Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

آئی آئی ٹی بمبئی کے طالبعلم کی خودکشی:والد کا پروفیسر پر ذات پات کی بنیاد پر ہراسانی کا الزام


بھارت کے شہر ممبئی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی بمبئی) میں دوسرے سال کے طالب علم ساحل واکوڑے نے خود کشی کر کے زندگی کا خاتمہ کر لیا-


بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے ساحل واکوڑے خودکشی کے معاملے میں پروفیسر سوریہ نارائن دُلا کے خلاف خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی آر میں 2 دیگر ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق کیس کی تحقیقات ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے حوالے کردی گئی ہیں۔


ساحل کے والد رویندر چکرادھر وانکھڑے نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو گزشتہ 3 ماہ کے دوران شدید ذہنی اذیت اور ذات پات کی بنیاد پر مبینہ توہین کا سامنا کرنا پڑا، شکایت میں پروفیسر دُلا کا نام لیا گیا ہے، جو اس امتحان کے نگران بھی تھے جس میں ساحل کو موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ والد کا دعویٰ ہے کہ پروفیسر نے ڈائریکٹر شریش بی کیدارے کی ہدایت پر ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر ہراساں کیا۔


شکایت کے مطابق ساحل نے ایک موقع پر اپنے والد کو بتایا تھا کہ پروفیسر دُلا نے اسے دھمکی دی کہ چونکہ وہ ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے اسے آسانی سے کسی جھوٹے مقدمے میں پھنسایا جاسکتا ہے،والد نے ڈائریکٹر اور پروفیسر سمیت دیگر ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کے تحت خودکشی پر اکسانے اور مشترکہ ذمہ داری کی دفعات کے علاوہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے خلاف مظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے۔


20 سالہ ساحل آئی آئی ٹی ممبئی کے شعبہ توانائی سائنس و انجینئرنگ میں ایم ایس سی کے دوسرے سال کا طالب علم تھا اادارے کے مطابق اسے واقعے کے روز امتحان کے دوران موبائل فون استعمال کرتے اور سوالیہ پرچہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے جوابات تلاش کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا، تاہم اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔


ادارے کا کہنا ہے کہ استاد اور شعبے کے سربراہ نے اسے سمجھایا اور یقین دلایا کہ اس واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر اثر نہیں پڑے گا، تاہم بعدازاں وہ ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ گزشتہ 7 ماہ کے دوران آئی آئی ٹی بمبئی میں یہ خودکشی کا تیسرا واقعہ ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL