ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

صدر پاکستان اور جرمن ٹیکنالوجی جائنٹ سیمنز کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے درمیان اہم ملاقات


 برلن میں صدر آصف علی زرداری اور جرمن ٹیکنالوجی جائنٹ سیمنز کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ڈینیئل فرش کےدرمیان اہم ملاقات ہوئی ہے-


جرمن ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز نے پاکستان کے موجودہ ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے تعاون بڑھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے جس کے لیے کمپنی کے نمائندے جلد پاکستان آ کر مقامی پارٹنرزکے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کریں گے۔


ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق سیمنز کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ڈینیئل فریش نے ہفتے کے روز برلن میں صدر آصف علی زرداری سےملاقات کی کمپنی کے دیگر حکام بھی ان کےہمراہ تھے, صدر زرداری جمعرات کو 3 روزہ دورے پرجرمنی روانہ ہوئےتھے, پاکستان اور جرمنی اس سال سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منانے جا رہے ہیں۔


ایوانِ صدرسے جاری بیان کے مطابق ڈینیئل فریش نے صدر کو پاکستان میں کمپنی کی کامیابیوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے صحت کی سہولتوں میں آنے والی بہتری کو سندھ محکمۂ صحت کے ’منطقی طور پر مربوط اقدامات‘ کا مثبت نتیجہ قرار دیا۔


انہوں نے جدید حل اور ٹیکنالوجی کے اطلاق کے ذریعے پاکستان کے موجودہ ہیلتھ کیئر انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے جاری تعاون کو مزید بڑھانے کی آمادگی اور خواہش کا اظہار کیا۔


ایوانِ صدر کے مطابق سیمنز کے وفد نے صدر کو بتایا کہ کمپنی کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ وہ ملک کے ہیلتھ سیکٹر میں صلاحیت سازی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم اوایوز) پر دستخط کریں گے۔


وفد کا کہنا تھا کہ کمپنی کا ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر تعاون کینسر، فالج اور دیگر بیماریوں تک پھیلا ہوا ہے,صدر زرداری نے ملک میں صحت کی خدمات بہتر بنانے کے لیے تحقیق پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے حل اپنانے پر زور دیا۔


انہوں نے کہا کہ اسلام آباد سیمنز کی ہیلتھ ڈویژن جیسے اداروں کی جانب سے جرمن صنعتی، تکنیکی اور انفراسٹرکچر معاونت کو بہت اہمیت دیتا ہےیہ ڈویژن کئی دہائیوں سے پاکستان میں موجود ہے اور اس کے 3 بڑے شہروں میں 100 سے زیادہ ملازمین کام کر رہے ہیں-


صدر نے پاکستان میں سیمنز کی موجودگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور برلن کے درمیان ’وسیع اور مضبوط تر دوطرفہ شراکت داری کی دیرینہ باہمی خواہش‘ کی توثیق گزشتہ روز جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر سے ملاقات میں بھی ہو چکی ہے۔


صدر زرداری کا کہنا تھا کہ ’سستی، مگر معیاری اور اعلیٰ درجے کی معیاری صحت خدمات کی فراہمی ہر شہری کو اپنی بھرپور صلاحیتوں کے اظہار کے قابل بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ ہم معیاری صحت کی سہولتوں کی وسیع اور ہمہ گیر فراہمی کے لیے کوشاں ہیں، بالخصوص دور دراز علاقوں کے غریب عوام کے لیے‘۔


صدر زرداری نے سیمنز کو پاکستان کے ساتھ مزید روابط بڑھانے اور ملک بھر میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی ترغیب دی۔


انہوں نے کمپنی کی اعلیٰ قیادت کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے ’مکمل ادارہ جاتی تعاون‘ کی یقین دہانی بھی کرائی۔ یہ کونسل 2023 میں ملک میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔


ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، جرمنی میں پاکستان کے سفیر سلمان شریف اور سندھ کے صوبائی وزرا بھی موجود تھے۔


اس سے ایک روز قبل جمعہ کو صدر زرداری اور ان کے جرمن ہم منصب نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔ اشٹائن مائر نے علاقائی اور عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کے ’بڑھتے ہوئے سفارتی کردار‘ کی تعریف کی۔


دونوں رہنماؤں نے افغانستان سے متعلق چیلنجز پر بھی بات کی۔ صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کو ’افغان عوام سے کوئی تنازع نہیں‘، تاہم وہ دہشتگردوں کو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستانی شہریوں پر حملوں اور ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا۔


ایوانِ صدر کے مطابق جرمن صدر نے ان 500 افغان باشندوں کی تصدیق میں سہولت فراہم کرنے پر پا کستان کی تعریف کی جنہیں ’جرمنی واپس بھیجا جانا تھاانہوں نے گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ کے عر صے میں ملینز افغان باشندوں کے لیے پاکستان کی انسانی امداد کو بھی سراہا۔


ایوان صدر کے بیان کے مطابق اشٹائن مائر نے مکہ دفاعی معاہدے میں بھی نمایاں دلچسپی’ لی۔ اس معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاعی ڈیٹرنس (مشترکہ دفاعی تحفظ) ہے۔


پاکستان اور جرمنی کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات 15 اکتوبر 1951 کو قائم ہوئے تھے۔ دونوں ممالک معیشت، دفاع، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں فعال تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں,جرمنی کو پاکستانی برآمد ات گزشتہ مالی سال 26-2025 کے ابتدائی 10 ماہ میں 3.53 فیصد کمی کے ساتھ 1.369 ارب ڈالر رہیں, اس سے پچھلے سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 1.419 ارب ڈالر تھیں۔