Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ظرف اور ہم،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

انسانی زندگی کا سارا حسن رشتوں کی نزاکت اور باہمی تعلقات کی شفافیت پر منحصر ہے، مگر ان تعلقات کی بنیاد جس اخلاقی وصف پر کھڑی ہوتی ہے، اسے ہم ظرف کہتے ہیں۔ ظرف دراصل انسان کے باطن کا وہ نادیدہ پیالہ ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر کس قدر وسعت، برداشت اور ضبط سمو سکتا ہے۔ یہ محض ایک ادبی یا فلسفیانہ اصطلاح نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا عملی رویہ ہے جو روزمرہ کی زندگی میں ہماری گفتگو، ہمارے فیصلوں اور دوسروں کے ساتھ ہمارے برتاؤ سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہم زندگی بھر لوگوں سے شکوہ کناں رہتے ہیں کہ وہ ہماری قدر نہیں کرتے، ہماری اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے یا ہمارے اخلاص کی لاج نہیں رکھتے، لیکن کبھی پلٹ کر اپنے باطن کے آئینے میں نہیں جھانکتے کہ آیا ہمارا اپنا ظرف دوسروں کے ساتھ تعلق نبھانے کے قابل ہے بھی یا نہیں۔ کسی محفل میں، کسی خاندان میں یا معاشرے کے کسی بھی دائرے میں خود کو محترم اور باوقار بنانے کا راستہ دوسروں کے بدلنے سے نہیں بلکہ خود اپنے اندر مثبت اور عمیق تبدیلیاں لانے سے ہموار ہوتا ہے۔

تعلقات میں سب سے پہلی اور بنیادی تبدیلی غصے اور اشتعال کے وقت اپنے ردعمل پر قابو پانا ہے۔ عام طور پر تعلقات اسی وقت تار تار ہوتے ہیں جب معمولی سی تکرار پر انسان اپنے احساسات اور زبان سے باہر ہو جاتا ہے، پرانے احسانات جتلانے لگتا ہے یا سامنے والے کی کمزوریوں کو نشانہ بناتا ہے۔ عالی ظرف انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ بدلہ لینے کی قوت رکھتے ہوئے بھی خاموشی اور درگزر کا رستہ چنتا ہے۔ جب آپ دوسروں کی غلطیوں پر فوری ردعمل دینے کے بجائے فراخدلی سے معاف کرنے کی عادت اپنا لیتے ہیں، تو سامنے والے کی نگاہ میں آپ کا قد خود بخود اونچا ہو جاتا ہے۔ عزت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی، یہ انسان کے تحمل اور وقار کا وہ صلہ ہے جو دلوں پر دستک دیے بغیر حاصل ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی انا کے خول سے نکلے اور دوسروں کی رائے کو بھی اسی احترام کے ساتھ سنے جس کی وہ اپنے لیے توقع رکھتا ہے۔

دوسروں کے ساتھ اپنے رویے کو بہتر بنانے کا ایک اور اہم زینہ یہ ہے کہ تعلق نبھاتے وقت اپنی ذات کے فائدے یا تعریف کی چاہ کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ جب کوئی شخص اپنے اندر یہ تبدیلی لے آتا ہے کہ وہ کسی کے کام آنے پر کریڈٹ لینے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتا، کسی کا راز جان کر اسے زمانے بھر میں اچھالنے سے گریز کرتا ہے، اور کسی کی کامیابی پر بغض یا حسد کے بجائے سچے دل سے مسرت کا اظہار کرتا ہے، تو معاشرہ خود بخود اسے ایک نایاب اور قابلِ قدر وجود کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے۔ کم ظرفی انسان کو شکی، حاسد اور تنگ نظر بنا دیتی ہے جہاں وہ ہر لمحہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے مواقع تلاش کرتا ہے، جبکہ باظرف انسان دوسروں کو اٹھا کر خود بلند مقام پاتا ہے۔ اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ زمانے میں ہماری قدر ہو اور ہمارے تعلقات مضبوط و دیرپا بنیں، تو ہمیں چھوٹی باتوں کو نظرانداز کرنے کا ہنر سیکھنا ہوگا، زبان کی مٹھاس اور دل کی وسعت کو مستقل رویہ بنانا ہوگا، اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ باطن کا ظرف جتنا گہرا ہوگا، انسان کا سماجی اور اخلاقی وجود اتنا ہی لازوال اور معتبر ٹھہرے گا۔