کچھ سنی کچھ ان سنی باتیں، تحریر: کلثوم افتخار
نقطہ نظر
حال ہی میں اپنے نئے گھر قیام کرنے کے بعد گھر کی تزئین و آرائش میں اس قدر مصروف رہی کہ پڑوسیوں سے روابط بڑھانے کا موقع ہی نہ مل سکا ۔ چونکہ میں شروع سے ہی پورے خاندان اور رشتہ داروں اور واقف کاروں میں ملنسار مشہور رہی ہوں تواس کا ثبوت دینے کے لیے بمشکل ڈیڑھ ہفتے کے بعد ہی پڑوس کے گھروں کا رخ کیا تاکہ واقف احوال کے ساتھ ساتھ وقت گزارنے کا بھی اچھا موقع ہاتھ آ سکے۔ یوں ہی آتے جاتے پڑوسیوں کے گھر میں اور کبھی بچوں کو سکول سے لاتے لے جاتے میری نظر محلے کے کچھ بزرگوں پر پڑی ۔ پہلے تو کچھ سمجھ نہ آئی کہ اخر چل کیا رہا ہے پھر ایک دو پڑوسوں سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ محلہ کے بزرگ حضرات نماز فجر کی ادائیگی کے بعد پیدل چلنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اسی دوران محلے کا ایک چکر بھی لگا لیتے ہیں اور یہ چکر صبح ساڑھے آٹھ تک جاری و ساری رہتا ہے پھر اس کے بعد دوسرے چکر کی باری اتی ہے اور یہ چکر گنتے گنتے میں تو چکرا کر ہی رہ گئی کہ آتے جاتے جب بھی ان بزرگوں سے سلام دعا ہوتی تو بڑی متانت سے جواب دینے کے بعد بتاتے کہ وہ بہت مصروف ہیں اور گھر کا سودا سلف لانے کے بعد بجلی کا بل بھی جمع کرواتے ہیں اور اس طرح ان کی زندگی اب پہلے سے زیادہ مصروف ہوتی چلی جا رہی ہے یہ تو تھی بزرگوں کی کہانی لیکن اسی دوران میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ وہ بزرگ جو ریٹائرمنٹ کی عمر سے آگے بڑھ جاتے ہیں کیا ان کا کام صرف گھروں کی چوکیداری کرنا ۔ڈرائیوری کرنا۔ بچوں کی آیا گیری کرنا بل جمع کروانا، گھر کا سودا سلف لانا ،بہو کے ساتھ مل کر بیمار پوتے یا پوتی کو سنبھالنا اور ضرورت پڑنے پر گھر میں خانساماں تک کا کام کرنا ہی رہ گیا ہے یا ہم انکے تجربے اور ہنر سے فائیدہ اٹھا کر معاشرے کی تعمیر کا آغاز بھی کریں گیں۔
بزرگ معاشرے کاوہ اثاثہ ہیں جن کے علم ،فن، تجربہ سے سیکھنے کا سلسہ کاآغاز ہوسکتا ہے۔ کیا یہ مناسب ہے کہ اگر ایک شخص نے اپنی زندگی کے ساٹھ قیمتی سال اس معاشرے اور اپنے خاندان کو دئیے ہیں تو ساٹھ کا ہندسہ آتے ہی معاشرے میں ان کو
بے کار سمجھنا شروع کر دیا جائے۔ امی آپ کو کیا پتہ ۔ ابو جی آپ کو نہیں معلوم آج کل کیا ہو رہا ہے۔ امی یہ دادی اماں ہر بات میں بولتی ہیں ان کو سمجھائیں۔ ۔
ابو ابھی کل ہی تو آپ کا چشمہ بنوا کر لایا تھا پھر ٹوٹ گیا ۔ آخر آپ کی اور بھی تو اولادیں ہیں سب سے کہیں خرچہ دیا کریں۔ بلکہ ابو جی آپ اپنی زندگی میں ہی اس گھر کا فیصلہ کر دیں تاکہ کل کو کوئ مسئلہ نہ ہو۔
یہ جملے جا بجا سننے کو ملتے ہیں۔ ایسے میں اگر ابو جی ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد دوستوں سے بات کرنے تک گئے تو بہو فرمائے گی۔ ابو جی مجھ پر اپنے بچوں کی بھی ذمہ داری ہے وقت پر واپس گھر آ جایا کریں میرے اور بھی کام ہوتے ہیں۔
ابو جی اپنی پنشن سے اس مرتبہ بل دے دیا کریں آخر امی کو
اے سی کے بغیر نیند نہیں آتی ہے۔ بل بہت آتا ہے۔ ۔
خدا بزرگوں کو تا عمر خود کفیل رکھے
وگرنہ خون کے رشتے رلانے لگتے ہیں ۔
کچھ کہی کچھ ان کہی باتیں بعض اوقات سنی ان سنی بظاہر تو ہو ہی جاتی ہیں لیکن دل کو چیر کر رکھ دیتی ہیں ۔
یہ کہنا بڑی عام سی بات ہوگی امی آپ آہستہ کھانسا کریں رات بھر بار بار آنکھ کھلتی رہی آپ کے بیٹے کی صبح انہوں نے دفتر بھی جانا ہوتا یے ۔امی آپ کیا ہر روز اپنی بیٹیوں کو بلوا لیتی ہیں۔ ہماری بھی اپنی کوئ مرضی ہے۔
یہ سب جملے بولتے ہوئے کوئ یہ نہ سوچے گا کہ آخر والدین کا کے جیتے ہیں سب کے ہی اپنے وقت پر اللّٰہ کو پیارے ہو جاتے ہیں ۔
یہ لفظ ،جملے ، رویے اور پھر والدین کو صرف بوجھ ، ناسمجھ لینا کونسی محبت ہے جو صرف جنازے کے وقت کندھا دینے تک ہی محدود ہو گئ ہے۔
لیکن۔ وقت تو پھر وقت ہے پلٹ کر آتا ہے رہتا ہے اور پھر تصویر دکھا دیتا ہے ۔
خدارا والدین کی قدر دل سے کیجئے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے۔ اس سے پہلے کہ آپ کی آئیندہ نسلوں کو وہی فصل کاٹنی پڑی جائے جو آپ انجانے میں بو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں



