اس دنیا میں ہر انسان کچھ نہ کچھ بننا چاہتا ہے۔ کوئی چاہتا ہے کہ اسے ہر کوئی جانے، اس کا نام ہر زبان پر ہو، جہاں جائے لوگ اس کی طرف دیکھیں، اس کی تصویریں لیں۔ اس کو شہرت کہتے ہیں۔ اور کوئی چاہتا ہے کہ اسے کم لوگ جانیں مگر جو جانیں وہ دل سے اس کی عزت کریں، اس کی بات کو وزن دیں، اس کے نہ ہونے پر اسے اچھے لفظوں میں یاد کریں۔ اس کو عزت کہتے ہیں۔
شہرت اور عزت دیکھنے میں ایک جیسی لگتی ہیں مگر حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شہرت شور ہے اور عزت خاموشی۔ شہرت آپ کو ہجوم دیتی ہے اور عزت آپ کو مقام دیتی ہے۔ شہرت کے لیے آپ کو دوسروں جیسا بننا پڑتا ہے، جو ٹرینڈ چل رہا ہے اس کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے۔ عزت کے لیے آپ کو اپنے جیسا رہنا پڑتا ہے، اپنے اصولوں پر قائم رہنا پڑتا ہے۔
شہرت ایک نشہ ہے۔ شروع میں بہت میٹھی لگتی ہے۔ ہر کوئی آپ کی تعریف کرتا ہے، آپ کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ لیکن اس نشے کی قیمت بہت بڑی ہے۔ مشہور انسان اپنی زندگی اپنی مرضی سے نہیں جی سکتا۔ اسے ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، کہیں لوگ بھول تو نہیں جائیں گے۔ وہ خوش ہونے کے لیے بھی دوسروں کی تالیوں کا محتاج ہو جاتا ہے۔ آج اگر تالیاں بج رہی ہیں تو وہ خوش ہے، کل اگر تالیاں بند ہو گئیں تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ بہت سے مشہور لوگ رات کو اکیلے میں روتے ہیں کیونکہ ان کے پاس ہجوم تو ہے مگر کوئی مخلص دوست نہیں ہوتا۔
عزت اس کے برعکس ایک روشنی ہے۔ یہ شور نہیں کرتی، آہستہ آہستہ دل میں اترتی ہے۔ عزت دار انسان کو دیکھ کر کوئی چیخیں نہیں مارتا، لیکن دل میں اس کے لیے محبت اور احترام ضرور پیدا ہوتا ہے۔ عزت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ شہرت انسان کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے، جب تک آپ اسکرین پر ہیں آپ مشہور ہیں، اسکرین سے ہٹے تو کہانی ختم۔ لیکن عزت نسل در نسل چلتی ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ فلاں کے بیٹے ہیں، بڑے عزت دار گھرانے سے ہیں۔
اس بات کو ایک کہانی سے سمجھتے ہیں۔
ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے۔ بڑے کا نام سلیم اور چھوٹے کا نام نعیم تھا۔ دونوں نے ایک ساتھ شہر میں کام شروع کیا۔
سلیم بہت ذہین اور چالاک تھا۔ اس نے جلدی سمجھ لیا کہ شہر میں مشہور کیسے ہونا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنانا شروع کر دیں، کبھی کسی کا مذاق اڑا کر، کبھی اونچی آواز میں لوگوں سے بحث کر کے۔ لوگ اسے دیکھنے لگے، اس کے فالورز لاکھوں میں ہو گئے۔ وہ جہاں جاتا لوگ اسے پہچان لیتے۔ اسے لگا اس نے دنیا جیت لی ہے۔ اس نے پیسے کے لیے ہر کام کیا جس سے ویوز آئیں، سچ جھوٹ کی پرواہ نہیں کی۔
