عقل کے ٹھیکے دار اور وقت کے آزاد قیدی،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
نقطہ نظر
ہر محفل کا ایک غیر مکتوب قانون ہے: جب تک اس میں ایک عدد "عقلِ کُل"، ایک عدد "لیٹ لطیف" اور ایک عدد "پچھتاوے کا مہرِ منیر" موجود نہ ہو، محفل کا رنگ نہیں جمتا۔ ایک طرف وہ ہستیاں ہیں جنہیں خدا نے باقی دنیا کو جہالت کے اندھیروں سے نکالنے کا ٹھیکہ بالامقطع عطا فرمایا ہوتا ہے، دوسری طرف وہ مایہ ناز صنف ہے جن کے لیے گھڑی کی سوئیاں محض آرائش کا سامان ہیں، اور تیسری طرف وہ معززین ہیں جو پہلے تو وقت کو شاہانہ انداز میں لٹاتے ہیں اور بعد میں اس کا مرثیہ پڑھتے ہیں۔ آئیے، آج ان تینوں شاہکاروں کی قلعی ایک ساتھ لفظوں سے کھولتے ہیں!
حصہ اول: عقل کے خود ساختہ وارث
ان دانش وروں کا ماننا ہوتا ہے کہ عقل کی تمام تر روشنی انہی کے دماغ کے بلب سے پھوٹتی ہے، اور باقی دنیا محض اندھیرے میں ٹٹول رہی ہے۔ ان کی کچھ نشانیاں یہ ہیں۔ عالمِ ہر فن مولا آپ محفل میں ناسا کے خلائی مشن کی بات چیت چھیڑیں، پشاور کے چرسی تکوں کی تعریف کریں، یا موسم کے بدلتے مزاج پر تبصرہ کریں ۔
موصوف ہر موضوع پر "حتمی رائے" رکھنے کا موروثی حق رکھتے ہیں۔ ان کا جملہ ہمیشہ یہاں سے شروع ہوتا ہے: "اصل میں بات یہ ہے، جو آپ لوگ نہیں سمجھ پا رہے..."۔ تصحیحِ اغلاط کی چلتی پھرتی مشین: ان کے سامنے گفتگو کرنا بارود کے ڈھیر پر بیٹھ کر ماچس جلانے کے مترادف ہے۔ آپ نے جہاں کوئی لفظ ادھر سے ادھر کیا، ان کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں: "بھائی صاحب! وہ ۱۹۷۲ نہیں، ۱۹۷۳ کا واقعہ ہے!"۔ بندہ پوچھے، بھائی! اب کیا مڈل اسکول کا امتحان چل رہا ہے؟ "میں نے تو پہلے ہی کہا تھا!": دنیا میں کوئی بھی حادثہ ہو، سیاست کا اونٹ کسی بھی کروٹ بیٹھے، یا آپ کی چائے میں مکھی گر جائے—ان کا فوری ردعمل ہوگا: "میں نے تو پہلے ہی کہا تھا!"۔ اب یہ "پہلے" کب تھا؟ اس کا ریکارڈ صرف ان کے اپنے پاس ہوتا ہے۔
حصہ دوم: وقت کے پابند... لیکن ذرا "تاخیر" کے ساتھ!
