بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سکون کی تلاش میں بے سکون انسان،تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

کتنی عجیب بات ہے کہ انسان آج بھی اسی زمین پر سکون تلاش کر رہا ہے جہاں حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے اتارا گیا تھا۔ وہ جنت جس میں نہ بھوک کا خوف تھا نہ پیاس کی شدت، نہ موسموں کی سختی اور نہ زندگی کی وہ الجھنیں جنہوں نے آج کے انسان کو اندر سے تھکا دیا ہے۔ آدم علیہ السلام کا زمین پر آنا ایک عظیم حکمت الٰہی اور انسانی زندگی کے امتحان کا آغاز تھا۔ مگر انسان نے اس امتحان گاہ کو ہی اپنی آخری منزل سمجھ لیا۔ وہ یہاں جنت جیسا سکون چاہتا ہے حالانکہ یہ دنیا ہمیشہ کی راحت کے لیے بنائی ہی نہیں گئی۔

ہم نے زندگی کو عجیب دوڑ میں تبدیل کر دیا ہے۔ بچپن اچھے مستقبل کی فکر میں گزرتا ہے، جوانی مستقبل بنانے میں اور بڑھاپا گزرے ہوئے وقت کو یاد کرنے میں۔ انسان سوچتا ہے کہ اچھی ملازمت مل جائے تو سکون آ جائے گا، اپنا گھر بن جائے تو پریشانیاں ختم ہو جائیں گی، دولت جمع ہو جائے تو دل مطمئن ہو جائے گا۔ مگر حیرت یہ ہے کہ ہر خواہش پوری ہونے کے بعد ایک نئی خواہش جنم لے لیتی ہے۔ جس گھر کے لیے برسوں محنت کی جاتی ہے اسی گھر میں کبھی دل گھبرانے لگتا ہے۔ جس دولت کو حاصل کرنے کے لیے راتوں کی نیند قربان کی جاتی ہے وہی دولت بعض اوقات نیند کی دشمن بن جاتی ہے۔

اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ دنیا میں سکون موجود نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم نے سکون کا مطلب ہی غلط سمجھ لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پریشانیوں کا ختم ہو جانا سکون ہے حالانکہ زندگی میں مسائل کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ کبھی رشتوں کی آزمائش، کبھی معاشی تنگی، کبھی بیماری اور کبھی کسی عزیز کی جدائی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ یہاں کوئی خوشی مستقل نہیں۔ مگر ہم ہر مرتبہ اس حقیقت کو بھول کر کسی نئی خوشی کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔

ذرا غور کیجیے! جس انسان کے پاس رہنے کو چھت نہیں وہ گھر کی خواہش کرتا ہے اور جس کے پاس عالی شان گھر ہے وہ اس کے اندر محبت اور اپنائیت ڈھونڈتا ہے۔ غریب دولت مند ہونا چاہتا ہے اور دولت مند بعض اوقات ایک بے فکر رات کی نیند کو ترستا ہے۔ کوئی شہرت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتا ہے اور کوئی شہرت حاصل کرنے کے بعد تنہائی کی خواہش کرتا ہے۔ گویا انسان جس چیز کو سکون سمجھ کر حاصل کرتا ہے کچھ عرصے بعد اسی سے آگے کسی اور منزل کی تلاش شروع کر دیتا ہے۔

آج کے دور میں تو سکون بھی ایک کاروبار بن چکا ہے۔ کہیں ذہنی اطمینان کے نام پر مہنگے کورس فروخت ہو رہے ہیں، کہیں خوش رہنے کے نسخے بتائے جا رہے ہیں اور کہیں پرسکون زندگی کے لیے خوب صورت مقامات کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ انسان پہاڑوں کی خاموشی میں جاتا ہے، سمندر کے کنارے بیٹھتا ہے، باغوں میں چہل قدمی کرتا ہے مگر اپنے اندر کا شور ساتھ لے جانا نہیں بھولتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ منظر بدلنے سے کیفیت بدل جائے گی۔ کچھ دیر کے لیے ایسا ہوتا بھی ہے لیکن جیسے ہی وہ واپس اپنی معمول کی زندگی میں آتا ہے وہی بے چینی اس کا استقبال کرتی ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا آزمائش کی جگہ ہے تو کیا انسان کو یہاں خوش رہنے کا حق نہیں؟ یقیناً ہے۔ اسلام ہمیں دنیا سے بے زاری یا زندگی کی نعمتوں سے فرار کا درس نہیں دیتا۔ قرآن مجید میں دنیا کے حصے کو نہ بھولنے کی تلقین بھی موجود ہے۔ مسئلہ دنیا میں رہنے یا اس کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا نہیں بلکہ دنیا کو سب کچھ سمجھ لینے کا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم نعمتوں کو اپنی خوشی کا ذریعہ بنائیں یا انہیں اپنی زندگی کا مقصد بنا بیٹھیں۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے “خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں” (سورۃ الرعد، آیت 28)۔ اس آیت میں انسان کی اس بے چینی کا جواب موجود ہے جسے وہ برسوں سے دنیا کی مختلف چیزوں میں تلاش کرتا پھر رہا ہے۔ لیکن ذکر الٰہی محض زبان سے چند الفاظ ادا کرنے تک محدود نہیں۔ جب انسان اپنے معاملات میں دیانت اختیار کرتا ہے، کسی کا حق نہیں مارتا، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے اور اپنی خواہشات کو اعتدال میں رکھتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسا اطمینان پیدا ہو سکتا ہے جو مادی آسائشوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

