اگر کبھی زندگی کی بےترتیب الجھنوں سے فرصت ملی، تو میں خود کو لکھوں گی۔
وہ راتیں لکھوں گی جو جاگتی آنکھوں کے مقتل میں اتریں، وہ شبیں جن کی سیاہی آنسوؤں میں گھلتی رہی، وہ سسکیاں جو تکیے کی تہوں میں دفن ہوئیں اور وہ شور جو میرے اندر برپا رہا، مگر میری آواز کی دہلیز تک نہ آ سکا۔
میں لکھنا چاہوں گی اُن طوفانوں کو بھی جو میرے وجود کے سمندر میں اٹھے، جن کی لہروں نے میرے سکون کے کتنے ہی ساحل نگل لیے، مگر شاید میں اُن کی شدت کو لفظوں کے سپرد نہیں کر پاؤں گی۔
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنا، دوبارہ اُن سے گزرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ کچھ تکلیفیں کاغذ پر اترتے ہی اپنے اصل چہرے دکھانے لگتی ہیں، اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جن پر لفظ رکھ دیے جائیں تو وہ اور بھی رسنے لگتے ہیں۔
میں وہ تمام وجوہات لکھنا چاہوں گی جنہوں نے مجھے اندر سے بدل دیا، وہ رویّے جنہوں نے میری خوش گمانیوں کے چراغ بجھائے، وہ لوگ جن کے سامنے میں مسکراتی رہی اور جن کے بعد تنہائی میں اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹتی رہی۔
مگر میں اُن کے نام نہیں لکھ پاؤں گی۔
کچھ نام میرے رشتوں کی پیشانی پر درج ہیں، کچھ میرے احترام کے دائرے میں محفوظ ہیں، کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں دنیا معزز کہتی ہے۔ میں اپنے دکھ کی گواہی دیتے ہوئے اُن کی عزت کے ملبے پر اپنا سچ تعمیر نہیں کر سکوں گی۔
میں نہیں چاہوں گی کہ میری تحریر کسی کی رسوائی کا عنوان بنے۔ میں اپنے زخموں کو زبان تو دینا چاہوں گی، مگر کسی کی خلوت کو سرِ بازار نہیں رکھ سکوں گی۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں میرا قلم میرے احساسات کا ساتھ دیتے دیتے ٹھہر جائے گا، جہاں سچ لکھنے کی خواہش اور کسی کی حرمت بچانے کی تربیت ایک دوسرے کے سامنے آ کھڑی ہوں گی۔
سو، شاید میں بہت کچھ لکھنے کے باوجود اصل بات نہیں لکھ پاؤں گی۔
کبھی فرصت ملی تو قلم اٹھاؤں گی، اپنے اندر کے ویران کمرے سے گزرتی ہوئی قرطاس تک آؤں گی، اور چاہوں گی کہ وہ سب کچھ لکھ دوں جسے برسوں سے اپنے وجود میں اٹھائے پھر رہی ہوں۔
مگر عجب المیہ ہے کہ بعض اوقات انسان کے پاس کہنے کو پوری ایک داستان ہوتی ہے، اور لکھنے کے لیے صرف خاموشی بچتی ہے۔
میں لکھوں گی بھی تو استعاروں میں، دکھوں کو موسموں کے نام دوں گی، لوگوں کو کرداروں میں بدل دوں گی، اور واقعات پر تخیل کی چادر ڈال دوں گی۔
شاید کوئی میری تحریر پڑھ کر میرے درد کی آہٹ پہچان لے، شاید کوئی میرے لفظوں کے درمیان چھپی ہوئی کسی سسکی تک پہنچ جائے۔ شاید کوئی جان لے کہ ہر مسکراہٹ آسودگی کی علامت نہیں ہوتی، اور ہر خاموش انسان کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہ ہونے کی وجہ بھی نہیں ہوتی۔
میں اپنے احساسات کو قرطاس پر اتار سکتی ہوں، مگر ہر احساس کے ساتھ کسی کا نام منسلک نہیں کر سکتی۔
اور اگر کبھی زندگی کی الجھنوں سے واقعی فرصت ملی، تو میں خود کو لکھنے بیٹھوں گی۔
شائد کئی صفحات بھر دوں، شائد ایک پوری کتاب لکھ ڈالوں، مگر جب آخری صفحے پر پہنچوں گی تو محسوس ہوگا کہ جو کچھ سب سے زیادہ لکھنا چاہتی تھی، وہی اَن لکھا رہ گیا۔
اور تب میں قلم رکھ کر صرف اتنا کہوں گی:
میری زندگی میں بہت کچھ ایسا تھا جسے لکھا جا سکتا تھا؛ مگر کچھ رشتوں کا احترام، کچھ ناموں کی حرمت اور کچھ دکھوں کی اذیت ایسی تھی کہ میں چاہ کر بھی انہیں لفظ نہیں دے پائی۔
میں بہت کچھ لکھ سکتی تھی۔۔۔
مگر میں نہیں لکھ پاؤں گی۔





