چین نے اے سی کے بغیر گھر ٹھنڈا رکھنے والا سپر کولنگ پینٹ تیار کرلیا

چین کے سائنسدانوں نے ایسا جدید سپر کولنگ پینٹ تیار کیا ہے جو گرم موسم میں عمارتوں کے اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے اور ایئرکنڈیشنر کی ضرورت کو کم کرسکتا ہے۔ چین میں اس خصوصی کوٹنگ کی باقاعدہ پیداوار بھی شروع کردی گئی ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ گرمیوں کے دوران گھر کے اندر درجہ حرارت کو 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس منفرد پینٹ کی حقیقی دنیا میں چھ ماہ تک صوبہ ہینان کے ایک کارخانے میں آزمائش کی گئی۔ یہ پینٹ ریڈی ایٹیو کولنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے، جس کے لیے بجلی یا کسی قسم کے کولنگ ایجنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ریڈی ایٹیو کولنگ بنیادی طور پر ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں حرارت کو منعکس یا خارج کرکے اشیا اور عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ایک رپورٹ میں اس پینٹ کی آزمائش کے نتائج جاری کیے گئے ہیں، جن کے مطابق اس کوٹنگ کو گھروں کے ساتھ ساتھ عوامی انفرااسٹرکچر کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس پینٹ کی سالانہ 6 لاکھ ٹن مقدار تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جس کارخانے میں اس پینٹ کی آزمائش کی گئی، وہاں اس سے قبل اندرونی درجہ حرارت کو کم رکھنے کے لیے واٹر اسپرنکلر سسٹمز استعمال کیے جاتے تھے، تاہم نئی پینٹ کوٹنگ کے استعمال کے بعد بغیر کسی اضافی توانائی کے بھی اندرونی درجہ حرارت کم رکھنے کا تجربہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پینٹ سورج کی ریڈی ایشن کو واپس منعکس کردیتا ہے، جس کے نتیجے میں عمارت کی سطح پر پڑنے والی شمسی حرارت کو اندر منتقل ہونے سے روکنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ پینٹ چائنا کنسٹرکشن ایکو ڈویلپمنٹ کمپنی اور ہربن انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ شدید ہیٹ ویوز کے دوران بھی یہ پینٹ اندرونی درجہ حرارت کو محفوظ سطح پر برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
محققین کے تخمینے کے مطابق اس پینٹ کی اوسط عمر تقریباً 15 سال تک ہوسکتی ہے، جس کے باعث اسے طویل عرصے تک عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں





