زندگی کے تنگ اور پیچیدہ راستوں میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں جب میں خود کو ہجوم میں بھی بالکل اکیلی، تنہا اور بے آسرا کھڑی محسوس کرتی ہوں۔ ہر طرف گہرا اندھیرا چھایا ہوتا ہے، ایک ایسی خاموشی ہوتی ہے جو کانوں میں چیختی ہے، اور سامنے پھیلا ہوا راستہ دھند میں گم ہو جاتا ہے۔ نہ کوئی قدم آگے بڑھتا ہے، نہ پیچھے ہٹنے کی ہمت ہوتی ہے۔ ایسے میں دل بجھ سا جاتا ہے اور لگتا ہے جیسے اب کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔
پھر میں ہمت کر کے، ذرا سی ایڑی اٹھا کر، امید بھری، بھیگی آنکھوں سے راستے کے اس پار دیکھتی ہوں تو مجھے دور، بہت دور ایک چھوٹی سی مشعل جلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ وہ ہوا کے تیز جھونکوں سے لرزتی تو ہے، کبھی دائیں جھکتی ہے کبھی بائیں، مگر بجھتی نہیں۔ اس کا بجھنا شاید میری ہار ہوتی، اس لیے وہ جلتی رہتی ہے۔
یہ مشعل کوئی عام روشنی نہیں ہے۔ یہ کسی بازار سے خریدی ہوئی روشنی نہیں، یہ دنیا کی عارضی چکاچوند نہیں۔ یہ اس اندھیرے راستے میں مدھم سی مگر بہت پیاری، بہت اپنائیت بھری روشنی پھیلاتی ہے۔ اس کی روشنی تیز نہیں ہوتی کہ آنکھیں خیرہ کر دے، بلکہ اتنی نرم اور اتنی ہی ہوتی ہے کہ میں اپنے راستے میں بکھرے ہوئے نوکیلے کانٹوں، چھپے ہوئے پتھروں اور فریب دینے والے گڑھوں کو صاف دیکھ سکوں، انہیں چن سکوں اور اپنے قدم سنبھل سنبھل کر رکھ سکوں۔
اسی مدھم روشنی کی بدولت میرے نازک پاؤں زخمی ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں گرنے ہی والی تھی، لوگوں کی باتوں نے مجھے توڑ دیا تھا، مگر اس روشنی نے مجھے سنبھال لیا۔ یہ مجھے صرف راستہ نہیں دکھاتی، بلکہ مجھے چلنے کا نیا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ابھی سفر ختم نہیں ہوا۔
پھر تھک کر جب میں کسی پتھر پر بیٹھ جاتی ہوں تو دل میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ مشعل کس نے روشن کی ہے جو میرے اندھیرے راستے کو اتنے پیار سے روشن کر رہی ہے؟ کون ہے جو میرے گرنے سے پہلے ہی روشنی بھیج دیتا ہے؟ کون ہے جو مجھے تنہا نہیں چھوڑتا؟
تو دل بڑے یقین سے، بڑے سکون سے جواب دیتا ہے کہ یہ مشعل امید کی ہے۔ یہ وہ امید ہے جو مجھے کبھی گھپ اندھیروں میں بھی مایوس نہیں ہونے دیتی۔ یہ وہ یقین ہے کہ اندھیرے کے بعد روشنی ضرور ہے، ہر رات کے بعد صبح ضرور ہے۔
درحقیقت یہ میرے رب کی خاص رحمت ہے، اس کی خاموش مدد ہے جو مجھے بے آسرا ہونے سے بچا لیتی ہے، مجھے گرنے سے پہلے تھام لیتی ہے۔ جب سارے سہارے چھوٹ جاتے ہیں، جب اپنے بھی انجان بن جاتے ہیں تو یہی ایک سہارا باقی رہ جاتا ہے جو کبھی ہاتھ نہیں چھوڑتا۔ اور مجھے اپنی اس امید کی مشعل پر بہت فخر ہے، بہت ناز ہے۔
آج میں جان گئی ہوں کہ زندگی میں اندھیرا کتنا بھی گہرا کیوں نہ ہو، اس مشعل کو بجھنے نہیں دینا۔ کیونکہ یہ مشعل ہی میری زندگی ہے، میرا ایمان ہے، میرا صبر ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں صرف اس روشنی میں اپنا راستہ نہیں دیکھوں گی، بلکہ خود بھی کسی اور کے اندھیرے راستے کے لیے ایک چھوٹی سی مشعل بن جاؤں گی۔ تاکہ کل کوئی اور بھی یہ کہہ سکے کہ اندھیرے میں اسے بھی ایک روشنی نظر آئی تھی۔ بس میری یہی دعا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک، آخری قدم تک یہ مشعل میرے ہاتھوں میں، میرے دل میں اسی طرح روشن رہے، کبھی مدھم نہ پڑے، کبھی بجھنے نہ پائے۔ آمین۔
مزید پڑھیں






