ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جس میں سب کچھ تیز ہے: خبر تیز، فیصلہ تیز، ردِعمل تیز۔ مگر اس رفتار کے درمیان ایک خاموش بحران پروان چڑھ رہا ہے، اور وہ ہے برداشت کا فقدان۔ ہم اختلاف سننے کے روادار رہے نہ تنقید سہنے کے، اور مختلف رائے رکھنے والے کو دشمن سمجھنے میں دیر نہیں لگاتے۔ کسی بھی مصروف چوراہے پر چند منٹ کھڑے ہو جائیے۔ گاڑی ذرا سی چھو جائے تو بات تکرار سے گالم گلوچ اور کبھی کبھی ہاتھا پائی تک جا پہنچتی ہے۔ ہارن کی چیخ و پکار میں کوئی دوسرے کو راستہ دینے پر آمادہ نہیں۔ یہ محض ٹریفک کا مسئلہ نہیں، یہ اس اجتماعی مزاج کا عکس ہے جس میں "میں" سب سے اوپر اور "دوسرا" ہمیشہ قصوروار ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مزاج کو مزید ہوا دی ہے۔ اختلافِ رائے کا جواب دلیل کے بجائے طعنے، تضحیک اور کردار کشی سے دیا جاتا ہے۔ ہم وہی سنتے ہیں جو ہماری سوچ کی تائید کرے، اور ۔ نتیجہ یہ کہ ہم ایک "گونج گھر" میں قید ہو جاتے ہیں جہاں اپنی ہی آواز ہر طرف سے لوٹ کر آتی ہے اور ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ سچ صرف ہمارے پاس ہے۔
برداشت کی پہلی درس گاہ گھر ہوتا ہے، اور یہیں سے زوال کی ابتدا بھی ہوتی ہے۔ والدین بچوں کی چھوٹی سی غلطی پر برہم ہو جاتے ہیں، بچے بزرگوں کی نصیحت کو مداخلت سمجھتے ہیں، میاں بیوی کے درمیان معمولی اختلاف انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ طلاق اور خاندانی ٹوٹ پھوٹ کی بہت سی وجوہات میں ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ دونوں فریق جھکنے کو شکست سمجھتے ہیں۔ حالانکہ رشتے وہی پائیدار ہوتے ہیں جن میں کوئی ایک فریق وقت پر خاموش ہونا اور درگزر کرنا جانتا ہو۔
بچے وہی سیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔ جس گھر میں بڑے آپس میں چیخ کر بات کرتے ہوں، وہاں بچوں سے نرم گفتاری کی توقع رکھنا خود فریبی ہے۔
ہمارے نظامِ تعلیم کا زور نمبروں اور مقابلے پر ہے، مکالمے اور اختلاف کے آداب پر نہیں۔ طالب علم کو سکھایا جاتا ہے کہ جواب ایک ہی درست ہوتا ہے، اس لیے وہ زندگی بھر "دوسرا نقطۂ نظر" سننے کی مشق ہی نہیں کر پاتا۔ جب جامعات میں بھی بحث کی جگہ نعرے اور تصادم لے لیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ نصاب سے آگے کا ہے۔
مذہبی، مسلکی، لسانی اور سیاسی تقسیم نے بھی ہمیں ایک دوسرے کے لیے تنگ نظر بنا دیا ہے۔ ہم نے اختلاف کو فطری حقیقت ماننے کے بجائے اسے دشمنی کا جواز بنا لیا۔ ایک ہی محلے، ایک ہی دفتر اور کبھی ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ محض سوچ کے فرق کی بنا پر ایک دوسرے سے کٹ جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری اپنی تہذیبی اور دینی روایت برداشت کی تعلیم سے بھری پڑی ہے۔ قرآنِ مجید غصہ پی جانے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں کی تعریف کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت میں طائف کا واقعہ ہو یا فتحِ مکہ کا عام معافی کا اعلان، ہر جگہ ظرف اور وسعتِ قلبی کی اعلیٰ مثالیں ملتی ہیں۔ صوفیائے کرام نے محبت اور رواداری کو ہی پیغام بنایا۔ مگر ہم نے ان تعلیمات کو منبر اور تقریر تک محدود کر دیا اور اپنے رویوں سے بے دخل کر دیا۔
