دل کا اصل گھر، محبتِ الٰہی ،تحریر: ام عبد القہار
نقطہ نظر
انسان دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو اسے محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کی آغوش، باپ کی شفقت اور گھر والوں کی توجہ اسے تحفظ کا احساس دیتی ہے۔ عمر بڑھتی ہے تو محبت کی صورتیں بدل جاتی ہیں؛ کہیں دوستی، کہیں رفاقت، کہیں اولاد اور کہیں عزت کی خواہش۔ دل کی طلب باقی رہتی ہے کہ کوئی اسے سمجھے، اس کی قدر کرے اور اسے قبول کرلے۔
محبت انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ کسی سے محبت کرنا اور کسی کا محبوب ہونا زندگی کو معنویت بخشتا ہے۔ مشکل تب پیدا ہوتی ہے جب ہم کسی انسان سے ایسی کامل توجہ اور بے خطا رفاقت کی توقع باندھ لیتے ہیں جس کا نبھانا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ انسان محدود ہے؛ اس کی قوت، فرصت اور سمجھ سب محدود ہیں۔ اسی لیے محبت کے باوجود رشتوں میں غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا ہوسکتے ہیں۔
ایسے میں بعض لوگ اپنی قدر کا پیمانہ دوسروں کے رویوں کو بنا لیتے ہیں۔ کسی نے تعریف کردی تو خود کو قابل سمجھنے لگے، کسی نے نظرانداز کیا تو اپنی شخصیت بے وقعت محسوس ہونے لگی۔ دوسروں کی پسند کے مطابق جیتے جیتے اپنی ضروریات، اصول اور شناخت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہ کیفیت ہمیں اپنے دل سے پوچھنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہماری قدر کی بنیاد آخر کیا ہے؟
قرآن اس دل کو اپنے رب سے تعلق کی طرف بلاتا ہے: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ؛ ایمان والے اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں۔ (البقرۃ: ۱۶۵) یہ محبت زندگی کی دوسری محبتوں کو ان کا مناسب مقام دیتی ہے۔ والدین، شریکِ حیات، اولاد اور دوست عزیز رہتے ہیں، مگر ان کی خوشنودی کے لیے اللہ کی نافرمانی قبول نہیں کی جاتی۔ محبت کے ساتھ اصول بھی قائم رہتے ہیں۔
محبتِ الٰہی کا ایک امید افزا پہلو یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کا محبوب بھی بن سکتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ اللہ ان سے محبت فرماتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ (المائدۃ: ۵۴) ذرا اس نسبت کی عظمت دیکھیے! انسان جس کی رضا کا طالب ہے، اسی کی طرف سے محبت کی بشارت بھی پاتا ہے۔ بندگی کا یہ تعلق دل میں امید جگاتا ہے۔
لیکن اس محبت کا عملی معیار بھی ہے۔ فرمایا: فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔ (آل عمران: ۳۱) لہٰذا محبت کا اظہار نماز کی پابندی، معاملات کی دیانت، زبان کی حفاظت اور حقوق کی ادائیگی میں ہونا چاہیے۔ حدیثِ قدسی (بخاری: ۶۵۰۲) بتاتی ہے کہ قرب کا سب سے محبوب ذریعہ فرائض ہیں، پھر بندہ نوافل سے قریب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اس سے محبت فرماتا ہے۔
اس تعلق میں خطاکار کے لیے بھی واپسی کا دروازہ کھلا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِين اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (البقرۃ: ۲۲۲) غلطی کا اعتراف انسان کو اصلاح کی طرف لے جاسکتا ہے، مگر اپنی ذات کو ہمیشہ کے لیے ناقابلِ قبول سمجھ لینا کوشش چھین لیتا ہے۔ توبہ بندے کو ذمہ داری سکھاتی ہے: گناہ چھوڑو، نادم ہو، لوٹنے سے بچو اور کسی کا حق مارا ہے تو اسے ادا کرو۔
پھر یہ محبت معاشرے میں کیسے پہچانی جائے؟ اس کا جواب ہمارے اخلاق میں ملتا ہے۔ قرآن غصہ ضبط کرنے، لوگوں کو معاف کرنے اور احسان اختیار کرنے والوں کی تعریف کے بعد فرماتا ہے کہ اللہ محسنین سے محبت کرتا ہے۔ (آل عمران: ۱۳۴) سو ہمیں اپنے گھروں، جماعتوں اور اداروں میں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے لہجے کتنے مہربان اور فیصلے کتنے منصفانہ ہیں۔ ہمارے ساتھ رہنے والے ہم سے کیسا سلوک پاتے ہیں؟
کسی کمزور کی عزت بچانا، بچے کی بات توجہ سے سننا، ماتحت کی محنت تسلیم کرنا اور اختلاف میں شائستگی رکھنا اسی اخلاقی تربیت کے مواقع ہیں۔ معافی کی فضیلت اپنی جگہ، ظلم سے حفاظت اور حق کے حصول کی جائز کوشش بھی اپنی جگہ ہے۔ اللہ کی رضا چاہنے والا انسان اپنے رویے کی اصلاح کرتا ہے اور دوسروں کے حقوق کا پاس رکھتا ہے۔ اسے اپنی جواب دہی بھی یاد رہتی ہے۔
ابن القیمؒ نے محبت بڑھانے کے اسباب میں قرآن پر تدبر، ذکر کی پابندی، اللہ کی نعمتوں پر غور، خواہش کے مقابلے میں اس کی پسند کو ترجیح اور صالحین کی صحبت ذکر کی ہے۔ (مدارج السالکین) ان باتوں کو روزمرہ میں جگہ دی جاسکتی ہے: آیات سمجھ کر پڑھیں، کسی نعمت پر شکر کریں، ایک غلط عادت چھوڑیں اور تنہائی میں اپنے رب سے بات کریں۔ چھوٹے مگر مستقل اعمال تعلق کو سنوارتے ہیں۔
آج ہمیں اپنے دل کی تربیت درکار ہے۔ لوگوں سے محبت کیجیے، رشتوں کو وقت دیجیے، مگر اپنی بندگی کا مرکز اللہ کو بنائیے۔ نبی کریم ﷺ کی سکھائی دعا مانگیے: مجھے اپنی محبت، اپنے محبت کرنے والوں کی محبت اور اپنی محبت کے قریب کرنے والے عمل کی محبت عطا فرما۔ (ترمذی: ۳۲۳۵) دل اپنے رب سے جڑ کر محبت بانٹنا سیکھتا ہے۔



