غریبی کو لوگ صرف پیسے کی کمی سمجھتے ہیں۔ لیکن غریبی صرف پیسے کی کمی نہیں۔ غریبی ایک سوچ ہے۔ ایک احساس ہے۔ ایک زخم ہے۔ جو انسان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ غریب آدمی صرف بھوکا نہیں ہوتا، وہ ہر خوشی سے محروم ہوتا ہے۔ وہ ہر خواب سے محروم ہوتا ہے۔ وہ ہر عزت سے محروم ہوتا ہے۔
غریب کا بچہ جب اسکول جاتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی غریبی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے کپڑے پرانے ہوتے ہیں۔ اس کے جوتے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کا بستہ پھٹا ہوا ہوتا ہے۔ دوسرے بچے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ استاد بھی اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ وہ بچہ پڑھائی میں کتنا بھی اچھا ہو، لیکن اس کی غریبی اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ اس کے دل میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتا ہے۔
غریب کی جوانی بہت مشکل ہوتی ہے۔ جب دوسرے جوان اپنے خواب پورے کر رہے ہوتے ہیں، نئی نوکریاں کر رہے ہوتے ہیں، نئی گاڑیاں لے رہے ہوتے ہیں، شادیاں کر رہے ہوتے ہیں، تو غریب جوان نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہوتا ہے۔ وہ دن رات محنت کرتا ہے۔ وہ مزدوری کرتا ہے۔ وہ رکشہ چلاتا ہے۔ وہ چائے بیچتا ہے۔ لیکن اس کی محنت کا پھل اسے نہیں ملتا۔ اس کی ساری کمائی گھر کے خرچے میں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے اپنے خواب، خواب ہی رہ جاتے ہیں۔
غریب کی بیٹی سب سے زیادہ تکلیف میں ہوتی ہے۔ وہ جوان ہوتی ہے تو اسے اپنی شادی کی فکر لگ جاتی ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کے باپ کے پاس جہیز کے لیے پیسے نہیں۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کا باپ قرضے میں ڈوب جائے گا۔ وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتی ہے۔ وہ دن رات دعا کرتی ہے کہ اس کی شادی کسی طرح ہو جائے اور اس کے باپ کی جان چھوٹ جائے۔ کتنی ہی غریب بیٹیاں اسی فکر میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
غریب کا باپ سب سے زیادہ بے بس ہوتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی خواہشیں دیکھتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی بھوک دیکھتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کی بیماری دیکھتا ہے۔ لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کی جیب خالی ہوتی ہے۔ اس کے ہاتھ خالی ہوتے ہیں۔ وہ سارا دن محنت کرتا ہے لیکن شام کو جب خالی ہاتھ گھر آتا ہے تو اسے اپنی بے بسی پر رونا آتا ہے۔ وہ چھپ کر روتا ہے تاکہ اس کے بچے اسے روتا ہوا نہ دیکھیں۔
غریبی انسان سے اس کی عزت بھی چھین لیتی ہے۔ غریب آدمی کو کوئی عزت نہیں دیتا۔ اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ وہ سچ بھی بولے تو لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں۔ وہ مشورہ بھی دے تو لوگ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ امیر آدمی اگر جھوٹ بھی بولے تو لوگ اسے سچ مان لیتے ہیں۔ یہ دنیا کا دستور ہے۔ یہاں عزت پیسے سے تولی جاتی ہے۔ انسان سے نہیں۔
غریب کی بیماری بھی ایک عذاب ہوتی ہے۔ امیر بیمار ہو تو بڑے بڑے ہسپتالوں میں علاج کراتا ہے۔ بڑے بڑے ڈاکٹر اسے دیکھتے ہیں۔ لیکن غریب بیمار ہو تو وہ ہسپتال کے باہر لائن میں کھڑا رہتا ہے۔ اسے دوا نہیں ملتی۔ اسے علاج نہیں ملتا۔ وہ تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔ اس کی موت بھی غریبی کی وجہ سے ہوتی ہے۔
لیکن غریبی میں ایک خوبی بھی ہے۔ غریبی انسان کو انسان بناتی ہے۔ غریب آدمی دوسرے غریب کا درد سمجھتا ہے۔ وہ بھوکے کی بھوک سمجھتا ہے۔ وہ پیاسے کی پیاس سمجھتا ہے۔ وہ کسی کا دل نہیں دکھاتا۔ وہ عاجز ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے قریب ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت اللہ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ بھی غریبوں کو بہت پسند کرتا ہے۔
غریب کو کبھی حقیر مت سمجھو۔ اس کی مدد کرو۔ اگر تمہارے پاس زیادہ ہے تو اس میں سے غریب کو دو۔ اس سے تمہارا مال کم نہیں ہوگا، بلکہ بڑھے گا۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ تمہارے رزق میں برکت دے گا۔ تمہاری مشکلات آسان کرے گا۔
غریبی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ امیری بھی ایک آزمائش ہے۔ غریب کی آزمائش صبر کی ہے۔ امیر کی آزمائش شکر کی ہے۔ جو غریب صبر کر لیتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ اللہ اس کے صبر کا اجر اسے جنت میں دے گا۔ وہاں کوئی غریبی نہیں۔ وہاں کوئی بھوک نہیں۔ وہاں صرف خوشیاں ہیں۔
غریب ہو تو مایوس مت ہو محنت کرتے رہو۔ اللہ سے دعا کرتے رہو۔ تمہارا وقت بھی بدلے گا۔ رات کے بعد دن ضرور آتا ہے خزاں کے بعد بہار ضرور آتی ہے۔ تمہاری غریبی بھی ایک دن ختم ہو جائے گی۔ بس ہمت مت ہارو۔
مزید پڑھیں





