مڈل کلاس،خواہشیں بے شمار، بجٹ بے کار،تحریر: انیلہ افضال ایڈووکیٹ

کہا جاتا ہے کہ انسان ایک معاشرتی جانور ہے، اگرچہ ہم اس سے مکمل اتفاق نہیں کرتے؛ لیکن یہ تو مانتے ہی ہیں کہ انسان اکیلا نہیں رہ سکتا، اسے دوست ، عزیز ، رشتہ دار اور ہمسائے؛ سبھی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ کسی کی برائی کسی دوسرے سے کر کے دل ہلکا کر سکے۔ معاشرے میں ہر طرح کے افراد پائے جاتے ہیں؛ یہ انواع اقسام کے افراد مل کر معاشرے کو تین طبقات میں تقسیم کرتے ہیں:- اپر کلاس، مڈل کلاس اور لوئر کلاس. آپ سوچیں گے کہ ایک ایلیٹ کلاس بھی تو ہوتی ہے؛ تو صاحب وہ تو ہماری سوچ سے بھی پرے ہے۔
ہر کلاس کے اپنے مسائل ہوتے ہیں اور اپنی مجبوریاں؛ لیکن اگر دنیا میں کسی طبقے کو صبر، برداشت، حساب کتاب، عزتِ نفس، مجبوری، خواب اور قسطوں پر زندہ رہنے کا نوبیل انعام دیا جائے تو یقیناً وہ مڈل کلاس ہی ہوگی۔ یہ وہ مخلوق ہے جو نہ امیروں کی فہرست میں آتی ہے، نہ غریبوں کی امدادی لسٹ میں۔ حکومت اسے امیر سمجھ کر سبسڈی نہیں دیتی اور امیر اسے غریب سمجھ کر دعوت میں دوسری پلیٹ نہیں دیتے۔
مڈل کلاس کا فلسفہ بڑا سادہ ہے: "خواہشیں بے شمار اور بجٹ بے کار۔"
اس طبقے کا ہر فرد ایک چلتا پھرتا کیلکولیٹر ہوتا ہے۔ دکان میں داخل ہونے سے پہلے ہی ذہن میں جمع، تفریق، ضرب اور تقسیم شروع ہو جاتی ہے۔ قیمت سن کر چہرے پر ایسی مسکراہٹ آتی ہے جیسے کہہ رہا ہو، "بس پوچھ ہی تو رہا تھا، خریدنا تھوڑی تھا!"
مڈل کلاس کے گھر کی سب سے بڑی پہچان ڈرائنگ روم ہوتا ہے، جو پورا سال بند رہتا ہے۔ وہاں موجود صوفے ایسے چمکتے ہیں جیسے ابھی فیکٹری سے نکلے ہوں، کیونکہ ان پر بیٹھنے کی اجازت صرف مہمانوں کو ہوتی ہے، اور مہمان بھی وہ جو واقعی مہمان ہوں، روز روز آنے والے نہیں۔ بچے اگر غلطی سے اس کمرے میں داخل ہو جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی عجائب گھر کی نایاب چیز کو ہاتھ لگا دیا ہو۔ اس طبقے کا ایک اور عجیب اصول ہے کہ اچھے برتن مہمانوں کے لیے، اچھے تولیے مہمانوں کے لیے، اچھا کمبل مہمانوں کے لیے، اور اچھا صابن بھی مہمانوں کے لیے۔ یوں لگتا ہے کہ مہمان کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں جنہیں بہترین سہولیات فراہم کرنا آئینی ذمہ داری ہے۔
گھر کی ہر چیز کی اپنی ایک تاریخ ہوتی ہے۔ کوئی کپ الماری میں رکھا ہے تو اس کے ساتھ یہ کہانی بھی ملے گی کہ "یہ تمہارے ابو کو شادی پر ملا تھا۔" ایک پرانا کمبل ضرور ہوگا جس کے متعلق بتایا جائے گا کہ "ابھی تو بالکل ٹھیک ہے، صرف کنارا ہی تھوڑا سا خراب ہوا ہے۔"
مڈل کلاس کے گھر میں کسی چیز کو پھینکنا گناہ سمجھا جاتا ہے۔ خالی بوتلیں، پرانے ڈبے، آئس کریم کے ڈبوں میں مصالحے، گھی کے خالی ڈبوں میں پیچ کس اور پلاس، اور مٹھائی کے خوبصورت ڈبوں میں سلائی کا سامان ملنا عام بات ہے۔ اگر کسی نے غلطی سے وہ ڈبہ کھول لیا جس پر قلفی بنی ہوئی تھی تو اندر سے سوئی، دھاگا اور بٹن برآمد ہوتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ڈبے کی تصویر صرف انسان کو دھوکا دینے کے لیے لگائی گئی تھی۔
