پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب، ترکی اور ایران کا ایک ساتھ بیٹھنا خوش آئند ہے۔سیف اللہ قصوری

مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب، ترکی اور ایران کا ایک ساتھ بیٹھنا خوش آئند ہے۔ مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے باہمی اتحاد، اتفاق اور مشترکہ حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حرمین شریفین پر حملہ آور حوثی کسی رعایت کے مستحق نہیں، مقدس مقامات کا تحفظ اور عالم اسلام کے امن و استحکام کو یقینی بنانا تمام مسلم ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے استحکام پاکستان اور سیرت النبی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم ،احمد ندیم اعوان سمیت دیگرذمہ داران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔سیف اللہ قصوری نے کہا کہ پاکستان عالم اسلام کا اہم ملک ہے اور مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کے خاتمے، باہمی تعاون کے فروغ اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کا مثبت کردار قابلِ توجہ ہے۔ مسلم امہ کو اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے اختلافات سے بالاتر ہوکر متحد ہونا ہوگا۔ اتحاد کی قوت سے ہی بیرونی چیلنجز کا مقابلہ اور امت مسلمہ کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ مہنگائی، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کے بڑھتے اخراجات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ، مزدور، تاجر اور متوسط و غریب خاندان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں، جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔سیف اللہ قصوری نے کہا کہ عوام کو محض وعدوں کے بجائے عملی ریلیف کی ضرورت ہے۔ حکومت مہنگائی پر قابو پانے، بجلی اور گیس کے نرخوں میں عوام کو سہولت دینے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ معاشی پالیسیوں میں عام آدمی کی مشکلات کو ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔سیف اللہ قصوری کامزید کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا محور عوامی خدمت، قومی خودمختاری، معاشی استحکام اور اسلامی اقدار کا تحفظ ہے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ قومی مفادات کو مقدم رکھا جائے، ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ قومی اتحاد اور عوامی اعتماد ہی ملک کو موجودہ مشکلات سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔




