بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

روزگار، حقوق اور ریاست کی ذمہ داری ،تحریر: سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

پاکستان میں ملازمت محض ماہانہ تنخواہ حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کسی فرد کے معاشی تحفظ، خاندانی کفالت، سماجی وقار اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں سرکاری ملازمت کو عموماً مستقل آمدن اور نسبتاً محفوظ مستقبل کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ نجی شعبے کو ترقی، کاروباری وسعت اور پیشہ ورانہ مواقع کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کون سا شعبہ ہر لحاظ سے بہتر ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہر شعبے میں ملازمین کے حقوق، ذمہ داریوں اور ترقی کے مواقع کس حد تک محفوظ ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.1 فیصد، افرادی قوت میں شرکت کی شرح 46.3 فیصد اور اوسط ماہانہ اجرت 39,042 روپے رپورٹ ہوئی۔ اسی سروے کے مطابق تقریباً 83.1 ملین افراد افرادی قوت میں شامل تھے، جبکہ بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً 5.9 ملین تھی۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ روزگار کی فراہمی، بہتر اجرت اور معاشی تحفظ قومی پالیسی کے اہم موضوعات ہیں۔ تاہم قومی اوسط کو ہر ملازم یا ہر شعبے کی حقیقی تنخواہ سمجھنا درست نہیں۔ (ماخذ: پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس، لیبر فورس سروے 2024-25؛ پاکستان اکنامک سروے 2025-26)

آئینِ پاکستان شہریوں کو جائز پیشہ اور کاروبار اختیار کرنے کا حق دیتا ہے۔ آرٹیکل 18 اس حق کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 قانون کے سامنے مساوات اور مساوی قانونی تحفظ کی ضمانت بیان کرتا ہے۔ آرٹیکل 27 سرکاری خدمات میں مخصوص بنیادوں پر امتیاز کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے، البتہ اس کا اطلاق اور اس میں موجود قانونی استثنا متعلقہ آئینی متن کے مطابق سمجھے جانے چاہییں۔ اس لیے میرٹ، شفاف تقرری اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی سرکاری بھرتیوں کے بنیادی تقاضے ہیں۔ محض کسی عہدے کے لیے درخواست دینے سے تقرری کا خودکار حق پیدا نہیں ہوتا۔

سرکاری ملازمت میں بھرتی، سروس کی شرائط، ترقی، تبادلے، تادیبی کارروائی اور پنشن یا دیگر مراعات کا معاملہ متعلقہ سروس قوانین، قواعد، تقرری کے خط اور قابلِ اطلاق پالیسی کے مطابق طے ہوتا ہے۔ وفاقی ملازمین اور صوبائی ملازمین کے قواعد یکساں ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح ہر سرکاری ملازمت مستقل نہیں ہوتی؛ بعض تقرریاں معاہدے، منصوبے یا مخصوص مدت کے لیے بھی کی جاتی ہیں۔ لہٰذا ملازمت کے تحفظ اور مراعات کا جائزہ اصل تقرری کی شرائط دیکھ کر لینا چاہیے۔

نیم سرکاری اداروں، سرکاری ملکیتی کمپنیوں، خودمختار اداروں اور قانونی کارپوریشنوں کو بھی ایک ہی قانونی زمرہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان میں کسی ادارے پر سرکاری ملازمین کے قواعد، کسی پر خصوصی قانون، اور کسی پر کمپنی کے ملازمتی ضوابط لاگو ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صرف ادارے کے سرکاری ملکیت میں ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہاں کام کرنے والا ہر شخص لازماً سول سرونٹ ہے یا اسے سرکاری ملازم جیسی تمام مراعات حاصل ہیں۔

نجی شعبہ پاکستان کی معیشت، صنعت، تجارت، خدمات، ٹیکنالوجی اور کاروباری سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہاں کارکردگی، مہارت، تجربے اور پیداواریت کی بنیاد پر ترقی کے مواقع میسر آ سکتے ہیں، لیکن ملازمین کے لیے تحریری تقرری نامہ، واضح تنخواہ، کام کے اوقات، رخصت، محفوظ ماحول اور ملازمت ختم کرنے کے منصفانہ طریقۂ کار کی اہمیت بھی کم نہیں۔ نجی ملازمت میں ہر فرد کے حقوق کا تعین متعلقہ صوبے یا علاقے کے قابلِ اطلاق محنت قوانین، ادارے کی نوعیت اور ملازمت کی شرائط کے مطابق ہوگا۔

پاکستان میں فیکٹریوں، دکانوں، تجارتی اداروں، اجرت کی ادائیگی، صنعتی تعلقات اور کارکنوں کے تحفظ سے متعلق مختلف قوانین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر فیکٹریز ایکٹ 1934، پیمنٹ آف ویجز ایکٹ 1936 اور صنعتی تعلقات کے متعلق قابلِ اطلاق قانون متعلقہ دائرۂ اختیار میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی محنت قوانین کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ چنانچہ کم از کم اجرت، اوقاتِ کار، اوورٹائم، سوشل سکیورٹی، اولڈ ایج بینیفٹس اور دیگر حقوق کے بارے میں دعویٰ کرتے وقت متعلقہ صوبے، ادارے اور ملازم کی قانونی حیثیت کی تصدیق ضروری ہے۔

آئین کے آرٹیکل 37 میں ریاست کے لیے منصفانہ اور انسانی کام کے حالات کو فروغ دینے اور روزگار میں شرکت کے مواقع بڑھانے سے متعلق اصولِ پالیسی بیان کیے گئے ہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں حکومت، آجر اور ملازمین سب کی ذمہ داری ہے کہ روزگار کے نظام کو زیادہ منصفانہ، شفاف اور پیداواری بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ حکومت کو فنی تعلیم، ہنرمندی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پر توجہ دینی چاہیے؛ آجروں کو قابلِ اطلاق قوانین کی پابندی کرنی چاہیے؛ جبکہ ملازمین کو بھی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ادا کرنی چاہییں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ملازمت کو محض سرکاری یا نجی ہونے کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قانونی تحفظ، مناسب اجرت، ترقی کے امکانات، کام کے ماحول اور معاشی استحکام کے پیمانوں پر دیکھا جائے۔ باعزت روزگار وہ ہے جس میں ملازم کی محنت کا منصفانہ معاوضہ ملے، آجر کو قابلِ اعتماد اور تربیت یافتہ افرادی قوت میسر ہو، اور ریاست قانون کی مؤثر عمل داری یقینی بنائے۔ یہی طرزِ عمل ایک ایسے معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے جہاں روزگار صرف گزر بسر نہیں بلکہ عزت، خودمختاری اور قومی ترقی کا ذریعہ بھی ہو۔