بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرٹ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے،تحریر: نوشین تاج

نقطہ نظر

تعلیم کسی بھی معاشرے کی فکری، سماجی اور اخلاقی ترقی کی بنیاد ہے، جبکہ استاد اس بنیاد کا معمار ہوتا ہے۔ لیکن جب اسی شعبۂ تعلیم میں ایک استاد کی برسوں کی خدمات، تجربے اور سینیارٹی کو نظر انداز کرکے اس سے جونیئر استاد کو ترقی دے دی جائے تو یہ محض ایک محکمانہ معاملہ نہیں رہتا، بلکہ نظامِ انصاف، میرٹ اور شفافیت پر ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔

آخر وہ استاد کہاں جائے جس نے اپنی زندگی کے قیمتی سال محکمۂ تعلیم کے نام کر دیے، مگر جب اس کے جائز حق کی باری آئی تو اسے نظر انداز کر دیا گیا؟

یہ سوال آج ان اساتذہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے جو اپنی طویل سروس، تجربے اور محکمانہ قواعد کے تحت ترقی کے منتظر ہیں، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر ان کے معاملات التوا کا شکار رہتے ہیں یا انہیں ترقی کے عمل میں نظر انداز کیے جانے کی شکایت ہوتی ہے۔

برسوں کی خدمت، مگر ترقی میں محرومی!

ایک سینئر استاد محض ملازمت کی مدت کا نام نہیں ہوتا۔ اس کے پیچھے برسوں کی محنت، تدریسی تجربہ، ادارے سے وابستگی اور نسلوں کی تربیت کی ایک طویل داستان ہوتی ہے۔ اس نے نامساعد حالات میں فرائض انجام دیے، تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھا اور اپنی ذمہ داریوں سے حتی الامکان غفلت نہیں برتی۔

لیکن جب ترقیوں کی فہرست جاری ہوتی ہے اور اس سے جونیئر استاد کو ترقی مل جاتی ہے، جبکہ سینئر استاد کا نام فہرست میں شامل نہیں ہوتا، تو اس کے ذہن میں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ کیا اس کی سینیارٹی درست طور پر شمار کی گئی؟ کیا اس کی سروس کا مکمل ریکارڈ پیشِ نظر رکھا گیا؟ کیا محکمانہ قواعد کے مطابق اس کے کیس کا جائزہ لیا گیا؟ اور اگر اسے ترقی کے لیے نااہل سمجھا گیا تو کیا اس کی وجوہات تحریری طور پر بتائی گئیں؟

یہ سوالات محض جذباتی ردِعمل نہیں، بلکہ ایک شفاف اور جواب دہ انتظامی نظام کے بنیادی تقاضے ہیں۔

کیا سینیارٹی کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی؟

کسی بھی منظم سرکاری محکمے میں ترقی کا عمل واضح قواعد و ضوابط کے تابع ہونا چاہیے۔ سینیارٹی، مطلوبہ اہلیت، سروس ریکارڈ، کارکردگی اور دیگر مقررہ شرائط کو متعلقہ قوانین کے مطابق مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔

یہ درست ہے کہ ہر صورت میں سینیئر ہونا خودبخود ترقی کا غیر مشروط حق نہیں بناتا۔ بعض ترقیوں میں اہلیت، میرٹ، سروس ریکارڈ یا دیگر قانونی شرائط بھی فیصلہ کن ہوتی ہیں۔ تاہم اگر کوئی سینئر استاد تمام مطلوبہ شرائط پوری کرتا ہو اور اس کے باوجود اسے بغیر کسی جائز وجہ کے نظر انداز کرکے جونیئر کو ترقی دے دی جائے تو اس معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ ناگزیر ہو جاتی ہے۔

اصل مسئلہ جونیئر استاد کی ترقی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سینئر استاد کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ قواعد، میرٹ اور انصاف کے مطابق کیا گیا؟

اگر فیصلہ درست ہے تو متعلقہ حکام کو اس کی وضاحت کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے، اور اگر محکمانہ غلطی ہوئی ہے تو اس کی اصلاح میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

استاد کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے

ہمارے تعلیمی نظام کا ایک تلخ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض اساتذہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ کوئی افسران کے سامنے بات کرنے سے ہچکچاتا ہے، کوئی محکمانہ کارروائی کے خدشے میں مبتلا رہتا ہے اور کوئی یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا ہے کہ شاید اگلی مرتبہ اس کے ساتھ انصاف ہو جائے۔

لیکن اس خاموشی کی قیمت اسے ذہنی اذیت، مایوسی اور مسلسل غیر یقینی صورتِ حال کی شکل میں ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایک ایسا استاد جس نے پوری زندگی طلبہ کو اپنے حقوق، فرائض اور انصاف کی اہمیت سمجھائی ہو، اگر اسے اپنے ہی محکمے میں اپنے جائز حق کے لیے دربدر ہونا پڑے تو یہ صورتِ حال یقیناً قابلِ غور ہے۔

