بدھ، 4 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرا تعارف،روبینہ یوسف

نقطہ نظر

شاندار روایات اور عظیم تہذیب و تمدن کی حامل سرزمین پشاور میری جنم بھومی ہے۔ اعلٰی ثقافتی ورثے اور گندھارا تہذیب سے منسلک شہر راولپنڈی میں ابتدائی تعلیم اور شعور کی منازل طے کیں۔گھر میں کھلونوں سے زیادہ کتابوں کی کثرت رہی۔ الفاظ سے شناسائی مرحوم والد صاحب سے ورثے میں ملی جنہوں نے گھر میں ایک لائبریری کا سا ماحول بنا رکھا تھا۔ والدہ نےنونہال، تعلیم و تربیت ،بچوں کی دنیا اور دیگر اخبارات اور رسائل سے ہماری دوستی استوار کروائی۔ مجھے یاد ہے جب پہلی بار مجھ سے کانچ کا جگ ٹوٹا تو میں نے درد کی چیخیں سنیں۔ میں سہم گئی مگر میرے سامنے کھڑے ابّا جی اور امی مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ وہ لمحات ساری زندگی مجھے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حوصلہ دیتے رہے۔ مجھ میں کرب کو اپنے اندر اتارنے کی سکت پیدا ہوئی۔

والدین کی مسکراہٹ سے مجھ پر یہ راز کُھلا کہ درد میں ہی خوشیاں مسکراتی ہیں۔۔ رنج و راحت ایک دوسرے کے متوازی رہتے ہیں ۔ایسا نہ ہوتا تو زندگی پیدا ہونے سے پہلے مر گئی ہوتی۔ گھر میں کتابوں کا ایک انبار تھا۔ عالمی ادب سے لے کر گلی کوچوں کے افسانے بھی دسترس میں تھے ۔پتہ نہیں کب قلم سے محبت ہو گئی۔ بہت سی تحاریر کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا کہ میں بھی لکھ سکتی ہوں۔ میرا ادھورا پن اکملیت میں ڈھل سکتا ہے۔ پتہ ہی نہیں چلا کب میں اسکول سے ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیتی، تقریری مقابلوں اور کوئز پروگراموں کا حصہ بنتی ،اپنی سہیلیوں اور عزیز و اقرباء کو مراسلے لکھتے لکھتے میں نے افسانہ نویسی کے میدان میں قدم رکھ دیا ۔

ڈرامہ نگاری کے دشت کی بھی سیاحی کی ۔اس دوران بہت اچھے اداروں ریڈیو پاکستان، مختلف ٹی وی چینلز خاص طور پر جیو ٹی وی، اشاعتی اداروں اور پروڈکشن ہاؤسز کے لیے بھی لکھا۔جیو میں سات سال کامیابی سے اپنا سفر جاری رکھا۔

ریڈیو پاکستان کے لیے بھی چندڈرامے لکھے۔ مختلف پروڈکشن ہاؤسز کے لیے چیدہ چیدہ ڈرامے لکھے ۔روزنامہ جنگ میں بھی میرے آرٹیکلز اور افسانے شائع ہوتے ہیں۔ چند ایک ڈائجسٹوں میں بھی میرے افسانے شائع ہوئے ۔

اسکول اور کالج کی زندگی کے دوران میں نے بہت سی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور مختلف انعامات جیتے۔ ایف جی گرلز کالج کشمیر روڈ راولپنڈی کی طرف سے مختلف شہروں اسلام آباد، ساہیوال اور جہلم میں کوئز اور تقریری مقابلے ۔جیتے ٹی وی پر قریش پور اور محمد نقی کے ساتھ دو کامیاب پروگرام بھی کیے اور محمد نقی کے ساتھ اآل پنجاب کوئز مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کی اور ساہیوال میں آل پنجاب کوئز مقابلے میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی۔

میرا ایک افسانوی مجموعہ خیال کی صورت گری ایک سال قبل شائع ہو چکا ہے۔دبئی سے شائع ہونے والے اخبار پاک عرب نیوز جس کے جس کے بانی و سرپرست فیصل راجپوت ہیں، ان کے کہنے پر میں نے جیل میں قید عورتوں کی حالت حالتِ زار پر ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی جو کہ بعد میں اس اخبار میں شائع بھی ہوئی ۔

شادی سے پہلے ملت اسلامیہ اسکول راولپنڈی میں ٹیچنگ کی۔ اسکول کی بزمِ ادب کی میں انچارج رہی۔ اس ضمن میں بچوں کو مختلف تقاریر اور دیگر مقابلوں کے لیے تیار کرتی تھی۔ مجھے فخر ہے کہ آج میرے ہاتھ کے یہ نکھرے سنورے بچے معاشرے میں ایک باعزت مقام لیے زندگی جی رہ رہے ہیں۔

شادی کے بعد میں کراچی کی ہنگامہ خیز اور رومان پرور زندگی کا حصہ بن گئی ۔میں نے یہ جانا کہ قلم سے آپ سب کچھ لکھ سکتے ہیں۔

ستاروں کی چمک، چاندنی کا فسوں ،سورج کی تابناکی، مِلکی ویز کی بے کنار مسافتیں، کائنات کی بے نوا صدائیں۔۔۔

سب نوکِ قلم پر آ کر الفاظ کا روپ دھار لیتی ہیں ۔لاشعوری طور پر میں قلم سے باتیں کرنے لگی۔ وہ راز دینے لگی جو کسی اور سے کہہ دینا ممکن نہیں۔ یہ میرے اندر کی ہر آواز کو سنتا ہے اور اپنے آپ میں سمو لیتا ہے۔ اس کائنات کی سب سے پہلی تخلیق بھی قلم ہی ہے ۔بیٹیوں کے لفظ سی دینے والے معاشرے میں بولنا ناقابلِ معافی جرم ہوتا ہے ۔بدقسمتی سے ہم ابھی تک محدود سوچ والے بیمار ذہنوں کے درمیان جی رہے ہیں۔ لکھنے کے اوّلین دنوں، میں نے اپنی پہلی تحریر گورِ حوا کے نام منسوب کی تھی۔ وہ بدنصیب لڑکی اگر لکھنا جانتی تو کبھی بھی زندہ دفن نہ ہوتی۔ تمنا ہے کہ میرا ہر لفظ چراغ بنے۔ بنتِ حوا کے ہونٹوں پر لگاقفل ٹوٹے اور ساتھیو!!! دل کا کیا ہے یہ تو انہونیوں پر اکساتا ہے ۔دعا ہے کہ ہر بیٹی لکھاری بنے جو خود اپنی ترجمان ہو مجھے صرف یہی کہنا ہے۔