منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امریکا میں وسط مدتی انتخابات آج,ڈیموکریٹس کو برتری ملنے کا امکان


امریکا میں وسط مدتی انتخابات آج ہوں گے، سروے اور پول میں ڈیمو کریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں برتری ملنے کا امکان ہے۔


امریکا میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پوزیشن کے لیے اہم امتحان بن گئے ہیں۔ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی ایوانِ نمائندگان کی اکثریت کھو دیتی ہے تو ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے میں رکاوٹیں ڈالنے اور ان کی انتظامیہ کے خلاف وسیع تحقیقات شروع کرنے کا موقع مل جائے گا جبکہ سینیٹ میں شکست کی صورت میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرریوں پر بھی صدر کی گرفت کمزور ہوسکتی ہے۔


انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں اور 36 ریاستوں کی گورنر شپ کے لیے مقابلہ ہورہا ہے۔ ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے صرف 3 اضافی نشستیں درکار ہیں، جبکہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے انہیں خالصتاً 4 نشستوں کا فائدہ اٹھانا ہوگا۔


امریکی صدر نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس جیت گئے تو وہ "Mr. Veto" بن جائیں گے ، بولے ابتدا میں ویٹو استعمال کروں گا، بعد میں ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس سے معاہدے ہوں گے۔


وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق کانگریس کی منظوری کے بغیر اقدامات کے قانونی جائزے اور تجاویز تیار کی جاری ہیں۔


ذرائع کا کہنا ہےکہ امیگریشن، ٹیرف، ہاؤسنگ اور اخراجات پر ایگزیکٹو اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔


پولنگ شروع ہونے سے پہلے ٹرمپ انتظامیہ کو دھچکا لگ گیا، امریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں متنازع ووٹوں کی گنتی روکنے کی درخواست مسترد کردی، ٹرمپ انتظامیہ کا الزام ہے کہ بعض ووٹرز امریکی شہری نہیں ہیں۔


ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عوامی بے چینی کی بڑی وجوہات میں مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات، محصولا ت کی پالیسی اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ مختلف جائزوں کے مطابق صدر کی مقبولیت بھی 30 فیصد کے ابتدائی ہندسے کے آس پاس رہی ہے۔


ریپبلکن رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی ٹیکسوں میں کمی اور غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف سخت پالیسیوں سے امریکی عوام کو فائدہ پہنچے گا، جبکہ وہ ڈیموکریٹک امیدواروں کو بائیں بازو کے انتہا پسند قرار دے رہے ہیں۔


امریکی مڈ ٹرم الیکشن سے قبل 5 کروڑ 13 لاکھ سے زائد شہری ڈاک کے ذریعے یا ذاتی طور پر پولنگ مراکز پر پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ یہ 2022 کے سابقہ ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ پیشگی ووٹنگ میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے، کئی اہم ریاستوں میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ نے کانگریس کے کنٹرول کی دوڑ مزید دلچسپ بنا دی ہے۔


فلوریڈا یونیورسٹی کی الیکشن لیب کے مطابق اگر اس سال ووٹر ٹرن آؤٹ 2022 جتنا رہا تو 10 کروڑ سے زائد امریکی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔


شمالی کیرولائنا میں 10 لاکھ سے زائد ڈیموکریٹس اور 6 لاکھ اناسی ہزار ریپبلکنز پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، ٹیکساس میں 76 لاکھ، جنوبی کیرولائنا میں تقریباً 10 لاکھ اور جارجیا میں 28 لاکھ سے زائد شہری پیشگی ووٹ ڈال چکے ہیں، جارجیا میں ووٹنگ 2022 کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ مین، کنساس اور مشی گن میں بھی پیشگی ووٹنگ میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


امریکا کی 27 ریاستوں کے اعداد و شمار کے مطابق پیشگی ووٹ ڈالنے والوں میں 43.1  فیصد ڈیموکر یٹس اور 31.8 فیصد ریپبلکنز ہیں، آزاد ووٹرز کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے، پنسلوانیا میں 65 فیصد پیشگی ووٹرز ڈیموکریٹس اور 25 فیصد ریپبلکنز ہیں۔


دوسری جانب ڈیموکریٹس ان انتخابات کو ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔ سینیٹ میں ریپبلکنز کو اس وقت 53 کے مقابلے میں 47 نشستوں کی برتری حاصل ہے، تاہم ٹیکساس، کنسا س، آئیووا، اوہائیو اور الاسکاجیسی روایتی ریپبلکن ریاستوں میں بھی سخت مقابلےکی توقع ہےمشی گن میں ڈیموکریٹک امیدواروں کے درمیان اختلافات نے بھی پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں۔


فلوریڈا میں ریپبلکنز کو ڈیموکریٹس پر 3 فیصد پوائنٹس کی برتری حاصل ہے جبکہ 2022 میں یہ فرق 6.4 پوائنٹس تھا، مشی گن میں 30 فیصد رجسٹرڈ ریپبلکنز نے پیشگی ووٹ ڈالا، ڈیموکریٹس میں یہ شرح 23 فیصد رہی۔


انتخابی مہم پر 11 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ 5 کروڑ 70 لاکھ سے زائد امریکی پہلے ہی قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں۔ انتخابات کے نتائج تسلیم کیے جانے کے حوالے سے بھی خدشات موجود ہیں، کیونکہ ٹرمپ ماضی میں 2020ء کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کرچکے ہیں اور انتخابی دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