مڈل کلاس کا ریفریجریٹر کھول کر دیکھیں تو اس میں کچھ چیزیں آپ کو کامن ملیں گی؛ کبھی آدھا لیموں، دو ہری مرچیں؛ اور یہ مرچیں تو سوکھ بھی جائیں تو بھی انہیں بھگو کر کوٹ کر استعمال کر لیا جاتا ہے۔ اصل ظلم تو اس کٹے ہوئے آدھے لیموں کے ساتھ ہوتا ہے؛ جسے پولیو ڈراپس کی طرح قطرہ قطرہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جب رس مکمل طور پر نچوڑ لیا جاتا ہے تب بھی اسے پھنکنے کا تصور بھی جان لیوا ہوتا کہ اصل کام تو اب شروع ہوا ہے۔ پہلے اسے منہ پر رگڑا جاتا ہے اور اس کے بعد گندے برتنوں پر۔
مڈل کلاس کا بڑا مسلہ یہ ہے اسے خود پتا نہیں ہوتا کہ وہ مڈل کلاسیا ہے۔ راہ چلتے مڈل کلاس کو پہچاننے کا ایک بڑا آسان طریقہ ہے، پانی کی بوتل جو آپ نے پینے کے لئے خریدی، اسے آپ گھر لے ائیں تو آپ سوفیصد مڈل کلاس ہیں۔ اس سے بھی بڑی پہچان یہ ہے کہ اگر آپ نے کوئی جانور پالنے کی خواہش کا اظہار کیا اور گھر والوں نے کہ دیا کہ تمہیں جو پال رہے ہیں، دو دو جانور افورڈ نہیں کر سکتے تو آپ دو سو فیصد مڈل کلاس سے ہیں۔
مڈل کلاس کے بچوں کی تربیت بھی دلچسپ ہوتی ہے۔ بازار میں کسی چیز کی فرمائش کریں تو جواب ملتا ہے، "گھر جا کر دیکھیں گے۔" یہ "گھر جا کر" دراصل اردو زبان کا سب سے مہذب "نہیں" ہے۔ مڈل کلاس میں بچوں کو مارا نہیں جاتا، دھویا جاتا ہے؛ اور اس دھلائی کے بعد ابا پلنگ پر اور بچہ فرش پر بے سدھ پڑے نظر آتے ہیں۔ اور اگر یہ دھلائی اماں کے ہاتھوں ہو رہی ہو تو وہ تو ساتھ ساتھ فیڈ بیک بھی لیتی ہیں:- "لگا“ ، " درد ہوا نا“ ، " اب آیا مزا“ اور آپ کو فیڈ بیک دینا پڑتا ہے ؛ جو عموماً " ہاں“ کی صورت میں نہیں ہوتا بلکہ " ائی ائی ائی“ کی شکل میں ہوتا ہے۔ اب یہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ اماں بچے کی پٹائی اسے سدھارنے کے لئے کر رہی ہیں یا اپنی تفنن طبع کے لئے۔
بجلی کا بل مڈل کلاس کے لیے کسی ہارر فلم سے کم نہیں۔ جیسے ہی بل آتا ہے، گھر میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ سب کی نظریں اس ایک کاغذ پر جم جاتی ہیں۔ بل کھلتے ہی سب سے پہلا جملہ یہی ہوتا ہے: "اتنا بل آیا کیسے؟ ہم نے کون سا کارخانہ لگا رکھا ہے!" اس کے بعد تفتیش شروع ہوتی ہے۔ پنکھا کس نے چلتا چھوڑا؟ اے سی کس نے زیادہ دیر چلایا؟ چارجر کس نے ساکٹ میں لگا چھوڑا؟ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر میں بجلی نہیں، یورینیم استعمال ہو رہا ہو۔ مڈل کلاس کے والدین کی ڈکشنری میں چند لازوال جملے ہوتے ہیں۔ مثلاً: "بتی بند کر دو!" "دروازہ بند کرو، اے سی کی کولنگ باہر جا رہی ہے۔" "پیسہ درختوں پر نہیں اگتا۔" "یہ کپڑے ابھی نئے ہیں۔" اور سب سے تاریخی جملہ: "جب ہم تمہاری عمر کے تھے..."
