ڈاکٹر شجاع اختر اعوان کا تعلق ضلع اٹک کے مردم خیز گاؤں بولیانوال سے ہے۔ وہ اعوان قبیلے کے ایک معزز خاندان میں ملک بہرام خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت کی تشکیل میں گھر کے علمی ماحول نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے نانا ملک منصبدار مرحوم ریٹائرڈ ہیڈماسٹر اور علم دوست انسان تھے۔ انہیں اخبارات کے مطالعے سے خاص شغف تھا۔ گھر میں نوائے وقت، دی مسلم اور پاکستان ٹائمز جیسے اخبارات آتے تھے۔ ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے بھی چوتھی جماعت ہی سے اخبارات پڑھنے کا آغاز کر دیا تھا۔ یہی ابتدائی مطالعہ آگے چل کر ان کے ادبی ذوق اور صحافتی دلچسپی کی بنیاد بنا۔
ان کی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول دور داد میں ہوئی، جہاں سے انہوں نے میٹرک کیا۔ بعدازاں راولپنڈی بورڈ سے ایف اے کا امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے پاس کیا۔ تعلیمی سفر کے ساتھ مختلف شعبوں میں پیشہ ورانہ تربیت بھی حاصل کی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پی ٹی سی ڈپلومہ، پنجاب میڈیکل فیکلٹی لاہور سے میڈیکل ٹیکنیشن کی تربیت، پنجاب فارمیسی کونسل سے اسسٹنٹ فارماسسٹ کی اہلیت، نیشنل کونسل فار ہومیوپیتھی اسلام آباد سے ڈی ایچ ایم ایس اور نیشنل طب کالج سے اسلامی نظامِ شفا کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ وہ محکمہ صحت پنجاب سے بھی وابستہ رہے۔
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے صحافت کا آغاز مطالعے اور حالاتِ حاضرہ سے گہری دلچسپی کے زیرِ اثر کیا۔ صحافی اسماعیل خان شہید سے متاثر ہو کر انہوں نے کالم نگاری اور مضمون نویسی کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کی تحریریں قومی و بین الاقوامی اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتی رہیں۔ ان کے صحافتی سفر کا ابتدائی دور مزاحمتی صحافت سے عبارت رہا۔ ان کے مطابق، اس راستے میں انہیں مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر انہوں نے قلم سے اپنا تعلق قائم رکھا۔ ان کی تحریروں میں معاشرتی مسائل، قومی معاملات، شخصیات اور حالاتِ حاضرہ موضوع بنتے رہے ہیں۔
اشاعتی اور اداراتی میدان میں وہ ہفت روزہ ڈراپ سین، ہفت روزہ چھچھ ویلی اور ہفت روزہ اجداد سے وابستہ رہے، جب کہ ہفت روزہ اجداد کی ادارت بھی کی۔ اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والے جریدے دی پی ایم اے ٹائمز کو تقریباً دو برس تک جاری رکھا۔ ادبی جریدے جمالیات سے بھی ان کی اداراتی وابستگی رہی۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے انہوں نے صحافت کے ساتھ ادبی اظہار اور اہلِ قلم کے لیے بھی اپنا حصہ ڈالا۔
ان کی تصانیف میں خراجِ تحسین، آؤ میلاد منائیں اور سبھی عنوان میرے شامل ہیں۔ خراجِ تحسین معروف صحافی، مدیر اور ان کے محسن سید تحسین حسین مرحوم کی شخصیت اور خدمات کے اعتراف میں لکھی گئی۔ اس کتاب کو محقق احمد نشاد نے ہزارہ یونیورسٹی میں اپنے پی ایچ ڈی مقالے میں بھی شامل کیا۔ آؤ میلاد منائیں مذہبی و نعتیہ ذوق کی ترجمان ہے، جب کہ سبھی عنوان میرے ان کے منتخب کالموں اور مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان تصانیف میں شخصیات سے محبت، تہذیبی و مذہبی وابستگی اور معاشرتی شعور کی جھلک ملتی ہے۔
پاک فوج، شہدائے وطن اور قومی سلامتی بھی ان کی تحریروں کے اہم موضوعات ہیں۔ وہ وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے اور پاکستان کے خلاف بھارتی پالیسیوں، مبینہ سازشوں اور منفی پروپیگنڈے پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کے بقول، ان موضوعات پر اظہارِ خیال کے باعث بھارت میں فیس بک پر ان کی تحریروں کی رسائی بند کروا دی گئی۔ وہ اس واقعے کو اپنے قلمی مؤقف کے اعتراف اور اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں۔
علاقائی ادب کے فروغ کے لیے ڈاکٹر شجاع اختر اعوان نے اکادمی ادبیات کیمبل پور کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے بانی کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے ادبی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا۔ ضلع اٹک میں کتاب میلوں کے انعقاد میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ ان میلوں کے ذریعے کتاب دوستی اور مطالعے کے رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔ ان خدمات کے اعتراف میں میونسپل کمیٹی اٹک کے چیف آفیسرز کی جانب سے انہیں تعریفی اسناد دی گئیں۔
ان کی ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں مختلف سرکاری، طبی، ادبی، ثقافتی اور صحافتی اداروں کی جانب سے انہیں اسناد، شیلڈز اور میڈلز پیش کیے گئے۔ ان میں ڈپٹی کمشنر اٹک عنان قمر، سابق ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا، ڈائریکٹر ہیلتھ راولپنڈی ڈویژن ڈاکٹر خالد محمود، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق صدور ڈاکٹر اسلم مروت اور ڈاکٹر سید فیاض بخاری، اور پنجاب کے سابق مشیرِ صحت ڈاکٹر سعید الٰہی کی جانب سے ملنے والی پذیرائی شامل ہے۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کی صوبائی قیادت نے انہیں ادبی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا، جب کہ وہ باغی رائٹرز فورم ایوارڈ کے لیے بھی منتخب ہوئے۔
ڈاکٹر شجاع اختر اعوان کی زندگی کا نمایاں پہلو ادب، صحافت، مطالعے اور سماجی و قومی موضوعات سے ان کی وابستگی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں، کتابوں، اداراتی خدمات اور ادبی سرگرمیوں کے ذریعے ضلع اٹک کی علمی و ادبی فضا میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ مطالعے سے جنم لینے والا شوق، مسلسل محنت اور قلم سے وابستگی انسان کو اپنی پہچان بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں






