ہفتہ، 24 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

صحبت، صبر اور کردار،تحریر:ماہ نور کنول

نقطہ نظر

انسان کی زندگی میں دو چیزیں ایسی ہیں جو خاموشی سے اس کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہیں؛ ایک وہ لوگ جن کے ساتھ وہ وقت گزارتا ہے اور دوسری وہ آزمائشیں جن سے گزر کر وہ زندگی کو سمجھنا سیکھتا ہے۔ صحبت اس کے خیالات کو سمت دیتی ہے اور آزمائشیں اس کے کردار کی گہرائی کو آشکار کرتی ہیں۔ کبھی کوئی مخلص انسان چند لفظوں سے وہ سبق دے جاتا ہے جو برسوں کی نصیحت نہیں دے پاتی اور کبھی زندگی کا ایک کٹھن مرحلہ انسان کو وہ حقیقت سمجھا دیتا ہے جسے وہ آسان دنوں میں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔

اللہ پاک نے سچوں کے ساتھ رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ یہ محض کسی نیک انسان کے قریب بیٹھنے کی بات نہیں، بلکہ اپنے دل، سوچ اور کردار کے لیے درست ماحول منتخب کرنے کی رہنمائی بھی ہے۔ انسان جس صحبت میں اٹھتا بیٹھتا ہے، رفتہ رفتہ اس کے اندازِ گفتگو، سوچنے کے طریقے اور فیصلوں پر اس صحبت کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں اگر اس کے گرد ایسے لوگ ہوں جو اسے سچ بولنے، حق کا ساتھ دینے، اپنی غلطی تسلیم کرنے اور دوسروں کی عزت کرنے کی ترغیب دیں تو اس کی شخصیت میں بھی یہی خوبیاں پروان چڑھ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہر محفل میں دوسروں کی برائی، حسد، جھوٹ اور تحقیر معمول بن جائے تو ایک حساس انسان بھی رفتہ رفتہ ان رویّوں کو معمول سمجھنے لگتا ہے۔ اسی لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ہماری زندگی میں کتنے لوگ موجود ہیں، بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ ان کی موجودگی ہماری شخصیت پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔ کیا ان کے ساتھ رہ کر ہمارے اندر نرمی، دیانت اور برداشت بڑھتی ہے؟ کیا ہم دوسروں کے دکھ کو سمجھنے لگتے ہیں؟ کیا ہم اپنی کامیابی پر شکر اور دوسرے کی کامیابی پر خوشی محسوس کر پاتے ہیں؟ یا ہماری صحبت ہمیں دوسروں سے مقابلہ کرنے، ہر بات میں اپنی برتری ثابت کرنے اور ہر اختلاف کو دشمنی سمجھنے کی طرف لے جا رہی ہے؟

اچھی صحبت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف بےعیب لوگوں کے درمیان رہے۔ دنیا میں کوئی انسان مکمل نہیں، لیکن مخلص لوگ اپنی غلطیوں کو پہچاننے اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ سچی صحبت وہ ہے جہاں غلطی پر اصلاح ہو مگر تذلیل نہ ہو؛ جہاں اختلاف ہو، مگر احترام باقی رہے؛ جہاں انسان کو اس کی کمزوری کا احساس دلانے کے بجائے اسے بہتر بننے کا راستہ دکھایا جائے۔ ایسے لوگ زندگی میں نعمت ہوتے ہیں کیوں کہ وہ صرف ہمارے اچھے وقت کے ساتھی نہیں بنتے، بلکہ مشکل وقت میں ہمارے کردار کو بکھرنے سے بھی بچاتے ہیں۔ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ کبھی حالات ہماری توقعات کے مطابق چلتے ہیں، دعائیں پوری ہوتی دکھائی دیتی ہیں اور کوششوں کے نتائج خوشی دیتے ہیں۔ پھر کبھی ایسا وقت آتا ہے جب ایک کے بعد ایک راستہ بند ہوتا محسوس ہوتا ہے، انتظار طویل ہو جاتا ہے اور انسان اپنے ہی سوالوں میں گھِر جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اس کی آزمائش صرف حالات سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ ان حالات کے زیرِ اثر اپنے کردار کو کس حد تک محفوظ رکھ پاتا ہے۔

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو تکلیف محسوس نہ ہو، اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئیں یا وہ کبھی تھکن کا اظہار نہ کرے۔ صبر یہ ہے کہ تکلیف کے باوجود انسان ناامیدی کو اپنے فیصلوں پر حاوی نہ ہونے دے، اپنے اصولوں سے منہ نہ موڑے اور مشکل وقت میں بھی کسی کے ساتھ ناانصافی نہ کرے۔ کبھی صبر خاموشی سے انتظار کرنے میں ہوتا ہے، کبھی درست راستے پر مسلسل کوشش کرتے رہنے میں اور کبھی اس حقیقت کو قبول کرنے میں کہ ہر معاملہ ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہو سکتا۔ آزمائشیں طویل ہوں تو انسان کا حوصلہ کمزور پڑ سکتا ہے۔ وہ سوچ سکتا ہے کہ اتنی دعاؤں اور کوششوں کے باوجود آسانی کیوں نہیں آ رہی مگر تاخیر کو محرومی کا قطعی فیصلہ سمجھ لینا درست نہیں۔ ہم زندگی کے ہر معاملے کا انجام پہلے سے نہیں جانتے۔ کبھی جس راستے کو ہم اپنے لیے بہترین سمجھ رہے ہوتے ہیں، اس کے بارے میں ہماری معلومات نامکمل ہوتی ہیں۔ اس لیے اللہ پاک پر یقین رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر سوال کا جواب فوراً حاصل کر لیں، بلکہ یہ ہے کہ جواب نہ ملنے کے باوجود اپنی کوشش، دعا اور درست عمل کا دامن نہ چھوڑیں۔

