نوجوانوں میں آئیڈیل کونسلنگ ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم
نقطہ نظر
ہمیں اکثر یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ جوانی صرف طاقت، جوش اور مستقبل کے بڑے بڑے خوابوں کا نام ہے، حالانکہ اس عمر کے دریچوں سے جھانکیں تو اندر ایک عجیب سی بے چینی اور طوفان بپا نظر آتا ہے جہاں ہر نوجوان اندر ہی اندر ایک جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ کبھی آپ نے خود سے پوچھا ہے کہ یہ جو بیس (20) سے پینتیس (32) سال کا عرصہ ہے، اس میں ہم کتنی ہی بار نادیدہ دیواروں سے ٹکراتے ہیں؟ کبھی کیریئر کی دوڑ، کبھی اپنوں کی توقعات کا بوجھ، تو کبھی اپنی ہی ذات کی کھوئی ہوئی شناخت کا دکھ ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اس بھنور میں پھنسے نوجوان کو کسی واعظ یا طعنے کی نہیں بلکہ ایک ایسے ہاتھ کی ضرورت ہوتی ہے جو بغیر کسی شرط کے اس کی بات سن سکے؟ جب ہم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے یہ سوال کرتے ہیں کہ "میں کہاں جا رہا ہوں؟" تو دراصل یہ ہماری روح کی پکار ہوتی ہے جو کسی ایسے ہمدرد کی تلاش میں ہوتی ہے جو فیصلہ صادر کیے بغیر بس ہمارا درد بانٹ لے۔
ذہن کے اس نہاں خانوں میں جب اضطراب اور بے خوابی ڈیرے ڈال لیتے ہیں، تو پھر روایتی مشورے بے کار ہو جاتے ہیں۔ ہم اکثر نوجوانوں کو یہ کہہ کر چپ کرا دیتے ہیں کہ "ہمارے زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا" یا "تمہاری عمر ہی کیا ہے جو اتنے پریشان ہو"۔ یہ جملے زخم پر نمک پاشی کا کام کرتے ہیں۔ ایک آئیڈیل کونسلنگ وہ ہے جو نوجوان کے ذہنی انتشار کو اس کی کمزوری نہ سمجھے بلکہ اسے ایک فطری اور عارضی مرحلہ تسلیم کرے۔ جب کوئی نوجوان یہ کہتا ہے کہ اس کا دل کسی کام میں نہیں لگتا یا اسے مستقبل اندھیرے میں دکھائی دیتا ہے، تو اس وقت کونسلر کا فرض فتوے دینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ خاموشی سے بیٹھنا ہے۔ کیا ہم نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ اس کے دماغ میں کتنے خیالات کا ہجوم ہے؟ آئیڈیل کونسلنگ کا پہلا اصول یہی ہے کہ وہ سامنے والے کو یہ احساس دلائے کہ اس کی تکلیف اصلی ہے، اس کے آنسو نقلی نہیں ہیں، اور اس کا گھٹن کا شکار ہونا کوئی گناہ نہیں۔
اس ذہنی کشمکش کے ساتھ ساتھ ہمارے جذباتی طوفان بھی کم تباہ کن نہیں ہوتے۔ جوانی کے اس دور میں محبت، نفرت، ناکامی، اور بے توجہی کے جو تیر دل پر لگتے ہیں، وہ عمر بھر کا روگ بن جاتے ہیں۔ ہم اکثر اپنے جذبات کو چھپانے کے لیے لاپرواہی کا نقاب اوڑھ لیتے ہیں، باہر سے مسکراتے ہیں لیکن اندر سے ویران ہوتے ہیں۔ ایک بہترین کونسلر وہ ہوتا ہے جو اس نقاب کے پیچھے چھپے ہوئے خوف اور تنہائی کو بھانپ لیتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ "تم جذباتی ہو رہے ہو" بلکہ وہ کہتا ہے کہ "میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم اس وقت کس کرب سے گزر رہے ہو۔" جب جذبات کو تسلیم کیا جاتا ہے، تو ان کی شدت آدھی رہ جاتی ہے۔ خود کلامی کے اس سفر میں ہم اکثر خود کو کوسنے لگتے ہیں کہ ہم ہی کیوں ناکام ہوئے؟ ایسے میں کونسلنگ کا فریضہ یہ بن جاتا ہے کہ وہ نوجوان کے اندر چھپے ہوئے اس تنقیدی کیڑے کو خاموش کرائے اور اسے بتائے کہ ناکامی زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک نیا موڑ ہے۔
اگر ہم نفسیاتی پہلوؤں پر نظر دوڑائیں تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ آج کا نوجوان شدید تنہائی کا شکار ہے۔ اردگرد لوگوں کا ہجوم ہے، فیس بک اور انسٹاگرام پر لاکھوں فالوورز ہیں، لیکن دل کی بات کہنے کے لیے کوئی اپنا موجود نہیں۔ یہ ڈیجیٹل دنیا ہمیں آپس میں جوڑنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت میں ہمیں ایک دوسرے سے بیگانہ کر چکی ہے۔ آئیڈیل کونسلنگ اس ڈیجیٹل سراب سے نکال کر حقیقی دنیا کے باہمی تعلقات کی طرف لوٹانے کا نام ہے۔ جب ایک نوجوان کسی ماہر یا مخلص بزرگ کے پاس بیٹھتا ہے، اور وہ بزرگ بغیر فون کی طرف دیکھے، پوری توجہ اور صبر کے ساتھ اس کی بات سنتا ہے، تو آدھی بیماریاں تو وہیں ختم ہو جاتی ہیں۔ کونسلنگ کوئی دوائی نہیں ہے جو گولی کی طرح دی جائے، یہ دراصل ایک مرہم ہے جو دبی ہوئی آواز کو باہر نکالنے اور ذہن کے بوجھ کو ہلکا کرنے کا فن ہے۔
ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ایک اچھا مشیر کیسا ہونا چاہیے؟ کیا وہ کتابی علم سے بھرا ہوا کوئی پروفیسر ہو یا کوئی پیرِ طریقت؟ نہیں، بہترین کونسلر وہ ہے جو آپ کو خود آپ سے ملوائے۔ جو آپ کے اندر جھانک کر آپ کی صلاحیتوں کو آپ کو دکھائے۔ جب ہم خود کلامی کے دوران خود سے سوال کرتے ہیں کہ "کیا میں واقعی اس قابل نہیں ہوں؟" تو ایک آئیڈیل کونسلر کا جواب یہ ہونا چاہیے کہ "تم اس سے کہیں زیادہ قابل ہو جتنا تم خود سمجھتے ہو، بس تمہیں اپنی سمت درست کرنے کی ضرورت ہے۔" وہ ہوائی قلعے بنانے کی بات نہیں کرتا، بلکہ زمین پر پاؤں رکھ کر ایک ایک قدم آگے بڑھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اگر آج کا دن برا گزرا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری زندگی اندھیری ہو چکی ہے۔
یہ سفر کٹھن ضرور ہے، لیکن ناامید نہیں۔ جب ہم اپنے نوجوانوں کو یہ باور کرواتے ہیں کہ ان کی زندگی قیمتی ہے، ان کا ہر آنسو اور ہر سسکیاں رائیگاں نہیں جا رہی، تو ان کے پاؤں میں ایک نئی توانائی دوڑ جاتی ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں ہمارے نوجوان بلا جھجھک، بغیر کسی خوفِ رسوائی کے اپنی کمزوریاں بیان کر سکیں۔ جب تک ہم انہیں سننے کے لیے اپنے دل کے دروازے کھلے نہیں رکھیں گے، تب تک ہم ان کے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ سکتے۔ آئیڈیل کونسلنگ کا نچوڑ صرف اتنا ہے کہ نوجوان کو یہ یقین دلایا جائے کہ وہ اکیلا نہیں ہے، اور اس کی ذات اس دنیا کے لیے اہم ہے۔ یہی وہ شفا بخش عمل ہے جو ایک ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ ایک بلند قامت شخصیت میں بدل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں





