Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میں اور باغی رائٹرز فورم،تحریر : عابد محمود عابد

نقطہ نظر
abidmabid

میں نے 1988 میں 13 سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا ، کچھ سالوں تک میں لگاتار اخبارات کے بچوں کے صفحات اور بچوں کے لیے شائع ہونے والے رسائل کے لیے لکھتا رہا ، کچھ بڑا ہوا تو ایسے محسوس ہونے لگا کہ میں اب بڑوں کے لیے لکھنا چاہتا ہوں ، مجھے کالم پڑھنے میں بہت دلچسپی ہوتی تھی اور میرا دل چاہتا تھا کہ میں بھی ایسے ہی کالم لکھا کروں ، لیکن اس دور میں کوئی مناسب پلیٹ فارم نہیں مل رہا تھا کہ جو میری لکھنے کے حوالہ سے حوصلہ افزائی بھی کرے اور میرا کالم یا آرٹیکل لکھنے کا شوق بھی پورا ہو ، اس زمانے میں ایک مرتبہ کہیں پڑھا کہ کینسر کے مرض میں مبتلا انگریز شاعر جان کیٹس نے اپنی ایک نظم میں کہا کہ میں اس خوف میں مبتلا رہتا ہوں کہ کیا میں دنیا کو اپنے خیالات دیے بغیر ہی مر جاؤں گا ؟ یہ پڑھ کر میرے ذہن میں بے ساختہ ایک جملہ گونجا کہ " کیا میں دنیا کو اپنے خیالات دئیے بغیر ہی زندہ رہوں گا ؟"

بس اسی کشمکش میں زندگی آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی ، کچھ ادبی پلیٹ فارم ملے لیکن عارضی ثابت ہوئے ، خود بھی ادبی تنظیم بنانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی ، بس پھر اسی طرح ایسا لگا جیسے میرے قلم کو زنگ لگ گیا ہے اور میرا لکھنا لکھانا نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے ، لیکن کچھ عرصہ بعد جب انٹرنیٹ کا دور آیا تو میں ادبی دنیا میں دوبارہ متحرک ہونے لگا اور کچھ ویب سائٹس پر لکھنے لگا ، پھر سوشل میڈیا کا بول بالا ہونے لگا تو مجھے لکھنے لکھانے کے کئی پلیٹ فارم نظر آنے لگے اور پھر میرا پرانا شوق پورا ہونے کا ٹائم آگیا اور وہ وقت آگیا کہ لگاتار پاکستان بھر کے چھوٹے بڑے اخبارات میں میرے کالم شائع ہونے لگے ،

سوشل میڈیا کے دور میں مجھے لکھنے لکھانے کی کئی نئی اصناف نظر آئیں ، جن میں ایک صنف سو لفظی کہانی تھی ، میں یہ تجربہ کرنے کا بھی سوچا اور زندگی میں پہلی مرتبہ سو لفظی کہانی لکھنے کے مقابلے میں حصہ لیا اور اول انعام حاصل کیا ، لیکن میں نے اسکے بعد دوبارہ کبھی بھی سو لفظی کہانی نہیں لکھی کیونکہ میں نے سوچا کہ اس طرح کی صنف جونئیر لکھاریوں کے لیے موزوں ہے ،

اس لیے میں نے اپنی توجہ دوبارہ کالم نگاری اور آرٹیکل لکھنے پر مرکوز کر لی ، کئی ادبی گروپس میں شامل ہوا لیکن ہر ایک میں چھوٹی چھوٹی ادبی اصناف کے مقابلے ہی نظر آتے تھے جن مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، مجھے لگتا تھا کہ میں انفرادیت پسند اور بغاوت پسند ہوں ، میں ہمیشہ کچھ مختف قسم کا لکھنا چاہتا ہوں ، میری تحریوں میں یکسانیت نہیں بلکہ بغاوت نظر آتی ہے ، میں ہمیشہ اس موضوع پر لکھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ جس پر کوئی بھی لکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ، میں اپنی تحریروں میں سامراجیت اور ہر قسم کے فرسودہ نظام سے باغی نظر آتا ہوں ،

انسان ساری عمر سیکھتا رہتا ہے اس لیے اتنا عرصہ لفظوں سے کھیلنے کے تجربہ سے گذرتے گذرتے بھی جب بھی کوئی نیا ادبی فورم یا پلیٹ فارم نظر آتا تو اس میں اس نیت کے تحت شامل ہوجاتا کہ کچھ نیا سیکھ سکوں اور یہ بھی کہ جب بندہ کسی ادبی پلیٹ فارم کے ساتھ وابستہ رہتا ہے تو اس بہانے ادبی دنیا میں متحرک رہتا ہے اور قلم کو زنگ لگنے کا خطرہ نہیں رہتا ، آج کل کالم یا آرٹیکل لکھنے والا ایک مشکل سے دوچار ہے کہ ایڈیٹر لمبی تحریر چاہتا ہے لیکن قاری مختصر تحریر پڑھنا چاہتا ہے ، یہ صورتحال یہی تقاضا کرتی ہے کہ بندہ کسی نہ کسی ادبی فورم سے منسلک رہے اور کچھ نیا سیکھتا رہے لیکن یہ بھی سچی بات ہے کہ میں جس بھی ادبی فورم میں شامل ہوا ، وہاں یکسانیت ہی نظر آئی جبکہ میرے ادبی مزاج میں یکسانیت سے بغاوت نظر آتی ہے اور میں انفرادیت کی تلاش میں رہتا ہوں ، ایسے میں مجھے ایک دن فیسبک پر ایک ہوسٹ نظر آئی جس میں لکھا تھا کہ اگر آپ باغی رائٹرز فورم میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو اس واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں ، لکھنے میں باغیانہ انداز اور روش ہونے کی وجہ سے مجھے تو اس ادبی فورم کے نام میں ہی کشش نظر آئی اور جب میں اسکے فیسبک اور واٹس ایپ گروپس میں شامل ہوا تو مجھے واقعی اس میں انفرادیت بھی دکھائی دی کیونکہ باغی رائٹرز فورم صرف نئے لکھاریوں کے لیے چھوٹی چھوٹی ادبی اصناف میں نہیں الجھا رہتا بلکہ ایک مکمل اور جامع تحریر لکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے تاکہ نئے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ سینیئر لکھاری بھی اس میں پوری طرح دلچسپی لیتے نظر آئیں ، وہسے یہ بھی حقیقت ہے کہ میرے اب تک جو بھی آرٹیکل شائع ہوئے ہیں ان میں اپنے نام کے ساتھ باغی بلاگر لکھا دیکھ کر اچھا لگا ،

مجھے ایک لگتا ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ اس ادبی پلیٹ فارم پر بہت زیادہ باغی بلاگر جمع یوجائیں گے اور سب ادب پسند لوگوں کو یہاں بہت کچھ منفرد دیکھنے اور ہڑھنے کو ملے گا ،