دیارِ غیر کی طرف سفر اور اپنا وطن،تحریر:عبدالحفیظ شاہد
نقطہ نظر
رات کے کسی پہر جب ہوائی اڈوں کی روشنیاں پوری آب و تاب کے ساتھ جگمگا رہی ہوتی ہیں اور ان روشنوں کے بیچ مسافروں کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے، تو انسان کے دل میں ایک عجیب سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ہر چہرے پر ایک امید، ہر آنکھ میں ایک خواب، اور ہر رات کے سناٹے میں ایک دعا چھپی ہوتی ہے۔ نوجوان لڑکے، تعلیم یافتہ انجینئر، محنت کش مزدور، ڈاکٹر، ماہرین مختلف پیشوں کے حامل لوگ اپنے پاسپورٹس کو مضبوطی سے تھامے، اپنے سامان کو گلے لگائے اور بے یقینی کے احساس کے ساتھ قدم بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے پیچھے ان کے گھر، خاندان کے چہرے، یادوں کے مناظر، خوشیوں کے لمحات، بچوں کی مسکان اور ماں کے دعائیہ چہرے موجود ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی وہ کسی ایسے سفر کی طرف جو ان کے لیے امید، روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور روشن کل کی ضمانت ہو،نکل پڑتے ہیں۔
یہ منظر صرف کسی فلم یا ڈرامے کا نہیں بلکہ یہ حقیقت ہےجس کا سامنا روزانہ بہت سارے خاندانوں کو دکھی دل کے ساتھ کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں نوجوان قوت، ہنر، صلاحیت، تخلیقی ذہانت اور جذبوں سی مزین ہیں۔ وہاں بھی بیرونِ ملک جانے کا رجحان حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔
ایسی صورتحال میں بہت سارے سوالات تو جنم لیتے ہیں۔
آخر کیوں اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنا وطن چھوڑ کر دیارِ غیر کی طرف رخ کرتے ہیں؟ کیا واقعی دیگر ممالک میں سب کچھ بہتر ہے یا ہم نے اپنے وطن کی خوبیوں کو نظر انداز کر دیا ہے؟
دنیا بھر میں جب آبادی، امورِ معیشت اور روزگار کے حوالے سے جائزے کیے جاتے ہیں تو خاص طور پر بین الاقوامی تنظیمیں جیسے بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (International Labour Organization) اس بات کا اعادہ کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر افراد اپنی قابلیت اور مہارت کے حامل ہونے کے باوجود بہتر مواقع کی تلاش میں دیگر ممالک کی طرف جاتے ہیں۔ ان جائزوں میں یہ بات اہم طور پر سامنے آتی ہے کہ ایک فرد کے لیے بہتر معاشی، سماجی اور تربیتی مواقع زندگی کی معیار کو بہتر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان کی صورتحال بھی اسی عالمی تناظر کا ایک حصہ ہے، مگر ساتھ ہی اس میں کچھ منفرد پہلو بھی موجود ہیں جو وطن، خاندان اور انسانیت کے درمیان ایک سنجیدہ کشمکش پیدا کرتے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان بہت سی شعبوں میں اپنی قابلیت، تعلیمی قابلیت، تحقیق اور مہارت کے ساتھ ترقی کر سکتے ہیں۔ مگر ملک میں موجود کچھ بیرونی اور اندرونی چیلنجز ان صلاحیتوں کو پورا استعمال ہونے نہیں دیتے، جس کی وجہ سے نوجوانوں میں بیرونِ ملک جانے کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔
پاکستان کے معروف سرکاری محکمے جو امیگریشن اور مزدور نقل و حرکت پر جائزہ لیتے ہیں، مختلف رپورٹس میں یہ اعادہ کیا جاتا ہے کہ ہر سال پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگ خلیجی ممالک، یورپ اور دیگر خطوں کی طرف روزگار، بہتر تنخواہوں، بہتر سہولیات اور بہتر معیارِ زندگی کی تلاش میں روانہ ہوتے ہیں۔ ان میں نہ صرف کم تعلیم یافتہ افراد شامل ہوتے ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں جو اپنی قابلیت اور مہارت کو عالمی سطح پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
بیرونِ ملک جانے کے پیچھے سب سے بڑی وجہ معاشی مشکلات اور روزگار کے محدود مواقع ہیں۔ ایک نوجوان جب اپنی محنت سے تعلیم مکمل کرتا ہے تو وہ زندگی میں آگے بڑھنے، بہتر تنخواہ حاصل کرنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ مگر جب اسے ملازمت تلاش کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں یا ملازمت اس کی تعلیم اور صلاحیت کے مطابق نہیں ملتی تو وہ فطری طور پر بیرونِ ملک کی راہ اختیار کرتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں، مثلاً خلیجی ممالک، یورپ اور شمالی امریکہ میں، ہر شعبے کے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ وہاں نہ صرف بہتر تنخواہیں دی جاتی ہیں بلکہ کام کے ساتھ سماجی تحفظ، صحت و تعلیم کی سہولتیں، ریٹائرمنٹ کے پلان اور دیگر فوائد بھی دستیاب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے نوجوانوں کے دل و دماغ دونوں متاثر ہوتے ہیں۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ کئی ممالک میں ایک شفاف اور منظم نظام موجود ہوتا ہے جس کے تحت محنت کا صلہ نسبتاً بہتر ملتا ہے۔ پاکستان جیسی معیشت میں جہاں روزگار کے مواقع ابتداء سے ہی محدود ہیں، نوجوان خود کو مجبور محسوس کرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے خاندان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، معاشی تحفظ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں تو انہیں بیرونِ ملک جانا ضروری ہے۔
لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ اگر ہم انصاف سے دیکھیں تو پاکستان میں بھی بہت چیزیں ایسی ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں کم نظر آتی ہیں۔ پاکستان کے اندر خاندانی نظام ایک مضبوط اکائی ہے۔ یہاں خاندان، برادری اور دوست ایک دوسرے کے ساتھ مشکل وقت میں بھی کھڑے رہتے ہیں۔ جب کسی فرد کو کسی مشکل کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے رشتوں سے قوت حاصل کرتا ہے۔ مغربی معاشروں میں جہاں اکثر افراد تنہائی اور الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور رہتے ہیں، پاکستان میں انسان کو انسان کا سہارا ملتا ہے۔ یہی باہمی رشتے، محبتیں، تعاون اور ضرورت کے وقت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کی عادت ہمارے معاشرے کو ایک طاقت عطا کرتی ہے جو بیرونی دنیا میں کم ہی نظر اتی ہے۔
اسی طرح پاکستان قدرتی وسائل اور خوبصورتی سے مالا مال ہے۔ شمالی علاقوں کی برف پوش چوٹیاں، دل کو پرسکون کرنے والی وادیاں، پنجاب کے سرسبز کھیت، سندھ کے پرامن دریا، بلوچستان کے وسیع صحرا اور ملک کے تاریخی شہر یہ سب کچھ پاکستان کو ایک منفرد مقام دیتے ہیں۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایسی جغرافیائی تنوع اور قدرتی وسائل سے محروم ہیں، مگر ہم ان وسائل کا بھرپور استعمال شاید پوری طرح نہیں کر پا رہے۔ اگر ان وسائل کو بہتر منصوبہ بندی، ذمہ دارانہ استفاده اور جامع حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو پاکستان نہ صرف زراعت کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنا مقام بنا سکتا ہے بلکہ سیاحت، معدنیات، پانی کے ذخائر اور موسمیات سے متعلق معیشت میں ترقی کی راہیں بھی کھول سکتا ہے۔
پاکستان کی ایک بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک عظیم حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، یعنی وہ لوگ جو عمر کے
لحاظ سے 15 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ یہ وہ عمر ہے جب انسان کے اندر توانائی، تخیل، جستجو اور محنت سب ایک ساتھ موجزن ہوتے ہیں۔ اگر اس جوان قوت کو مناسب مواقع، معیاری تعلیم، تربیت اور صحیح رہنمائی ملے تو وہ ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک اس وقت افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں، جبکہ پاکستان کے پاس نوجوانوں کی شکل میں ایک عظیم سرمایہ موجود ہے۔ یہی نوجوان اگر اپنے ملک میں رہ کر تعلیم، کارکردگی اور تحقیق کے شعبوں میں لگن سے کام کریں تو پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ عالمی ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ مقابلہ بھی کر سکتا ہے۔
پاکستانی معاشرہ مذہبی اور اخلاقی اقدار سے بھی مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں انسانیت، مہمان نوازی اور سخاوت کی روایت آج بھی زندہ ہے۔ ایک اجنبی شخص بھی اگر کسی پاکستانی کے گھر پہنچ جائے تو اسے عزت اور محبت کے ساتھ بٹھایا جاتا ہے۔ لوگ اپنے رشتوں میں محبت اور احترام کی مثال قائم کرتے ہیں۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو کسی قوم کی اصل شناخت بناتی ہیں اور ان کے اثرات نہ صرف فرد کی زندگی پر بلکہ معاشرتی کردار پر بھی نمایاں ہوتے ہیں۔
تاہم ان سب خوبیوں کے باوجود ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کو کئی شعبوں میں حقیقی بہتری کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلی اور واضح ضرورت ایک مضبوط اور مستحکم معاشی نظام کی ہے۔ جب تک ملک میں صنعتیں، کاروبار، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع بڑھائے نہیں جائیں گے، روزگار کے مواقع محدود رہیں گے۔ نوجوان جب اپنے ملک میں روزگار یا کاروبار کے مواقع دیکھتے ہیں تو وہ پھر بیرونِ ملک کی طرف رخ کرتے ہیں۔ بہتر مالیاتی پالیسیاں، کاروباری مواقع، مضبوط صنعتیں اور چھوٹے بڑے کاروباروں کی ترقی ملک کی روزگار کی صورتحال کو بہتر بنا سکتی ہیں۔
