عشق،سمجھنے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے۔تحریر:سید شاہزیب شاہ
نقطہ نظر
عشق... ایک ایسا لفظ جسے لکھنے میں چار حروف لگتے ہیں مگر سمجھنے میں پوری زندگی لگ جاتی ہے۔ عشق صرف محبت نہیں، محبت سے بہت آگے کی چیز ہے۔ محبت میں عقل باقی رہتی ہے، حساب کتاب رہتا ہے، نفع نقصان کا خیال رہتا ہے، مگر عشق میں عقل ختم ہو جاتی ہے۔ عشق اندھا نہیں ہوتا، عشق تو دیکھتا ہی وہ ہے جو عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔
دنیا میں ہر چیز کی تعریف ممکن ہے، مگر عشق کی کوئی حتمی تعریف آج تک کوئی نہ کر سکا۔ کسی نے کہا عشق آگ ہے، کسی نے کہا عشق روشنی ہے، کسی نے کہا عشق درد ہے، کسی نے کہا عشق دوا ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ عشق ان سب کا مجموعہ ہے۔
مولانا روم کہتے ہیں "عشق وہ شعلہ ہے کہ جب وہ بھڑکتا ہے تو معشوق کے سوا ہر چیز کو جلا دیتا ہے"۔ عشق میں انسان خود کو بھول جاتا ہے۔ اس کی اپنی ہستی، اپنی انا، اپنا غرور سب ختم ہو جاتا ہے۔ باقی رہتا ہے تو صرف محبوب۔
محبت میں انسان کہتا ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں" مگر عشق میں انسان کہتا ہے میں تم ہی ہو گیا ہوں"۔ یہی فرق ہے محبت اور عشق میں۔ محبت دو کا رشتہ ہے، عشق ایک ہو جانے کا نام ہے۔
عشقِ مجازی یہ عشق کا پہلا زینہ ہے۔ کسی انسان سے عشق ہونا، کسی چہرے میں کھو جانا۔ اکثر لوگ یہیں تک محدود رہتے ہیں اور اسی کو کل سمجھ لیتے ہیں۔ مجازی عشق بہت تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ انسان فانی ہے۔ آج ہے کل نہیں۔ اس لیے اس عشق میں جدائی کا خوف ہر وقت دل پر منڈلاتا رہتا ہے۔
عشقِ حقیقی جب انسان مجازی عشق کی گلیوں سے گزر کر اس بات کو سمجھ لیتا ہے کہ یہ چہرے، یہ حسن، یہ کشش سب اسی ایک حقیقی حسن کا عکس ہے، تو اس کا عشق حقیقی کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے۔ وہ ہر پھول میں، ہر چہرے میں، ہر ذرے میں اسی ایک محبوب کو دیکھنے لگتا ہے۔ یہی عشق انسان کو خدا سے ملاتا ہے۔
عقل اور عشق کی دشمنی بہت پرانی ہے۔ عقل کہتی ہے سوچو، سمجھو، پرکھو، حساب لگاؤ۔ عشق کہتا ہے بس کود جاؤ۔ عقل کہتی ہے انجام کیا ہوگا عشق کہتا ہے انجام کی پرواہ کیسی، بس محبوب راضی ہونا چاہیے۔
اقبال نے اسی لیے کہا تھا
عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ ملا ہے نہ زاہد نہ حکیم
عقل راستہ دکھاتی ہے، عشق منزل تک پہنچاتا ہے۔ دنیا کے سارے بڑے کام، ساری بڑی قربانیاں، سارے بڑے انقلاب عقل سے نہیں عشق سے ہوئے ہیں۔ عقل نے کبھی کسی کو سولی پر نہیں چڑھنے دیا، عشق نے منصور کو "انا الحق" کہنے پر مجبور کر دیا۔ عقل نے کبھی کسی کو صحرا میں نہیں بھٹکایا، عشق نے مجنوں کو لیلٰی کے پیچھے دیوانہ بنا دیا۔
عشق بغیر درد کے مکمل نہیں ہوتا۔ بلکہ عشق کا دوسرا نام ہی درد ہے۔ جس دل میں درد نہیں، وہ دل نہیں پتھر ہے۔ عاشق کو درد میں بھی لذت ملتی ہے۔ محبوب کی بے رخی میں بھی اسے سکون ملتا ہے۔ کیوں کیونکہ اس درد کا تعلق محبوب سے ہے۔
