Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معاشرے میں اخلاقی گراوٹ ،ذمہ دار کون؟تحریر: سید آزاد گیلانی

نقطہ نظر

آج کل معاشرہ بگڑا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہر شخص کسی نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے: نوجوان نسل، والدین، تعلیمی نظام، سیاست دان یا میڈیا۔ گویا معاشرہ ہم سب کے سوا کسی اور نے بنایا تھا۔


ہماری سب سے بڑی سہولت یہی ہے کہ ہم نے اپنی ہر خرابی کے لیے ایک بیرونی مجرم تلاش کر رکھا ہے۔


اخلاقی زوال اچانک نہیں آتا۔ معاشرے پہلے چھوٹی برائیوں سے سمجھوتا کرتے ہیں، پھر انہیں جواز دیتے ہیں اور آخرکار معمول سمجھنے لگتے ہیں۔


جھوٹ "حکمتِ عملی"، رشوت "چائے پانی"، سفارش "تعلقات استعمال کرنا"، حق مارنا "اپنا کام نکالنا" اور بدزبانی "کھری بات" بن جاتی ہے۔


الفاظ بدل گئے، برائیاں وہی رہیں۔


یہاں اخلاقی گراوٹ صرف کردار کا نہیں، پورے معاشرے کی ترجیحات کا مسئلہ بن جاتی ہے۔


ہم چاہتے ہیں کہ بچے سچ بولیں، مگر ان کے سامنے فون پر کہتے ہیں: "کہہ دو ابو گھر پر نہیں ہیں۔" ہم احترام کا درس دیتے ہیں، مگر اختلاف ہوتے ہی ایک دوسرے کی عزتِ نفس مجروح کرتے ہیں۔ بچوں سے کہتے ہیں کہ کسی کا حق نہ مارو، پھر انہی کے سامنے سفارش ڈھونڈتے ہیں۔


بچے ہماری باتیں کم، ہماری ترجیحات زیادہ یاد رکھتے ہیں۔


گھر معاشرے کی پہلی درس گاہ ہے۔ اگر وہاں کردار کتابوں سے پڑھایا جائے اور عمل اس کے برعکس ہو تو بچہ اخلاقیات نہیں، منافقت سیکھتا ہے۔


ہم بچے کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں، اچھا انسان نہیں۔ اچھے نمبر، ملازمت، کاروبار اور آسائشیں کامیابی کے پیمانے ہیں؛ مگر سچ بولنا، وعدہ نبھانا، کمزور کے ساتھ کھڑا ہونا، اختلاف میں شائستگی رکھنا اور کسی کا حق نہ چھیننا ہماری ترجیحات میں پیچھے رہ جاتا ہے۔


جن گھروں میں کردار ثانوی حیثیت اختیار کر جائے، وہاں معاشرہ اخلاقی بحران سے کیسے بچ سکتا ہے؟


تعلیم بھی بری الذمہ نہیں۔ ہم نے اسے ڈگری تک اور تربیت کو نصیحت تک محدود کر دیا ہے۔ ایسا نظام جو ذہین افراد تو پیدا کرے مگر ذمہ دار شہری نہ بنا سکے، اس کی کامیابی مشکوک ہے۔ بدعنوانی جب تعلیم، عہدے اور اختیار کے ساتھ مل جائے تو اس کا نقصان کہیں وسیع ہو جاتا ہے۔


مسئلہ علم کی کمی نہیں، کردار کی قلت ہے۔


میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اجتماعی مزاج تشکیل دیا ہے۔ سنسنی، تضحیک، کردار کشی اور نجی زندگی کی نمائش صرف میڈیا کی طلب نہیں؛ ناظرین کی طلب بھی اس میں شامل ہے۔ بازار وہی چیز بیچتا ہے جس کا خریدار موجود ہو۔


اب ہر شخص کے ہاتھ میں ایک منبر ہے جہاں دلیل سے پہلے شور، تحقیق سے پہلے دعویٰ اور اختلاف سے پہلے تضحیک پہنچ جاتی ہے۔ ہم خبر کی تصدیق کیے بغیر آگے بڑھاتے، الزام کی تحقیق کیے بغیر شیئر کرتے اور کسی کی عزت مجروح کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچتے کہ یہی بات ہمارے بارے میں کہی جاتی تو اسے آزادیِ اظہار کہتے یا کردار کشی؟


