جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دن بدن شدت اختیار کر رہی ہے،وزیر قانون

Azam-Nazeer-Tarar

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ  خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دن بدن شدت اختیار کر رہی ہے اور گزشتہ 4 ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔


پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گزشتہ روز دونوں ایوانوں سے ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ آج مشترکہ اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اس کی توثیق کی جا رہی ہے، جس کی منظوری ضروری ہے، اسی مقصد کے لیے مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ 


انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ دن بدن شدت اختیار کر رہی ہے اور گزشتہ 4 ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔


وزیر قانون کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2025ء تک دہشت گردی کے 3 ہزار 700 سے زائد واقعات پیش آچکے تھے، جب کوئی صوبہ بدامنی کی لپیٹ میں ہو تو سیاست روک کر ریاست کو ترجیح دینے کا وقت ہوتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی تمام تر توجہ سیاست پر مرکوز تھی۔


اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ اگر کسی صوبے کے معاملات آئینی طریقۂ کار سے ہٹ کر چلائے جا رہے ہوں تو گورنر صدرِ مملکت کو خط لکھتا ہے، صدرِ مملکت نے اطمینان کرنے کے بعد وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کی خیبرپختونخوا میں حالات اتنے سنگین ہونے کے باوجود فرانزک لیبارٹری موجود نہیں، جبکہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کا ڈھانچہ بھی مکمل نہیں تھ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے تک تمام صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دی، اب اس ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کرنا پارلیمنٹ کے مشتر کہ اجلاس کا اختیار ہے-