یوکرین کا روسی دارالحکومت ماسکو پر اب تک کا سب سے بڑا ڈرون حملہ

روسی حکام کے مطابق اتوار کے روز روس میں پارلیمانی انتخابات کے آخری دن ماسکو اور اس کے گردونواح پر سیکڑوں ڈرونز سے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بڑی ریفائنری کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے بتایا کہ 1600 سے زائد ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر تباہ کیا گیا، جن میں سے 450 ڈرونز کا ہدف براہ راست ماسکو شہر تھا۔ ان کے مطابق دشمن کی جانب سے کیا جانے والا اب تک کا سب سے بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔
دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں نے گزشتہ رات ماسکو کے خطے میں بہت نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔ ولادیمیر زیلنسکی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مزید کہا کہ روس کی تیل کی صنعت کی اہم تنصیبات اور اس کی لاجسٹکس سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ماسکو ریجن کے گورنر آندرے ووروبیوف نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ دو مختلف مقامات پر کم از کم دو افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک 44 سالہ خاتون اور ایک بزرگ شہری شامل ہیں۔ گورنر کے مطابق ایک 21 منزلہ عمارت سے ڈرون ٹکرانے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث عمارت سے 400 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق روس کے زیر قبضہ جنوبی علاقے کھیرسون میں بھی ایک یوکرینی ڈرون نے ایک بس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن کے ایک رکن سمیت مزید دو افراد جاں بحق ہوگئے۔
مزید پڑھیں





