Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

خاتون صحافیوں کو جنسی ہراساں کرنے کا واقعہ، پولیس افسر کے خلاف تحقیقات شروع


نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران خاتون صحافی نے دہلی پولیس کے اے سی پی وویک بھگت پر بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔


معاملے کی تحقیقات دہلی پولیس کی کرائم برانچ کر رہی ہے، جبکہ پولیس نے ان کی کردار کشی کے لیے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو کے ایک الگ کیس میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔


اے سی پی وویک بھگت کا نام جون 2026 میں اس وقت نمایاں ہوا تھا جب چیف جسٹس آف انڈیا سے متعلق احتجاج کے دوران جنتر منتر اور کناٹ پلیس کے علاقوں میں ایک ہجوم نے مبینہ طور پر انہیں گھیر لیا اور تشدد کا نشانہ بنایا,واقعے میں ان کے دانت ٹوٹ گئے اور انہیں متعدد چوٹیں آئیں ڈپٹی کمشنر پولیس وینیت کمار نے مداخلت کرکے انہیں ہجوم سے نکالا، جس کے بعد وہ کئی ہفتے طبی رخصت پر رہے , صحت یا بی کے بعد انہوں نے کناٹ پلیس سرکل میں اے سی پی کی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لیں۔


2 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں کشیدگی پیدا ہوئی,احتجاج میں موجود بعض خواتین صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر بدسلوکی اور جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیےایک خاتون نےالزام لگایا کہ اس نے موقع پر خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی کےبارے میں وویک بھگت سے سوال کیاجس کے بعداس کیساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا گیا اور اسے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ مجموعی طور پر 3 خواتین نے 3 پولیس افسران کےخلاف شکایا ت درج کرائیں، جس کے بعد معا ملہ کرائم برانچ کے سپرد کردیا گیا۔


اس دوران پولیس کی تحقیقات میں ایک الگ معاملہ بھی سامنے آیا۔ پولیس کے مطابق ہریانہ کے ضلع نوح کے رہائشی ندیم احمد نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے وویک بھگت کی ایک قابلِ اعتراض اور جعلی ویڈیو تیار کی اور اسے سوشل میڈیا پر پھیلایا،پولیس کا دعویٰ ہے کہ ویڈیو کا مقصد افسر کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا ندیم احمد کو گرفتار کرلیا گیا ہے،تفتیش کار یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ویڈیو کی تیاری اور پھیلاؤ کے پیچھے کوئی وسیع تر سازش تو نہیں تھی۔