ڈیجیٹل دنیا نے ہماری رفتار بڑھا دی ہے، مگر ہماری اخلاقی تربیت اتنی تیز نہیں ہوئی۔


سیاست اور ریاستی ادارے بھی معاشرے سے الگ نہیں۔ کمزور قانون، بے قابو اختیار اور انصاف پر کم ہوتا اعتماد اجتماعی اخلاقیات کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا خطرناک ہے کہ نظام درست ہو جائے تو ہم بھی درست ہو جائیں گے، کیونکہ نظام بھی انسانوں ہی سے بنتا ہے۔


قانون چوری سے روک سکتا ہے؛

امانت دار نہیں بنا سکتا۔


قانون جھوٹ پر سزا دے سکتا ہے؛

سچائی کا شعور نہیں دے سکتا۔


قانون ہاتھ اٹھانے سے روک سکتا ہے؛

احترام کرنا نہیں سکھا سکتا۔


یہ کام کردار کرتا ہے، اور کردار قانون کے ڈر سے نہیں، ضمیر کی بیداری سے بنتا ہے۔


ہم نے ضمیر کو خاموش کرنے کے لیے کئی عذر تراش لیے ہیں: "سب ہی تو کرتے ہیں"، "میرے اکیلے کے نہ کرنے سے کیا فرق پڑے گا؟"، "زمانہ ہی ایسا ہے"، "مجبوری تھی" اور "کام نکلنا چاہیے۔"


یوں فرد کی بے اصولی اجتماعی بے حسی بن جاتی ہے۔


معاشرے صرف بڑے جرائم سے تباہ نہیں ہوتے۔ چھوٹی چھوٹی بے ایمانیوں کا انبار بڑے اخلاقی زلزلے کو جنم دیتا ہے۔ قطار توڑنا قانون کی برابری کو کمزور کرتا ہے، جھوٹ اعتماد کی ایک اینٹ نکالتا ہے اور کمزور کو دھوکا دینا انسانیت گھٹاتا ہے۔ معاشرہ انہی معمولی دکھائی دینے والی حرکتوں سے بنتا اور بگڑتا ہے۔


اس لیے سوال یہ نہیں کہ اخلاقی گراوٹ کا ذمہ دار کون ہے؟


سوال یہ ہے:


میں اس گراوٹ میں کہاں کھڑا ہوں؟


ہمیں دوسروں کا احتساب آتا ہے، مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت کم ہو گئی ہے۔ حکمران کا کردار یاد رہتا ہے، اپنا وعدہ نہیں؛ دوسروں کی بددیانتی دکھائی دیتی ہے، اپنی مصلحت نہیں؛ نوجوانوں کی زبان خراب لگتی ہے، اپنا لہجہ نہیں۔


ہم معاشرے کو بدلنا چاہتے ہیں، مگر اپنے معمولات کو نہیں۔


تبدیلی کسی بڑے نعرے سے نہیں، ایک چھوٹے انکار سے شروع ہوتی ہے: غلط کام، ناجائز فائدے، جھوٹ کو معمول سمجھنے اور کمزور کا حق مارنے سے انکار۔


اخلاقی انقلاب روزمرہ زندگی میں اپنے حصے کی دیانت ادا کرنے سے آتا ہے۔


معاشرہ کوئی مجرد لفظ نہیں۔ یہ ہم ہیں—ہماری زبان، رویہ، کاروبار، سیاست، درس گاہیں، گھر، فیصلے اور خاموشیاں۔


اس لیے معاشرے کے زوال پر انگلی اٹھانے سے پہلے آئینہ دیکھنا ہوگا۔


ممکن ہے وہاں کوئی مجرم کھڑا نہ ہو۔


ہم خود کھڑے ہوں۔


اصلاح کی پہلی علامت یہی ہے کہ ہم سوال دوسروں سے نہیں، خود سے پوچھیں:


معاشرے میں اخلاقی گراوٹ کی ذمہ داری کس پر ہے؟


جواب شاید مشکل نہیں۔


جس معاشرے کا ہم حصہ ہیں، اس کے اخلاقی مستقبل میں ہمارا حصہ بھی ہے۔