یہ آخری جملہ سنتے ہی نئی نسل خاموش ہو جاتی ہے، کیونکہ آگے ایک طویل تاریخی لیکچر آنے والا ہوتا ہے جس میں پیدل اسکول جانا، گرمی میں پنکھے کے بغیر رہنا اور ایک روپے میں ہفتے بھر کا سامان آ جانا شامل ہوتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ مڈل کلاس کوئی معاشی طبقہ نہیں، ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ یہاں ہر چیز احتیاط سے خریدی جاتی ہے، محبت سے سنبھالی جاتی ہے،
اصل بات یہ ہے کہ مڈل کلاس کی زندگی بظاہر مشکلات سے بھری ہوتی ہے، مگر اسی میں ہنسی بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی لوگ محدود وسائل میں خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں، ٹوٹے ہوئے کپ کو بھی پسندیدہ کپ بنا لیتے ہیں، اور مہینے کے آخری ہفتے میں بھی چائے کے ساتھ قہقہے لگا لیتے ہیں۔ شاید اسی لیے معاشرے کی اصل خوبصورتی اسی طبقے سے قائم ہے۔ یہ لوگ نہ دولت کی نمائش کرتے ہیں، نہ غربت کا ماتم۔ یہ خاموشی سے جیتے ہیں، محنت کرتے ہیں، بچوں کے خواب پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ہر مہینے بجٹ کے ساتھ ایک نئی جنگ لڑتے ہیں۔ ان سب باتوں کے باوجود مڈل کلاس کے پاس ایک ایسی دولت ہے جو ہر امیر کے پاس بھی نہیں ہوتی۔ یہی طبقہ محدود وسائل میں خوشی پیدا کرنا جانتا ہے۔ یہی لوگ پرانی کرسی پر بیٹھ کر نئی امیدیں بُن لیتے ہیں۔ یہی لوگ بچوں کی معمولی کامیابی پر پورے محلے کو مٹھائی کھلا دیتے ہیں۔ یہی لوگ مہینے کے آخر میں بھی ہنس لیتے ہیں، حالانکہ جیب انہیں رونے کا مکمل جواز فراہم کر رہی ہوتی ہے۔
اگر کبھی مڈل کلاس کے گھر کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھیں تو وہاں آپ کو عیش و عشرت نہیں ملے گی، مگر محبت، خلوص، ایثار، قہقہے، امید اور زندگی سے بھرپور وہ منظر ضرور ملے گا جو کسی محل میں بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اور شاید یہی اس طبقے کی سب سے بڑی دولت ہے؛ وہ دولت جس کا کوئی بجٹ نہیں بنتا، کوئی بل نہیں آتا، اور جس پر کبھی سیل نہیں لگتی۔
مزید پڑھیں




