بڑا کون: تخلیق یا تخلیق کار،تحریر: نعیم خان ،قسط سوئم
نقطہ نظر
خیال کہاں پیدا ہوتا ہے ؟
سوالوں کے تسلسل نے سب کو اپنی جگہ باندھ رکھا تھا۔ چند شاگرد اب باقاعدہ ہمارے گرد دائرہ بنا کر بیٹھے تھے۔ کوئی کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے تھا کوئی ہاتھ میں کافی کا کپ لیے استاد کو دیکھ رہا تھا اور کوئی شاید اپنے ذہن میں اسی سوال کا جواب تلاش کر رہا تھا۔
استاد نے خاموشی کو توڑا: “اچھا ! اگر تخلیق نئی چیز پیدا کرنے سے زیادہ موجود چیزوں کو نئے معنی دینے کا نام ہے تو پھر ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔”
ایک شاگرد نے فوراً کہا: “کون سا سوال استاد ؟”
استاد نے کہا: “خیال پیدا کہاں ہوتا ہے ؟”
پھر میری طرف دیکھا۔ “نعیم صاحب ؟”
میں نے کہا: “شاید خیال باہر سے اندر آتا ہے مگر معنی اندر سے پیدا ہوتا ہے۔”
استاد نے پوچھا: “باہر سے کیا آتا ہے ؟”
“مشاہدہ ، تجربہ ، علم ، واقعات ، الفاظ ، کتابیں ، مناظر ، آوازیں ، لوگوں کی باتیں۔”
“اور اندر کیا ہوتا ہے؟”
“انسان کا شعور ، حافظہ ، احساس ، تجربہ اور سوال۔”
استاد نے کہا: “تو پھر تخلیق کہاں ہوئی ؟”
میں نے کہا: “شاید باہر اور اندر کے درمیان۔”
ایک شاگرد نے پوچھا: “کیا خواب بھی اسی دنیا کا حصہ ہیں ؟”
استاد نے میری طرف دیکھا۔
میں نے کہا: “خواب انسانی ذہن کی وہ دنیا ہیں جہاں آدمی بیداری کے مکمل اختیار کے بغیر بھی یادوں ، تجربات ، خوف ، خواہشات اور تصورات کے درمیان سفر کرتا ہے۔”
استاد نے پوچھا: “اور کیا انسان خواب کو اپنی مرضی سے لکھتا ہے؟”
“عام طور پر نہیں۔”
“تو پھر خواب میں تخلیق کون کرتا ہے ؟”
میں خاموش ہوگیا۔
استاد نے کہا: “یہی تو انسانی ذہن کا عجیب راز ہے۔ بیداری میں انسان کہتا ہے: میں سوچ رہا ہوں۔ خواب میں کبھی کبھی اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کیا کچھ چل رہا ہے۔”
ایک شاگرد نے پوچھا: “تو کیا انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر جانتا ہے ؟”
میں نے کہا: “نہیں۔ شاید انسان اپنے اندر بھی ایک پوری کائنات رکھتا ہے جس کا اسے مکمل علم نہیں۔”
استاد نے کہا: “اور اسی لیے ہر انسان کے اندر ایک ایسا انسان بھی ہوسکتا ہے جس سے وہ خود واقف نہیں۔”
میں نے کہا: “شاید اسی مقام پر انسانی فطرت سب سے زیادہ پیچیدہ ہوجاتی ہے۔”
استاد نے پوچھا: “پھر اچھا لکھاری کیا کرتا ہے ؟”
میں نے کہا: “وہ صرف دنیا کو نہیں پڑھتا ، اپنے اندر کو بھی پڑھتا ہے۔”
“اور برا لکھاری؟”
میں نے کہا: “شاید وہ صرف الفاظ جمع کرتا ہے۔”
استاد نے کہا: “یعنی الفاظ اور تحریر میں بھی وہی فرق ہے جو سامان اور کھانے میں تھا ؟”
میں مسکرایا۔ “جی۔ الفاظ خام مال ہیں ، تحریر ان کے درمیان پیدا ہونے والا ذائقہ۔”
استاد نے کہا: “اور علم ؟”
“علم خام مال بھی ہے اور راستہ بھی۔”
“اور کتاب ؟”
“علم کی طرف جانے والا دروازہ۔”
“اور لکھاری ؟”
“مسافر۔”
“اور تحریر ؟”
“سفرنامہ۔”
استاد نے آہستہ سے کہا: “تو پھر شاید ہر لکھاری جب تصورات کی سیر کو نکلتا ہے تو اپنا سفرنامہ لکھتا ہے اور جو اس سحر میں وہیں رہ جاتا ہے، وہ واپس نہیں آتا۔”
میں نے کہا: “جی – شاید فرق صرف اتنا ہے کہ تخلیق کار سحر سے معنی لے کر واپس آتا ہے۔”
ایک شاگرد نے پوچھا: “لیکن استاد ، کیا ہر خیال قابلِ تحریر ہوتا ہے ؟”
استاد نے کہا: “نعیم صاحب ؟”