برداشت کا فقدان محض اخلاقی کمزوری نہیں، اس کے ٹھوس سماجی نتائج ہیں:
تشدد میں اضافہ: معمولی تنازعات پر قتل و غارت اور ہجوم کے ہاتھوں انصاف کے واقعات اسی عدم برداشت کا شاخسانہ ہیں۔
ذہنی دباؤ: جو شخص ہر وقت غصے اور نفرت میں جیتا ہے، وہ خود بھی بے چینی اور بلڈ پریشر جیسے مسائل کا شکار ہوتا ہے۔
سماجی تقسیم: جب مکالمہ ختم ہو جائے تو معاشرہ گروہوں میں بٹ جاتا ہے اور اجتماعی مسائل کا مشترکہ حل ناممکن ہو جاتا ہے۔
ادارہ جاتی کمزوری: سیاسی میدان میں مخالف کو برداشت نہ کرنا جمہوری روایات اور اداروں کو کھوکھلا کرتا ہے۔
اس مسئلے کا حل کسی ایک قانون یا مہم میں نہیں، بلکہ رویوں کی تعمیرِ نو میں ہے۔
پہلا قدم گھر ہے۔ والدین بچوں کو بات سننے، اختلاف کرنے اور معذرت کرنے کا سلیقہ سکھائیں، اور یہ سب سے پہلے اپنے طرزِ عمل سے۔
دوسرا قدم تعلیمی ادارے ہیں۔ مباحثہ، مکالمہ اور تنقیدی سوچ کو نصاب اور سرگرمیوں کا حصہ بنایا جائے۔ طلبہ کو یہ احساس دلایا جائے کہ دلیل سے ہارنا شرمندگی نہیں، سیکھنے کا موقع ہے۔
تیسرا قدم میڈیا اور سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ ہر خبر پر فوری ردِعمل دینے کے بجائے رک کر سوچنا، تصدیق کرنا اور شائستہ زبان اپنانا ہم سب کی انفرادی ذمہ داری ہے۔ ٹی وی مباحث میں شور اور الزام تراشی کے بجائے سنجیدہ گفتگو کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔
چوتھا قدم قیادت کا کردار ہے۔ سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنما اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کریں۔ جب رہنما مخالف کو غدار اور کافر کہنے سے گریز کریں گے تو پیروکار بھی محتاط ہوں گے۔
پانچواں قدم قانون کی بالادستی ہے۔ جب لوگ دیکھتے ہیں کہ انصاف بروقت اور بلا امتیاز ملتا ہے تو وہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے باز رہتے ہیں۔
برداشت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بات سے اتفاق کر لیں یا غلط کو غلط نہ کہیں۔ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ ہم اختلاف کو سننے، سمجھنے اور شائستگی سے بیان کرنے کا حوصلہ رکھیں۔ مہذب معاشرے وہ نہیں ہوتے جہاں اختلاف نہ ہو، بلکہ وہ ہوتے ہیں جہاں اختلاف کے باوجود لوگ ایک دوسرے کے ساتھ رہنا جانتے ہوں۔
آج ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہو گا کہ کیا ہم اپنے بچوں کو ایسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں جہاں ہر شخص دوسرے سے خوفزدہ اور نالاں ہو؟ اگر جواب نفی میں ہے تو تبدیلی کی ابتدا کسی اور سے نہیں، ہم سے ہونی چاہیے۔ ایک نرم لہجہ، ایک لمحے کا صبر، ایک معاف کر دینے والا دل، یہی وہ چھوٹی چھوٹی اینٹیں ہیں جن سے برداشت کا مضبوط معاشرہ تعمیر ہوتا ہے۔






