Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے، سعودی ولی عہد کا دوٹوک اعلان

Muhammad-Bin-Salman

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کسی بھی خطرے یا حملے کا مؤثر جواب دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا، علاقائی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل میں تعاون جاری رکھیں گے۔


العربیہ کے مطابق شوریٰ کونسل کے سالانہ اجلاس سے خطاب کے دوران یمن کی صورتحال کے حوالے سے محمد بن سلمان نے کہا کہ حوثیوں نے افراتفری، تباہی اور خطے کو دھمکانے کا انتخاب کیا ہےسعودی عرب عالمی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی پورے ملک پر اتھارٹی قائم کرنے میں مدد جاری رکھے گا۔


انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سوڈان کی وحدت اور استحکام اور اس کے قانونی اداروں کے تحفظ کی بھی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، سعودی عرب کو درپیش ہر خطرے یا حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، سعودی عرب اپنی سکیورٹی پر سمجھوتہ کیے بغیر خطے میں تناؤ ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔


محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ خطے کو بڑھتے ہوئے تنازع سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے، یقین ہے مکہ دفاعی اتحاد خطے کی سکیورٹی اور استحکام مضبوط بنانے میں معاون ہو گا۔


ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب کی افواج اور انسانی وسائل کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلا حیت رکھتے ہیں۔ خلیجی ممالک پر حالیہ حملوں نے واضح کیا ہے کہ خلیج کی سکیورٹی ناقابل تقسیم ہے۔


انہوں نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون اور اقتصادی انضمام پر زور دیااور سعودی عرب کی حمایت اور سلامتی و استحکام کے فروغ کے لیے کردار ادا کرنے پر برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا۔


محمد بن سلمان نے کہا کہ مملکت نے بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت کے لیے کثیر ملکی دفاعی بحری اتحاد کے قیام پر بھی کام شروع کردیا ہے انہوں نے واضح کیا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو سیاسی یا معاشی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے


محمد بن سلمان نے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر حملوں اور مسجد اقصیٰ کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی برادری، بالخصوص سلامتی کونسل، سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیرپا سیاسی حل تک پہنچنے میں اپنا کردار ادا کرے۔


انہوں نے کہا کہ دنیا کو توانائی بحران کا سامنا ہے، انہوں نے بین الاقوامی پانیوں کو سیاسی یا اقتصادی دباؤ کے طور پر استعمال کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود سعودی عرب نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی فراہمی جاری رکھنے کی صلاحیت کا اظہار کیا ہے۔