مودی حکومت نے دہائیوں بعدجنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ واپس لے لیا گیا

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں احتجاج کے لیے مشہور مقام جنتر منتر کو 33 سال بعد باضابطہ احتجاجی مقام کی حیثیت سے ختم کردیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دہلی پولیس نے پیر کو جاری حکم نامے میں کہا کہ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ یہ مقام 1993 میں احتجاجی مظاہروں کے لیے مختص کیا گیا تھا، جہاں مزدور تنظیمیں، سابق فوجی، طلبہ، خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ اور بدعنوانی کے خلاف سرگرم کارکن اپنے مطالبات پیش کرتے رہے ہیں۔
یہ مقام بھارتی پارلیمنٹ اور سرکاری دفاتر کے قریب واقع ہے، جس کی وجہ سے مظاہرین کے لیے حکمرانوں اور ذرائع ابلاغ تک اپنی آواز پہنچانا آسان تھا،جبکہ یہ فیصلہ حکومت مخالف نوجوانوں کی تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے احتجاج کے چند روز بعد سامنے آیا ہے یہ تنظیم انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے خلاف مظاہرے کررہی ہے ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس عمل سے اہل ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوسکتے ہیں۔
دہلی پولیس نے اپنے فیصلے کے دفاع میں سپریم کورٹ کی ہدایت کا حوالہ دیا ہے، جس کے مطابق احتجاج کے لیے مناسب متبادل مقامات مختص کیے جانے چاہییں۔ حکام نے دہلی میں مظاہروں کے لیے 3 متبادل مقامات کی نشاندہی کی ہے، جن میں شہر کے وسط میں واقع رام لیلا میدان بھی شامل ہے۔
تاہم کارکنوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مقامات کو شہر کے مرکزی حصے سے دور منتقل کرنے سے مظاہروں میں شرکت، ذرائع ابلاغ کی توجہ اور احتجاج کے اثرات کم ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب جنتر منتر کے قریبی رہائشیوں نے مظاہروں کے باعث سڑکوں کی بندش، شور اور گند گی کی شکایات کرتے ہوئے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہےاحتجاجی گروہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس پابندی کے باوجود اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں



