیکن ایسی قربت کی بنیاد اعتماد نہیں، بلکہ کسی غیر موجود شخص کی تحقیر ہوتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی کے رویّے پر تنقید کرنا اور اس کی کردارکشی کرنا دو الگ باتیں ہیں۔ اگر کوئی شخص واقعی کسی زیادتی یا ناانصافی کی نشاندہی کرتا ہے تو اس گفتگو کو محض غیبت قرار دے کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ اصل معیار نیت، حقائق، ضرورت اور اندازِ بیان ہے۔

………………………………

کسی انسان کے کردار کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں ہوتا کہ وہ ہمارے سامنے ہمارے بارے میں کیا کہتا ہے، بلکہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں ہمارے سامنے کس طرح گفتگو کرتا ہے۔ جو شخص ہر ملاقات میں کسی غیر حاضر فرد کی تضحیک کرتا ہے، وہ کل کسی اور محفل میں ہمارے بارے میں بھی ایسا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ محض ایک امکان ہے، کوئی قطعی اصول نہیں؛ انسان کے رویّوں کو سمجھنے کے لیے مستقل مشاہدہ اور حالات کا جائزہ ضروری ہے۔

اسی طرح ہمیں اپنے آپ سے بھی سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم دوسروں کی نجی باتیں سننے میں غیر معمولی دلچسپی رکھتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی کمزوری جان کر اسے اپنی برتری کا ذریعہ بناتے ہیں؟ کیا ہم کسی کی غیر موجودگی میں اس کا دفاع کرنے کی اخلاقی جرأت رکھتے ہیں؟ یہ سوالات دوسروں کو پرکھنے سے پہلے خود اپنا احتساب کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

………………………………

وکٹر ہیوگو سے منسوب اس قول کا اصل پیغام محض یہ نہیں کہ کسی کی بات سن کر فوراً ناراض نہ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ انسانی تعلقات کو سطحی ردِعمل سے آگے بڑھ کر سمجھنے کی کوشش کریں۔ کسی نے ہمارے بارے میں کیا کہا، یہ یقیناً اہم ہو سکتا ہے؛ لیکن اس سے بھی اہم یہ جاننا ہے کہ گفتگو کا پس منظر کیا تھا، سننے والے کا کردار کیا تھا اور کیا ہمیں پوری بات معلوم بھی ہے یا نہیں۔

ہر سنی سنائی بات کو حقیقت سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔ اسی طرح ہر بات پہنچانے والے کو غدار قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ کبھی کوئی شخص خیرخواہی میں آگاہ کرتا ہے اور کبھی اپنی ذاتی رنجش، غلط فہمی یا کسی دوسرے مقصد کے تحت بات کو ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ شاید بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم نہ ہر بات پر یقین کریں، نہ ہر خبر لانے والے کو مجرم سمجھیں، بلکہ حقائق کو پرکھیں، اپنے تعلقات کا جائزہ لیں اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔

آخرکار، دوسروں کی زبان پر ہمارا اختیار نہیں، لیکن اپنی زبان، اپنے ردِعمل اور اپنے طرزِ عمل پر ہم کسی حد تک اختیار ضرور رکھتے ہیں۔ یہی اختیار ہمیں محض باتیں سننے والا انسان نہیں، بلکہ اپنے کردار کا ذمہ دار انسان بناتا ہے۔