البتہ صبر کے نام پر اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جانا یا نقصان دہ حالات کو بہتر بنانے کی کوشش ہی نہ کرنا بھی درست نہیں اگر کوئی مسئلہ حل طلب ہے تو اس کے لیے مناسب قدم اٹھانا چاہیے اگر کسی معاملے میں رہنمائی درکار ہے تو کسی قابلِ اعتماد شخص سے مشورہ کرنا چاہیے اور اگر اپنی غلطی سامنے آ جائے تو اسے تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔ اللہ پاک پر توکل انسان کو بےعمل نہیں بناتا، بلکہ اسے امید کے ساتھ کوشش کرتے رہنے کی قوت دیتا ہے۔

یہاں اچھی صحبت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ مشکل وقت میں ایسے لوگوں کا ساتھ بہت قیمتی ہوتا ہے جو انسان کو اللہ پاک کی رحمت سے مایوس نہ ہونے دیں مگر اس کی تکلیف کو معمولی بھی نہ سمجھیں؛ جو اسے صبر کی تلقین کریں مگر اس کے دکھ سننے سے گریز نہ کریں؛ جو اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں مگر اس پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔ بعض اوقات کسی مخلص انسان کی موجودگی مسئلے کو فوراً حل نہیں کرتی، لیکن انسان کو اس قابل ضرور بنا دیتی ہے کہ وہ مسئلے کا سامنا تنہا محسوس کیے بغیر کر سکے۔ ہمیں اپنے تعلقات میں بھی یہی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف خوشی کے موقع پر مبارک باد دینا اور کامیابی پر تعریف کرنا کافی نہیں۔ کسی کی ناکامی میں اس کا مذاق نہ اڑانا، اس کی غیرموجودگی میں اس کی عزت محفوظ رکھنا، اس کی غلطی پر مناسب انداز میں سمجھانا اور اس کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دینا بھی خلوص کا حصہ ہے۔ جو لوگ دوسروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، وہ وقتی طور پر اپنی برتری ثابت کر سکتے ہیں لیکن جو لوگ کسی کی کمزوری کو اس کی اصلاح اور بہتری کا موقع بناتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں کردار سازی میں حصہ لیتے ہیں۔ ہم اکثر چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں اچھے لوگ آئیں، ہماری آزمائشیں آسان ہوں اور ہماری دعاؤں کے جواب ہماری خواہش کے مطابق ملیں؛ مگر اس خواہش کے ساتھ ہمیں اپنے آپ سے بھی ایک سوال کرنا چاہیے: کیا ہم خود بھی کسی کے لیے اچھی صحبت ثابت ہو رہے ہیں؟ کیا ہماری موجودگی کسی کو بہتر انسان بننے میں مدد دیتی ہے؟ کیا ہمارے الفاظ کسی تھکے ہوئے دل کو حوصلہ دیتے ہیں یا اس کی تکلیف میں اضافہ کرتے ہیں؟ اور جب ہم خود آزمائش سے گزرتے ہیں تو کیا ہمارا رویہ ہمیں اپنے رب کے قریب کرتا ہے یا دوسروں کے لیے ہمارے دل میں تلخی پیدا کر دیتا ہے؟

زندگی کا حسن صرف آسانیوں میں نہیں، بلکہ ان رویّوں میں بھی ہے جو ہم مشکل وقت میں اختیار کرتے ہیں۔ اچھی صحبت ہمیں درست سمت دکھاتی ہے، جبکہ صبر اس سمت پر قائم رہنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک ہمیں بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتا ہے اور دوسرا ہمیں مشکل حالات میں بھی اپنے کردار کی حفاظت کرنا سکھاتا ہے۔ اس لیے اپنے اردگرد ایسے لوگوں کا انتخاب کیجیے جن کے ساتھ رہ کر آپ کے اندر خیر بڑھے اور خود بھی کسی کی زندگی میں خیر کا سبب بننے کی کوشش کیجیے۔آزمائشیں طویل ہوں تو اللہ پاک سے امید قائم رکھیے، اپنی استطاعت کے مطابق کوشش جاری رکھیے اور یاد رکھیے کہ صبر کا صلہ ہمیشہ ہماری توقع کے مطابق یا ہماری پسندیدہ صورت میں نہیں آتا مگر اللہ پاک کی رحمت سے مایوس ہوئے بغیر درست راستے پر چلتے رہنا کبھی بےمعنی نہیں ہوتا۔ آخرکار، انسان کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ کتنی مشکلات سے نکل آیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان مشکلات سے گزرتے ہوئے اس نے اپنے اندر کتنی انسانیت، سچائی اور خلوص محفوظ رکھا کیوں کہ اچھے لوگوں کی صحبت زندگی کو سنوارنے میں مدد دیتی ہے اور صبر انسان کو اس وقت بھی اپنے اصولوں پر قائم رہنا سکھاتا ہے جب حالات اس کے لیے آسان نہ ہوں۔