استاد کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کرنے کے بجائے ایسا نظام قائم ہونا چاہیے جہاں اس کے معاملات بروقت، شفاف اور منصفانہ انداز میں نمٹائے جائیں۔


محکمۂ تعلیم سے چند اہم سوالات

اگر کسی ترقیاتی عمل میں سینئر استاد کو نظر انداز کیے جانے کی شکایت سامنے آتی ہے تو متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔

اس ضمن میں چند سوالات کے جواب ضروری ہیں:

کیا متعلقہ اساتذہ کی سینیارٹی لسٹ درست اور تازہ ترین ہے؟

کیا ترقی کے لیے مقررہ شرائط تمام امیدواروں پر یکساں طور پر لاگو کی گئی ہیں؟

کیا نظر انداز کیے گئے سینئر استاد کے سروس ریکارڈ اور اہلیت کا مکمل جائزہ لیا گیا؟

کیا ترقی کے فیصلے کی وجوہات واضح اور قابلِ جانچ ہیں؟

کیا متاثرہ استاد کو اعتراض، اپیل یا نظرثانی کا مؤثر موقع فراہم کیا گیا ہے؟

ان سوالات کا مقصد کسی فرد یا افسر کو بلا ثبوت موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرکاری ملازمین کے مستقبل سے متعلق فیصلے قانون اور ضابطے کے مطابق ہوں۔

اصلاح کا راستہ کیا ہے؟

محکمۂ تعلیم کو چاہیے کہ ترقیوں کے تمام معاملات میں شفافیت کو یقینی بنائے۔ سینیارٹی لسٹوں کی بروقت اشاعت، سروس ریکارڈ کی درستگی، ترقی کے معیار کی واضح تشریح اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

اگر کسی استاد کی ترقی محکمانہ کوتاہی، غلط سینیارٹی یا ریکارڈ کی غلطی کے باعث متاثر ہوئی ہو تو متعلقہ قواعد کے تحت اس معاملے کی نظرثانی کی جائے اور جہاں حق تلفی ثابت ہو، وہاں مناسب ازالہ کیا جائے۔

اسی طرح اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر اپنے ارکان کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ کسی ایک استاد کا مسئلہ اگر اصولی نوعیت رکھتا ہے تو اسے ذاتی شکایت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

انصاف ہوگا تو نظام مضبوط ہوگا

کسی بھی محکمے کی کامیابی صرف عمارتوں، اعداد و شمار اور انتظامی احکامات سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی پرکھی جاتی ہے کہ وہاں کام کرنے والے افراد کو کتنا انصاف ملتا ہے۔

اگر محنت کرنے والے ملازمین کو یہ یقین ہو کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا، ان کی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ لیا جائے گا اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہوگا تو ان کا اعتماد اور ادارے سے وابستگی مضبوط ہوگی۔

اس کے برعکس، اگر ترقیوں کے معاملات میں شفافیت کا فقدان ہو اور جائز شکایات کا بروقت ازالہ نہ کیا جائے تو اس سے نہ صرف متاثرہ ملازم کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

محکمۂ تعلیم کے اربابِ اختیار کو یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ استاد کا وقار صرف تقریبات میں خراجِ تحسین پیش کرنے سے بلند نہیں ہوتا، بلکہ اس کے عملی حقوق کا تحفظ بھی اسی احترام کا حصہ ہے۔اب فیصلہ متعلقہ حکام نے کرنا ہے_

سینئر استاد کی حق تلفی اور جونیئر استاد کی ترقی سے متعلق ہر معاملے کو جذبات یا قیاس آرائی کے بجائے ریکارڈ، قواعد اور میرٹ کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر ترقی درست قواعد کے مطابق ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جائے، لیکن اگر کسی اہل سینئر استاد کو بلاجواز نظر انداز کیا گیا ہے تو اس کی شکایت کا منصفانہ فیصلہ کیا جائے۔

سوال صرف ایک ترقی کا نہیں، اعتماد کا ہے۔ سوال صرف ایک استاد کا نہیں، اس اصول کا ہے کہ کیا سرکاری محکموں میں ہر اہل ملازم کو اس کا جائز حق ملتا ہے؟

محکمۂ تعلیم کے متعلقہ حکام سے توقع ہے کہ وہ اساتذہ کی سینیارٹی، ترقی اور محکمانہ حقوق سے متعلق شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جن سے آئندہ کسی اہل استاد کو اپنے جائز حق کے حصول کے لیے طویل اور غیر ضروری جدوجہد نہ کرنا پڑے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ استاد کو رعایت نہیں، انصاف چاہیے؛ احسان نہیں، قانون کے مطابق اپنا حق چاہیے۔ کیونکہ جس معاشرے میں استاد کے وقار اور حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے، وہی معاشرہ علم، انصاف اور ترقی کی حقیقی منزل کی طرف بڑھتا ہے۔