باغی رائیٹرز فورم کی رکن عائشہ گُل کی مرتب کردہ مشترکہ کتاب ’’نقابِ نور‘‘ شائع

باغی رائیٹرز فورم کی رکن،معروف لکھاری عائشہ گُل کی دوسری کتاب اور پہلی مشترکہ انتھولوجی ’’نقابِ نور‘‘ شائع ہو گئی۔ کتاب میں پورے پاکستان سے تعلق رکھنے والے 75 باصلاحیت قلم کاروں کی تحریریں شامل ہیں۔ 292 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 1200 روپے مقرر کی گئی ہے۔
عائشہ گُل کے مطابق ’’نقابِ نور‘‘ ان کے لیے محض ایک کتاب نہیں بلکہ قلم کاروں کے اعتماد، خوابوں اور تخلیقی صلاحیتوں کی عکاس ہے۔ ان کی پہلی کتاب ’’جینا سیکھیں‘‘ کی اشاعت کے بعد یہ ان کے ادبی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جس کے ذریعے انہیں ملک بھر کے قلم کاروں کی تحریروں کو یکجا کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ کتاب کی ترتیب ایک بڑی ذمہ داری تھی، کیونکہ اس میں شامل ہر قلم کار کی محنت، جذبات اور توقعات وابستہ تھیں۔ اس منصوبے کی تکمیل کے دوران انہیں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم قلم کاروں کے اعتماد اور تعاون نے انہیں اس ذمہ داری کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا حوصلہ دیا۔
عائشہ گُل نے بتایا کہ اس سفر میں ان کی ساتھی مہوش اختر نے بھرپور تعاون کیا اور ہر مشکل مرحلے پر ان کا حوصلہ بڑھایا۔ دونوں کے لیے یہ پہلی مشترکہ انتھولوجی تھی، اس لیے اس کی تکمیل ایک اہم تجربہ ثابت ہوئی۔
کتاب میں عائشہ گُل کی اپنی تحریر ’’حجابِ نور‘‘ کے عنوان سے شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حجابِ نور، باطنی روشنی، روحانی سکون اور انسان کی زندگی میں الٰہی رہنمائی کے تصور پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق اس تحریر میں اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حقیقی روشنی صرف ظاہری مناظر تک محدود نہیں بلکہ وہ روشنی بھی اہم ہے جو دل و روح کو سکون اور زندگی کو مقصد عطا کرتی ہے۔
انہوں نے ’’نقابِ نور‘‘ میں شامل تمام 75 قلم کاروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ کتاب قارئین کے دلوں میں جگہ بنائے گی اور اس میں شامل تحریریں معاشرے میں مثبت تبدیلی، فکری بیداری اور ادبی ذوق کے فروغ کا ذریعہ ثابت ہوں گی۔عائشہ گُل کے مطابق ’’نقابِ نور‘‘ ان کے ادبی سفر کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز ہے، جس کے ذریعے وہ مزید ادبی منصوبوں کو عملی شکل دینے کی خواہش رکھتی ہیں۔
مزید پڑھیں