دوسری اہم چیز تعلیم کا معیار ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام اگرچہ بڑے پیمانے پر موجود ہے، مگر وہ واقعی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہو سکا۔ بہت سے نوجوان ڈگری حاصل کرتے ہیں مگر عملی میدان میں کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اگر تعلیم کو عملی اور ہنر کی تربیت، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدید معیار کے ساتھ منسلک کیا جائے تو نوجوانوں کو نہ صرف بہتر سمجھ بوجھ حاصل ہوگی بلکہ وہ صنعت اور معاشی ترقی کے شعبوں میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اسی طرح انصاف اور میرٹ کا مضبوط نظام بھی بے حد ضروری ہے۔ جب لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ محنت، قابلیت اور اصولی معیار پر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا تو وہ اپنے ملک کو چھوڑنے کے بارے میں کم سوچیں گے۔ بدقسمتی سے اکثر لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہاں سفارش اور طاقت کا نظام غالب ہے۔ ایسی سوچ نوجوانوں میں عدم اعتماد پیدا کرتی ہے، جس سے وہ بیرونِ ملک کے صاف، شفاف اور منصفانہ نظام کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ سوچ ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اسے ختم کیا جائے۔
حکومتی فیصلوں اور پالیسیوں میں تسلسل بھی بہت اہم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کا ایک راز یہ ہے کہ وہاں طویل المدتی منصوبے بنائے جاتے ہیں اور حکومتیں بدلنے کے باوجود انہیں جاری رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں اکثر ترقیاتی منصوبے صرف چند برسوں کے لیے بنائے جاتے ہیں اور جیسے ہی سیاسی قوت بدلتی ہے، وہ منصوبے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر پالیسیوں میں تسلسل پیدا کیا جائے اور ہر شعبے میں مستقل ترقیاتی روڈ میپ ترتیب دیا جائے تو معیشت اور ترقی دونوں مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
ایک اور ضروری نکتہ صحت، سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات ہے۔ اگر ہر شہری کو معیاری صحت کی سہولتیں، محفوظ معاشرتی ماحول، تعلیم، صاف پانی، اور بنیادی ضروریات تک آسان رسائی حاصل ہو تو لوگوں کے دلوں میں اپنے وطن میں رہنے اور ترقی کرنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔ جب ایک فرد کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی زندگی، خاندان اور مستقبل ملک میں محفوظ ہے تو وہ پاکستان کو اپنے لیے بہتر مقام سمجھنے لگتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے تمام لوگ ہمیشہ کے لیے اپنا وطن نہیں چھوڑتے۔ ان کے دل میں اپنے ملک کے لیے محبت زندہ رہتی ہے۔ بہت سے پاکستانی بیرونِ ملک محنت کر کے زرمبادلہ بھیجتے ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے اہم سہارا بنتا ہے۔ ان کی جدوجہد اور قربانیاں پاکستان کے لوگوں کے لیے امید کا سبب بنتی ہیں، اور یہی زرمبادلہ ملک کی معیشت، روزگار اور سماجی استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان تمام حقیقتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ایک ایسی سرزمین ہے جس میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ یہاں کی مٹی میں محبت بھی ہے، وسائل بھی ہیں اور نوجوانوں کی توانائی بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنی کمزوریوں کو تسلیم کریں اور ان کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ، عملی اور مربوط کوششیں کریں۔ اگر روزگار کے مواقع بڑھ جائیں، تعلیم بہتر اور عملی ہو جائے، انصاف کا نظام مضبوط ہو، سماجی تحفظ اور سہولتیں بہتر ہوں اور نوجوانوں کو اپنے ملک میں ترقی کے ہر ممکن مواقع مہیا کیے جائیں تو وہ دن دور نہیں جب یہی نوجوان جو آج دیارِ غیر کا رخ کر رہے ہیں، فخر سے کہیں گے کہ انہیں اپنے خواب پورے کرنے کے لیے اپنے وطن کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑی۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ انسان جہاں بھی چلا جائے، اس کے دل میں اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اور جب وطن خود اپنے لوگوں کے لیے امید اور مواقع کا گھر بن جائے تو پھر کوئی بھی دل اسے چھوڑنے کے بارے میں ترجیح نہیں دیتا۔
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ جو نوجوان جو لائق، ذہین، فطین اور محنتی بیٹے اور بیٹیاں ہیں، یہ جو تعلیم اور ہنر کے خزانے اپنے ساتھ لیے ہوئے ہیں مگر بعض اوقات مجبوری کے عالم میں بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہیں، ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ ان کے دلوں میں سکون، دماغوں میں بصیرت اور ہاتھوں میں مواقع عطا کرے تاکہ وہ اپنے علم اور ہنر کے ذریعے اپنے وطن کی خدمت کر سکیں۔
اللہ کرے کہ پاکستان دنیا میں نمایاں مقام حاصل کرے اور آنے والی نسلیں اس کی عظمت دیکھ کر متاثر ہوں۔ نوجوانوں کو اپنے وطن میں رزق اور روزگار کے بہترین مواقع میسر ہوں تاکہ وہ اپنی محنت، قابلیت اور صلاحیت کو پاکستان میں استعمال کر کے ترقی کر سکیں۔ ملک کی زمین، پانی، وسائل اور ہر ذرہ ان کے لیے امید اور خوشحالی کا ذریعہ ثابت ہو۔آمین۔
مزید پڑھیں





