بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اپنے بچوں کا حق؟ تحریر: مہر بشارت صدیقی

نقطہ نظر

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب روایت تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ ہم دوسروں کو خوش کرنے، محفلوں میں اپنی حیثیت منوانے اور لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، لیکن جب اپنے گھر کے اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات کی بات آتی ہے تو وسائل کی کمی کا شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ ہم لوگوں کو خوش کرنے کے لیے زندہ ہیں یا اپنے خاندان کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے؟


شادی بیاہ ہو، میلاد کی محفل ہو، کسی عزیز کی دعوت ہو یا کوئی دوسری تقریب، ہمارے ہاں کھانے پکانے اور مہمانوں کی تواضع کو عزت و وقار کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ بعض اوقات لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر کھانے کا انتظام کرتے ہیں، بڑی بڑی دیگیں پکواتے ہیں اور اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ مہمانوں کو کسی قسم کی کمی محسوس نہ ہو۔ مہمان نوازی یقیناً ہماری ثقافت کا خوب صورت حصہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا مہمان نوازی کے نام پر اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنا اور بعد میں مالی پریشانیوں کا شکار ہونا دانش مندی ہے؟


ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دوسروں کو کھانا کھلانا نیکی ہے، مگر اس نیکی کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنا درست طرزِ عمل نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے، اپنی مالی حیثیت کے مطابق کسی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے، کسی غریب کی مدد کرتا ہے یا کسی ضرورت مند کے گھر راشن پہنچاتا ہے تو یہ قابلِ تحسین عمل ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص محض لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے قرض لے کر دعوت کرتا ہے اور اس کے اپنے بچے بنیادی ضروریات کے لیے ترستے رہتے ہیں تو اسے اپنی ترجیحات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔


ہمارے اردگرد ایسے بے شمار گھرانے موجود ہیں جہاں والدین بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے پریشان ہیں، کسی گھر میں مریض علاج کا منتظر ہے، کسی ماں کو اپنے بچوں کے لیے مناسب خوراک کی فکر ہے اور کوئی باپ بجلی، گیس اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں محض معاشرتی دباؤ یا لوگوں کی خوشنودی کے لیے غیر ضروری اخراجات کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔


افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم نے خوشی کے اظہار کو بھی دوسروں کے ساتھ مقابلے کی دوڑ بنا دیا ہے۔ کسی نے بڑی دعوت کی تو ہم اس سے بڑی دعوت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی نے مہنگا کھانا بنوایا تو ہم بھی اپنی حیثیت سے بڑھ کر انتظام کرتے ہیں۔ اس دوڑ میں نہ صرف ہماری جمع پونجی ختم ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات قرض کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔ چند گھنٹوں کی تقریب ختم ہونے کے بعد مہمان اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں، لیکن میزبان کئی ماہ تک اخراجات پورے کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔


اسلام ہمیں اعتدال، سادگی، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی اور فضول خرچی سے اجتناب کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں فضول خرچی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ان تعلیمات کو جگہ دیں۔ خوشی منانے کے لیے دولت کی نمائش ضروری نہیں، اور نہ ہی کسی کی عزت کا معیار اس کے دسترخوان پر موجود کھانوں کی تعداد ہے۔ اصل عزت اچھے کردار، خلوص، خدمت اور دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔


یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس تحریر کا مقصد کسی کی مہمان نوازی یا دوسروں کو کھانا کھلانے کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اپنی استطاعت کے مطابق غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور مستحق خاندانوں کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ ایسے افراد معاشرے کا سرمایہ ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہماری نیکی میں دکھاوا شامل نہ ہو اور ہماری سماجی سرگرمیاں ہمارے اہلِ خانہ کے حقوق کی ادائیگی میں رکاوٹ نہ بنیں۔


ہمیں اپنے بچوں کو صرف اچھا کھانا کھلانے ہی نہیں بلکہ اچھی تعلیم، بہترین تربیت، مناسب علاج اور محفوظ مستقبل دینے کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ والدین کی اصل کامیابی لوگوں کی محفلوں میں تعریفیں سمیٹنا نہیں، بلکہ اپنے بچوں کو ذمہ دار، باکردار اور تعلیم یافتہ انسان بنانا ہے۔


آئیے! آج ہم سب اپنے ضمیر سے ایک سوال کریں: کیا ہم دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنے گھر والوں کی خوشیاں قربان تو نہیں کر رہے؟ کیا ہماری تقریبات ہماری استطاعت کے مطابق ہیں؟ اور کیا ہم اپنی دولت کا کچھ حصہ ان لوگوں کی مدد پر خرچ کرتے ہیں جنہیں واقعی کھانے کی ضرورت ہے؟


یاد رکھیے، حقیقی نیکی وہ نہیں جس کا چرچا پورے شہر میں ہو، بلکہ وہ ہے جس سے کسی بھوکے کو کھانا، کسی بچے کو تعلیم، کسی مریض کو علاج اور کسی مجبور خاندان کو سہارا ملے۔ ہمیں دکھاوے کی دعوتوں کے بجائے احساس، سادگی اور خدمتِ خلق کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے کی اصل خوب صورتی بڑی دیگوں، لمبے دسترخوانوں اور مہنگی تقریبات میں نہیں، بلکہ انسانیت کے احترام، گھریلو ذمہ داریوں کی ادائیگی اور ضرورت مندوں کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