دوسری طرف نعیم خاموش طبیعت کا تھا۔ اس نے شہر میں ایک چھوٹی سی کتابوں کی دکان کھولی۔ وہ کم بولتا تھا مگر سچ بولتا تھا۔ کبھی کسی گاہک کو غلط کتاب نہیں دی، کبھی کسی غریب بچے سے پیسے نہیں لیے، اگر کسی کے پاس پیسے کم ہوتے تو کہتا کوئی بات نہیں بعد میں دے دینا۔ وہ کبھی مشہور نہیں ہوا، اسے شہر کے چند سو لوگ ہی جانتے تھے۔ سلیم کبھی کبھی اس پر ہنستا اور کہتا کہ تم ساری زندگی ایسے ہی گمنام رہو گے۔
وقت گزرا۔ ایک دن سلیم کی ایک ویڈیو پر بہت بڑا جھگڑا ہو گیا۔ اس نے شہرت کے لیے ایک جھوٹی بات کہہ دی تھی جس سے بہت سے لوگوں کا دل دکھا۔ جن لوگوں نے کل تک اس کی واہ واہ کی تھی، آج وہی اسے برا بھلا کہنے لگے۔ اس کی شہرت راتوں رات نفرت میں بدل گئی۔ وہ ڈپریشن میں چلا گیا، گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ اس کے پاس لاکھوں فالورز تھے مگر اس کے پاس بیٹھنے والا ایک بھی دوست نہیں تھا۔
اسی دن گاؤں میں ان کے والد بیمار ہو گئے۔ گاؤں کے لوگوں کو پیسے کی ضرورت تھی۔ نعیم کو کسی نے بتایا بھی نہیں تھا، لیکن گاؤں کے لوگ خود اس کی دکان پر آئے۔ ہر ایک نے کہا نعیم بھائی، آپ کے والد ہمارے والد جیسے ہیں، آپ فکر نہ کریں۔ کسی نے پیسوں سے مدد کی، کسی نے دعاؤں سے، کسی نے ہسپتال میں ساتھ دیا۔ نعیم حیران تھا کہ وہ تو کبھی مشہور ہی نہیں ہوا، پھر یہ سب اس کی عزت کیوں کر رہے ہیں۔ تب گاؤں کے ایک بزرگ نے کہا بیٹا، تم مشہور نہیں ہو مگر عزت دار ہو۔ تم نے جو بویا تھا آج وہی کاٹ رہے ہو۔ تم نے لوگوں کو علم دیا، عزت دی، آج لوگ تمہیں عزت دے رہے ہیں۔
اس دن سلیم کو بھی سمجھ آ گیا کہ جس شہرت کے پیچھے وہ بھاگتا رہا وہ تو دھوپ کا سایہ تھی، ہاتھ آیا تو کچھ بھی نہیں۔ اور جس عزت کو وہ چھوٹی چیز سمجھتا تھا وہی اصل دولت ہے۔
پیاری بہنوں اور بھائیوں، یاد رکھو، شہرت کے لیے آپ کو دنیا کو خوش کرنا پڑتا ہے اور عزت کے لیے آپ کو اللہ کو خوش کرنا پڑتا ہے۔ جب اللہ خوش ہو جاتا ہے تو وہ خود ہی لوگوں کے دلوں میں آپ کی عزت ڈال دیتا ہے۔ ایسی عزت جس میں سکون ہے، جس میں دوام ہے۔
اس لیے زندگی میں فیصلہ کرو کہ تمہیں کیا چاہیے۔ اگر شہرت چاہیے تو راستہ آسان ہے، شور مچاؤ، لوگ دیکھیں گے۔ لیکن اگر عزت چاہیے تو راستہ مشکل ہے، سچ بولو، وعدہ پورا کرو، کسی کا دل نہ دکھاؤ، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا ادب کرو۔ یہ راستہ لمبا ضرور ہے مگر اس کے آخر میں وہ سکون ہے جو شہرت کبھی نہیں دے سکتی۔
اللہ ہمیں ایسی عزت دے جو دنیا میں بھی ہمارے کام آئے اور آخرت میں بھی ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بنے۔ آمین۔
مزید پڑھیں




