Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

صدائے کشمیر ،تحریر: شگفتہ خان

نقطہ نظر
shagufta khan blog

قفس میں قید پنچھی یا زندان میں قید انسان کو یہ تو امید ہے کہ وہ آزاد ہو جائے گا لیکن اس قیدی کو کیا کہیں گے کہ جس کو سالوں بعد بھی آزادی نصیب نہ ہوئی۔ اہل کشمیر ایسے ہی ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ سالوں ظلم و ستم کو برداشت کرتے ہوئے بھی آزادی نصیب نہ ہوئی ۔ اس جنگ میں ایک نسل تہ تیغ ہوچکی ہے اور نسل نو آزادی کا خراج دے رہی ہے۔ جنت نظیر وادی، خطہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے مابین کے اہم تنازعہ ہے جو ان کو کبھی ملنے نہیں دے گا۔ جب کہ بھارت کا شمار پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں ہوتا ہے۔ 1947 میں جب لارڈ ماونٹ بیٹن پاک و ہند کو تقسیم کر رہا تھا۔تب کشمیر کی عوام جو اکثریت میں مسلمان تھے۔ پاکستان میں شامل ہونا چاہا لیکن اس وقت کی حکومت مہاراجہ گلاب سنگھ کے پاس تھی۔ بھارت سے ملی بھگت کرکے یہ علاقہ پیسوں کے عوض بھارت کو بیچ دیا۔ پاکستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے 79 سال ہو چکے ہیں تو خطہء کشمیر کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی 79 سال ہوچکے ہیں ۔

اتنے چھوٹے سے خطہ میں بھارت نے 9 لاکھ فوج تعینات کی ہوئی ہے جو جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی کھیل رہے ہے ۔ کون سا ظلم ہے جو اہل کشمیر پر نہیں ڈھایا گیا۔ ماؤں کے سامنے بیٹوں کو قتل کیا جاتا ہے تو باپ، بھائی کے سامنے بہنوں کی عصمت دری کی جاتی ہے ۔ گولی چلاتے ہوئے عمر کا لحاظ بھی نہیں رکھا جاتا ہے۔ نوجوان کو خون میں نہلاتے ہوئے دل کانپتا ہے نہ کسی معصوم فرشتے کا بچپن چھینتے ہوئے ہاتھ لرزتا ہے۔ کسی کے بزرگ ہونے کی شرم کی جاتی نہ صنف نازک پر ترس آتا ہے ۔ایسا لگتا ہے وہاں انسان نہیں جانور رہتے ہیں۔ جن کے سینوں میں دل نہیں پتھر ہوتے ہیں ۔

کون سا ظلم ہے جو ہندوستان نے روا نہیں رکھا لیکن اہل کشمیر کے کسی بچے سے بھی آزادی کا نعرہ نہ چھین سکے ۔بھارت کا بیہمانہ سلوک، قتل و غارت، کرفیو، ہڑتالیں، بنیادی سہولتوں کا فقدان، نا انصافی کوئی بھی ظلم اہل کشمیر کے کسی بھی شہری چاہے وہ بوڑھا ہو، جوان، بچہ یا صنف نازک ہو۔ ان کی آنکھوں سے نہ آزادی کے خواب چھین سکے ہیں نہ دلوں سے آزادی کا جوش ختم کر سکے۔ مائیں اپنے بچوں کو قربان کر کے بھی، خود آزادی کےلیے قربان ہونے کو تیار ہیں۔ کتنے عظیم رہنما قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ دوران سلاسل کون سا ظلم کا حربہ ہے جو بھارتی فوج استعمال نہیں کرتی۔ جن کو سن کر روح کانپ جائے۔ وہ سب سہہ کر پھر خوشی سے موت کو گلے لگا کر شہادت کے درجے پر فائز ہوتے ہیں۔ وہ جا نتے ہیں کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ وہ نہ سہی ان کی آنے والی نسل کو آذادی سے جینے کا حق ملے گا۔ کتنے جنازے ایک دن میں اٹھائے جاتے ہیں۔ پھر بھی بھارت کی ہٹ دھرمی اور ظلم ان کے حوصلے پست نہ کرسکا ۔

کتنے ممالک ہیں امریکہ، سعودی عرب، چین اور جاپان، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل، دوسرے غیر ملکی ادارے کوئی بھی ہندوستان کو 79 سال سے ہونے والی اس بربریت سے کبھی نہ روک سکا۔

اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظرانداز کرکے ہندوستان ہٹ دھرمی، نا انصافی اور زور زبردستی سے کشمیر پہ اپنا تسلط قائم رکھے ہوئے ہے ۔اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری مسلمانوں سے ان کا رائے شماری کا حق بھی غصب کیا ہوا ہے۔ پاکستان کا حصہ بننے نہیں دیتے نہ سہی کشمیر کو ایک الگ ریاست تو بننے دیں۔ 79 سال میں بھارت کو اتنا اندازہ تو ہونا چاہیے کہ اس کے ظلم و ستم کے بعد بھی کشمیر کے لوگ ہار ماننے والے نہیں ہیں اور وہ اپنی آزادی کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اللہ نے چاہا تو اہل کشمیر ایک دن اپنی قربانیوں کا صلہ آزادی کی صورت میں پا لیں گے ۔آمین ۔اللہ ان کا حامی و ناصر ہو