اگر عقل کے ٹھیکے دار محفل کا دماغ ہیں، تو یہ دیر سے آنے والے اس محفل کا سسپنس ہیں۔ ان "دیرینہ" پُرکشش شخصیت کے مالکان کی عادات بھی کچھ کم نہیں۔ "بس ۵ منٹ میں پہنچ رہا ہوں!": یہ ان کا وہ آفاقی تکیہ کلام ہے جس پر دنیا کی کوئی عدالت انہیں سزا نہیں دے سکتی۔ جب یہ کہتے ہیں کہ "میں بس نکل رہا ہوں"، تو اس کا معنوی مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ابھی تولیہ کندھے پر ڈال کر واش روم کی طرف قدم بڑھایا ہے۔ پاکستانی وقت کے موجد: ان کے نزدیک نو (9) بجے کا مطلب نو بجے ہرگز نہیں ہوتا۔ اگر تقریب کا وقت آٹھ بجے کا ہو، تو یہ ساڑھے نو بجے اس طمطراق سے انٹری مارتے ہیں جیسے تقریب کا افتتاح انہی کے دستِ مبارک سے ہونا تھا۔ ان کا فلسفہ ہے کہ اہم شخصیات دیر سے ہی آتی ہیں۔ بہانوں کا لامتناہی ذخیرہ: ان کی گاڑی کا ٹائر ہمیشہ عین اسی وقت پنکچر ہوتا ہے جب انہوں نے گھر سے نکلنا ہو۔ راستے میں ٹریفک جام، اچانک آنے والے مہمان، یا چابی کا گم ہو جانا—ان کے پاس تاخیر کی ایسی ایسی سائنسی وجوہات ہوتی ہیں کہ ناسا کے سائنسدان بھی سر پکڑ لیں۔
حصہ سوم: وقت کھو کر پچھتانے والے
یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے تو وقت کو ایسے لٹاتے ہیں جیسے یہ ان کے دادا کی جاگیر ہو، اور جب وقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے، تو پچھتاوے کی ایسی محفل سجائے بیٹھتے ہیں کہ دیکھنے والے کی آنکھوں میں بھی آنسو آ جائیں:
"کل سے پکا شروع کروں گا!": یہ ان کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے جو یہ خود سے روز بولتے ہیں۔ وہ "کل" کبھی نہیں آتی۔ یہ پڑھائی ہو، ڈائٹنگ ہو، یا کوئی اہم کام—یہ اسے اس وقت تک ٹالتے ہیں جب تک پانی سر سے اونچا نہ ہو جائے۔
عین وقت پر ہاتھ پاؤں پھولنا: جب ڈیڈ لائن سر پر آ جاتی ہے، تو ان کی حالت دیکھنے والی ہوتی ہے۔ یہ پوری دنیا کو قصوروار ٹھهراتے ہیں، آسمان کی طرف دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں، اور کہتے ہیں: "یا اللہ! بس اس بار بچا لے، اگلی بار میں وقت پر کام کروں گا!" (جو کہ سراسر ایک اور جھوٹ ہوتا ہے)۔
ماضی کا نوحہ: کام بگڑنے کے بعد یہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر یہ ہر ملنے والے کو کہانی سناتے ہیں: "یار! اگر میں نے وہ دو گھنٹے ضائع نہ کیے ہوتے نا، تو آج میں کہاں سے کہاں ہوتا!"۔ اب بندہ پوچھے، جب تم وہ دو گھنٹے سوشل میڈیا پر ریلز دیکھ رہے تھے، تب یہ عقل کہاں چرنے گئی تھی؟
حاصلِ کلام:
اب ذرا اس محفل کا تصور کیجیے جہاں یہ تینوں شاہکار جمع ہوں: عقل کے ٹھیکے دار دور بیٹھ کر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں کہ وقت کی کیا اہمیت ہے، وقت کے آزاد قیدی اس لیکچر کے ختم ہونے کے دو گھنٹے بعد تشریف لاتے ہیں، اور پچھتانے والے کونے میں بیٹھ کر رو رہے ہوتے ہیں کہ "ہائے! میرا وقت ضائع ہو گیا"۔
یہ تینوں مل کر ہمارے معاشرے کا وہ توازن برقرار رکھتے ہیں جس کے بغیر زندگی بالکل پھیکی ہو جائے۔ عقل مند راستہ دکھاتا ہے، لیٹ آنے والا اس راستے پر دیر سے چلتا ہے، اور پچھتانے والا راستے میں بیٹھ کر روتا ہے! اگلی بار جب یہ آپ کو ملیں، تو سیخ پا ہونے کے بجائے مسکرائیے اور دل میں کہیے: "تم سلامت رہو ہزار برس، ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار!"





