لہو کی چھاپ: مسلمان کب انسان مانے جائیں گے؟ تحریر: ایمن ریاض
نقطہ نظر
اگر انسانی تاریخ کے صفحات کو پلٹ کر دیکھا جائے تو یہ اوراق ہمیں لہو میں تر نظر آتے ہیں۔ کہیں کھوپڑیوں کے مینار ایستادہ ہیں، تو کہیں اجتماعی قبریں خاموش گواہ بن کر چیخ رہی ہیں۔ وہ انسان، جسے "اشرف المخلوقات" کا درجہ دیا گیا، خود اپنی ہی نسل کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ آج اسے کسی اور مخلوق سے معدوم ہونے کا خطرہ نہیں، بلکہ وہ اپنی معدومیت کے درپے خود ہے — اور اس کے ہاتھوں روز کسی نہ کسی نوع کے ختم ہونے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔
وقت کا صفحہ پلٹیں تو اگست 1995 کا وہ سیاہ لمحہ سامنے آتا ہے، جب یورپ کے دل میں بوسنیا میں تاریخ کی بدترین نسل کشی گئی۔
تمام مردوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا گیا۔ماؤں کی گود سے دودھ پیتے بچے چھین لیے گئے۔لاٹھی ہانکتے بزرگوں کو بھی نہ چھوڑا گیا۔
سب مردو ں کو جانوروں کی طرح شہر سے باہر میدان کی جانب ہانکا جانے لگا پھر اس میدان میں ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر نظر آنے لگے۔دس ہزار سے زائد انسانوں سے بھرا ہوا میدان بھیڑوں کا بہت بڑا ریوڑ محسوس ہو ریے تھے۔
یکایک سیکنڑوں بندوقوں سے نکلنے والی آوازوں نے کئی ماؤں کی گود اور کئی سہاگنوں کے سہاگ کو اجاڑ ڈالا۔سینکڑوں ایکٹر پر محیط میدان میں خون،جسم کے چیتھڑے اور نیم مردہ کراہتے انسانوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔
اگست 1995 سے اب تک اتنے سال گزر جانے کے باوجود مہذب دنیا اس داغ کو دھونے میں ناکام ہے۔یہ انسانی تاریخ کا وہ واحد واقعہ ہے جس میں مرنے والوں کی تدفین آج تک جاری ہے۔
دنیا کو جنگ عظیم،سرد جنگ اور یہودیوں پر ہٹلر کے جرائم تو یاد ہیں لیکن مسلمانوں کا قتل عام یاد نہیں۔
اسی طرح فلسطین کے مظلوموں کو دیکھیں ،جہاں گزشتہ ڈیڑھ سال سے نہتے بچے،مائیں بزرگ مسلسل بمباری کا شکار ہو ریے ہیں۔
لیکن کسی انسانی حقوق کی تنظیم کے کان پر جوں تک نہ رینگی کیوں کہ یہی اعلی اخلاقی اقدار کا حامل مگر اخلاقی پستی کا شکار مغرب جو حقوق انسانی اور لبرل ازم کا دعوے دار ہے اسرائیل کے ساتھ کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
اسی طرح کشمیر، افغانستان،شام،یمن کے کئی حصے انسانی لاشوں سے اٹے پڑے ہیں۔
11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر ہونے والا حملہ بھی دنیا کو بدل کر رکھ گیا۔ القاعدہ کے ہاتھوں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی اور ہزاروں افراد کی ہلاکت نے دنیا کو دہشتگردی کے خلاف ایک نئی جنگ میں جھونک دیا۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا، طالبان کی حکومت ختم کی، اور ایک 20 سالہ جنگ کا آغاز ہوا۔ لیکن اس جنگ میں مرنے والے لاکھوں بے گناہ افغان شہریوں کا کیا؟ وہ بچے، مائیں، بزرگ — کیا وہ محض "ردِ عمل" تھے؟
انسانی حقوق کے دعویدار ممالک اور ادارے فلسطین کے نہتے عوام پر جاری بمباری، کشمیر کے مظلوموں، شام، یمن اور افغانستان کے کچلے ہوئے عوام کی آہیں کیوں نہیں سنتے؟ نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کے قتل عام کو لائیو نشر کیا گیا — ایک ایسا عمل جو انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ہے۔
ان سب مظالم کے پس پردہ ایک مشترک محرک موجود ہے: اسلاموفوبیا۔
یعنی اسلام اور مسلمانوں سے خوف اور دشمنی — ایک ایسا ذہنی زہر جو نہ صرف امتیازی سلوک کو جنم دیتا ہے، بلکہ مسلمانوں کو دنیا بھر میں مشکوک، غیر محفوظ اور نشانے پر رکھتا ہے۔ کبھی ان کے رسولﷺ کے گستاخانہ خاکے، کبھی حجاب پر پابندی، اور کبھی عبادت گاہوں پر حملے — سب اسی تعصب کی پیداوار ہیں۔
اس ماحول میں پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں اسلامی فوبیا کے خلاف مؤثر آواز بلند کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو "اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن" قرار دیا — ایک ایسا اقدام جو امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
اب بھی وقت ہے کہ انسانیت یہ سمجھ لے کہ مذہب کے نام پر جنگ ایک ایسا جن ہے جو بوتل سے نکلنے کے بعد صرف خون مانگتا ہے۔ اگر دنیا نے اسلامی فوبیا کے اس زہر کو پہچانا نہ، تو انسانیت اسی طرح بلکتی رہے گی۔
کیا اب بھی ہم یہ سوال نہیں اٹھا سکتے؟
مسلمان کب انسان مانے جائیں گے؟
مزید پڑھیں