ہماری ایک بڑی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنی خوشیوں کو دوسروں کی زندگیوں سے مشروط کر لیا ہے۔ کسی کا بڑا گھر دیکھ کر اپنا گھر چھوٹا لگنے لگتا ہے۔ کسی کی کامیابی دیکھ کر اپنی محنت بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ کسی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس کی زندگی میں کوئی دکھ نہیں۔ حالانکہ ہر انسان اپنے حصے کی کوئی نہ کوئی خاموش جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنے زخم دکھا دیتے ہیں اور کچھ مسکرا کر چھپا لیتے ہیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ ہمیں صرف زمین پر آمد کی خبر نہیں دیتا بلکہ انسانی زندگی کی ایک بنیادی حقیقت بھی سمجھاتا ہے۔ انسان سے لغزش ہو سکتی ہے، وہ اپنی کمزوریوں کے ہاتھوں مغلوب ہو سکتا ہے مگر اس کے لیے توبہ اور رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔ آدم علیہ السلام نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ یہ واقعہ مایوسی کا نہیں بلکہ امید اور رحمت کا پیغام بھی ہے۔ زمین پر زندگی محض سزا کی داستان نہیں بلکہ ذمہ داری، آزمائش اور ہدایت کے ساتھ جینے کا سفر ہے۔

شاید ہمیں اپنی زندگی کا حساب بھی نئے سرے سے کرنا چاہیے۔ ہم نے کتنے گھر بنائے، کتنی دولت جمع کی، کتنے لوگوں کو متاثر کیا، یہ سب اپنی جگہ اہم ہو سکتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے کتنے دلوں کو سکون دیا؟ کتنے پریشان چہروں پر مسکراہٹ بکھیری؟ کتنی مرتبہ اپنی انا کو کسی رشتے کی خاطر پیچھے رکھا؟ اور کتنی بار کسی بے بس انسان کا ہاتھ تھاما؟

سکون ہمیشہ حاصل کرنے میں نہیں ہوتا، کبھی کچھ چھوڑ دینے میں بھی ہوتا ہے۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر بحث جیتنا کامیابی نہیں اور ہر خواہش پوری ہونا خوش قسمتی نہیں۔ بعض اوقات معاف کر دینا، خاموش رہنا، قناعت اختیار کرنا اور اپنے حصے کی زندگی پر شکر ادا کرنا انسان کو وہ راحت دے دیتا ہے جو برسوں کی دوڑ بھی نہیں دے پاتی۔

انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ عارضی دنیا سے مستقل اطمینان کا وعدہ چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ یہاں نہ کوئی بچھڑے، نہ کوئی خواہش ادھوری رہے، نہ وقت بدلے اور نہ خوشیوں کو زوال آئے۔ مگر دنیا کا نظام ہی تبدیلی پر قائم ہے۔ یہاں صبح کے بعد شام ہے، بہار کے بعد خزاں اور وصال کے ساتھ جدائی کا امکان بھی۔ شاید اسی لیے آخرت کی دائمی زندگی کا تصور انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کی تمام آرزوؤں کی آخری منزل یہ فانی دنیا نہیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس زمین کو اپنی مستقل رہائش سمجھ کر اس کی آرائش میں عمر گزار دی مگر اپنے باطن کی ویرانی پر کبھی توجہ نہ دی۔ ہم نے مکانوں کو خوب صورت بنایا، دلوں کو نہیں۔ ہم نے آسائشیں بڑھائیں، برداشت کم کر دی۔ ہم نے رابطوں کے ذرائع ایجاد کیے مگر رشتوں کے درمیان فاصلے بڑھا لیے۔

کتنا عجیب ہے یہ انسان بھی! جس زمین پر حضرت آدم علیہ السلام کی آزمائش کا سفر شروع ہوا اسی زمین کو وہ اپنی تمام بے چینیوں کا آخری علاج سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ سکون کی اصل جستجو دنیا سے بھاگنے میں نہیں بلکہ اپنے رب سے تعلق جوڑ کر دنیا میں درست طریقے سے جینے میں ہے۔

شاید انسان کو اس دن حقیقی اطمینان کا راستہ مل جائے جب وہ دنیا سے جنت ہونے کی توقع چھوڑ دے اور اپنے کردار سے اسے دوسروں کے لیے قدرے بہتر جگہ بنانے کی کوشش شروع کر دے۔ کیونکہ دنیا جنت نہیں مگر یہاں کسی کے لیے رحمت، محبت اور آسانی کا سبب بننا یقیناً ہمارے اختیار میں ہے۔