عشق میں شکوہ نہیں ہوتا۔ عاشق کبھی یہ نہیں کہتا کہ تم نے ایسا کیوں کیا وہ تو محبوب کے ہر ستم کو کرم سمجھتا ہے۔ اس کی ہر جفا کو وفا سمجھتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں عاشق پاگل ہوتا ہے، اور سچ میں وہ پاگل ہی تو ہوتا ہے۔ دنیا کی نظروں میں پاگل، مگر اپنی دنیا میں سب سے زیادہ ہوشیار۔
عشق میں انتظار بہت بڑی نعمت ہے۔ عاشق انتظار میں بھی محبوب کے قریب رہتا ہے۔ وہ گلیوں کے چکر لگاتا ہے، وہ پرانی باتوں کو یاد کرتا ہے، وہ محبوب کی ایک جھلک کے لیے گھنٹوں کھڑا رہتا ہے۔ یہ انتظار ہی تو عشق کو زندہ رکھتا ہے۔ اگر عشق میں سب کچھ آسانی سے مل جائے تو عشق کی قدر ہی کیا رہے
آج ہم نے عشق کو بہت سستا کر دیا ہے۔ ہر دوسرے دن کسی نئے چہرے سے عشق ہو جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کہنا اتنا آسان ہو گیا ہے جتنا سلام کرنا۔ مگر یہ عشق نہیں یہ وقتی کشش ہے، یہ ہوس ہے، یہ تنہائی کا علاج ہے۔
سچا عشق آج بھی موجود ہے، مگر وہ شور نہیں کرتا۔ وہ نمائش نہیں کرتا۔ وہ انسٹاگرام کی سٹوریز پر نہیں لگتا۔ سچا عاشق آج بھی خاموش ہے۔ وہ اپنے محبوب کی عزت کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ وہ محبوب کا نام بھی احترام سے لیتا ہے۔
آج کے دور میں سچا عشق وہ ہے جو آپ کو بہتر انسان بنائے۔ اگر کسی سے عشق کر کے آپ میں جھوٹ، دھوکہ، بے حیائی آ رہی ہے تو وہ عشق نہیں، وہ دھوکہ ہے۔ سچا عشق آپ کو نماز کے قریب کرے گا، آپ کو ماں باپ کی عزت سکھائے گا، آپ کو محنت کرنا سکھائے گا۔ کیونکہ عاشق چاہتا ہے کہ وہ محبوب کی نظروں میں بہترین بنے۔
عشق کی آخری منزل فنا ہے۔ اپنی ذات کی فنا۔ جب "میں" ختم ہو جائے اور صرف "تو" باقی رہ جائے۔ یہی تو صوفیاء کا مقصد تھا۔
عشق انسان کو آزاد کر دیتا ہے۔ وہ دنیا کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اسے نوکری جانے کا خوف نہیں، اسے لوگوں کی باتوں کا ڈر نہیں، اسے موت کا بھی خوف نہیں رہتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موت کے بعد بھی وہ محبوب سے ملے گا۔
اور آخر میں ایک بات یاد رکھیں، عشق کیا نہیں جاتا، عشق ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی منصوبہ نہیں جسے بنایا جائے۔ یہ اچانک دل پر بجلی کی طرح گرتا ہے اور سب کچھ بدل دیتا ہے۔ آپ لاکھ بچنا چاہیں، آپ لاکھ عقل سے کام لیں، جب عشق ہونا ہوتا ہے تو ہو کر رہتا ہے۔
اس لیے اگر آپ کی زندگی میں کبھی سچا عشق آئے تو اسے معمولی نہ سمجھنا۔ اس کی قدر کرنا۔ کیونکہ اس دور میں جہاں ہر چیز میں ملاوٹ ہے، سچا عشق خالص سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ وہ عشق چاہے انسان سے ہو، چاہے اپنے وطن سے، چاہے اپنے کام سے، یا چاہے اپنے رب سے... اسے سنبھال کر رکھنا، یہی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔
مزید پڑھیں