میں نے کہا: “نہیں۔ ہر خیال کا لکھا جانا ضروری نہیں جیسے ہر بات کا کہا جانا ضروری نہیں۔ خیال کو بھی چھاننا پڑتا ہے۔ اسے تجربے ، عقل ، اخلاق اور مقصد کے ترازو سے گزارنا پڑتا ہے۔”
استاد نے کہا: “تو پھر لکھاری صرف خیالات کا مالک نہیں ان کا نگہبان بھی ہے ؟”
میں نے کہا: “شاید اسی لیے قلم امانت ہے۔”
استاد نے پوچھا: “اور اگر امانت میں خیانت ہوجائے ؟”
میں خاموش ہوگیا۔
ایک شاگرد نے کہا: “تو تحریر نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔”
میں نے کہا: “بالکل۔ زبان اصلاح کا وسیلہ بھی ہوسکتی ہے اور فساد کا بھی۔ قلم روشنی بھی دے سکتا ہے اور دھواں بھی پھیلا سکتا ہے۔”
استاد نے کہا: “تو پھر لکھاری کی اصل ذمہ داری کیا ہے ؟”
میں نے جواب دیا: “شاید یہ کہ وہ اپنے لفظوں کے اثر سے غافل نہ ہو۔”
استاد نے کہا: “اور اسی جگہ علم اور حکمت میں فرق پیدا ہوتا ہے۔ علم جاننا ہے ، حکمت یہ سمجھنا ہے کہ جانا ہوا کب ، کہاں اور کیسے استعمال کرنا ہے۔”
میں نے کہا: “اور شاید اچھا لکھاری علم کو حکمت میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔”
استاد نے سر ہلایا۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر استاد نے پوچھا: “لیکن خان صاحب ، اگر انسان کے خیالات اس کی زبان ، خاندان ، معاشرے ، تعلیم ، ماحول ، تجربے اور ماضی سے تشکیل پاتے ہیں تو اس کی آزادی کہاں ہے ؟”
میں نے کہا: “شاید آزادی اس میں ہے کہ انسان ان اثرات کو پہچان کر ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔”
“یعنی اثر سے آزادی نہیں ، اثر کے شعوری انتخاب سے آزادی ؟”
“شاید۔”
استاد نے کہا: “اور یہی انسان کو محض ردِعمل دینے والے وجود سے تخلیق کار بناتا ہے۔”
ایک شاگرد نے پوچھا: “تو کیا ہر انسان میں تخلیق کار موجود ہے ؟”
میں نے کہا: “صلاحیت شاید کسی نہ کسی صورت موجود ہو مگر اس کا بیدار ہونا ، تربیت پانا اور اظہار تک پہنچنا الگ بات ہے۔”
استاد نے کہا: “تو پھر تخلیق کار پیدا نہیں ہوتا ؟”
میں نے کہا: “شاید وہ اپنے اندر موجود امکانات کو دریافت کرتا ہے۔”
استاد نے میری طرف غور سے دیکھا۔
“اور یہ دریافت بھی سفر ہے ؟”
میں نے کہا: “جی۔”
استاد نے پوچھا: “کہاں کا سفر ؟”
میں نے کہا: “اپنے اندر سے باہر کا اور باہر سے اپنے اندر کا۔”
محفل میں پھر خاموشی چھا گئی۔
چاند اب پہلے کی نسبت کچھ مغرب کی طرف جھک چکا تھا۔
رات کا سکوت گہرا ہو رہا تھا۔
استاد نے کافی کا تقریباً ٹھنڈا ہوچکا کپ اٹھایا ایک چسکی لی اور کہا: “تو اب ہم اصل سوال کے قریب پہنچ گئے ہیں۔”
میں نے پوچھا:
“کون سا اصل سوال ؟”
استاد نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا: “اگر انسان اپنے اندر اور باہر کی دنیا سے معنی اخذ کرتا ہے تو پھر اس کی آزادی کہاں ہے ؟ کیا وہ واقعی خود سوچتا ہے یا اس کے خیالات بھی اس کی پرورش ، ماحول ، زبان ، علم ، تجربے اور ماضی کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں ؟”
میں نے جواب دینے کے لیے لب کھولے مگر رک گیا۔
کیونکہ یہ سوال صرف تخلیق کا نہیں تھا۔
یہ انسان کے ہونے کا سوال تھا۔
اور اب شاید آپ سے پوچھنے کی باری تھی:
کیا ہمارا خیال واقعی ہمارا ہوتا ہے ؟
یا ہم صرف ان ہزاروں اثرات کا مجموعہ ہوتے ہیں جن سے گزر کر ہمارا ذہن بنتا ہے ؟
اپنا جواب کمنٹس میں ضرور دیجیے۔
شاید اگلی قسط میں ہم اسی سوال کے اندر اتر سکیں۔
مزید پڑھیں




