پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے آئی کارس میں معاہدہ

پاکستان اور ڈنمارک کے معروف ادارے ’آئی کارس‘ (ICARS) کے درمیان پولٹری کے شعبے میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت (AMR) کی روک تھام کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔
اس سلسلے میں منعقدہ دستخط کی ورچوئل تقریب میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان میں اینٹی بائیوٹکس کے محفوظ متبادل طریقوں پر ایک جامع تین سالہ تحقیقی منصوبہ شروع کیا جائے گا، جس کے لیے آئی کارس تنظیم کی جانب سے 5 لاکھ 40 ہزار 855 امریکی ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اینٹی مائیکروبیل مزاحمت انسانوں اور حیوانوں کی صحت کے ساتھ ساتھ قومی غذائی تحفظ کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے، اس لیے پولٹری اور لائیو سٹاک کے شعبے میں اینٹی بائیوٹکس کا ذمہ دارانہ استعمال وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اس کی روک تھام کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی اقدامات ناگزیر ہیں۔
رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس سائنسی تحقیق کے مثبت نتائج کا براہ راست فائدہ چھوٹے کسانوں اور پولٹری فارمرز تک پہنچنا چاہیے، کیونکہ پاکستان میں غذائی تحفظ اور لائیو سٹاک کی پائیدار ترقی کے لیے بین الاقوامی سطح پر تحقیقی تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے اس اہم مسئلے کے تدارک کے لیے تعاون فراہم کرنے پر ڈینش حکومت اور آئی کارس کا شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت ملک کے 30 پولٹری فارمز پر اینٹی بائیوٹکس کے مؤثر متبادل کے طور پر نامیاتی تیزابوں (Organic Acids) کی افادیت کا بغور جائزہ لیا جائے گا، جبکہ اس پورے پروجیکٹ کا بنیادی ہدف پولٹری کی صحت اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کیے بغیر اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کم از کم 20 فیصد تک کمی لانا ہے۔
مزید پڑھیں



