اسرائیل میں انتخابات کے بعد ووٹو ں کی گنتی جاری، واضح اکثریت کسی کو نہ ملنے کا امکان

اسرائیل میں ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کو برتری حاصل ہے مگر ابھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
اسرائیل میں گزشتہ روز ہونے والے عام انتخابات کے بعد ووٹنگ کی گنتی تاحال جاری ہے اور اب تک 27 لاکھ(57 فیصد) سے زائد ووٹوں کی گنتی مکمل کرلی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں ان میں نیتن یاہو اتحاد کو 56 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہے جب کہ اپوزیشن کے آئزن کوٹ اتحاد کو 49 نشستوں پر برتری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتحاد سے ہٹ کرنیتن یاہو کی جماعت 28 نشستوں پر لیڈ کررہی ہے جب کہ اپوزیشن جماعت یاشر اکیلے اب تک 21 نشستوں پر لیڈ کررہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ انتخابات میں اسرائیل کی عرب جماعتیں اب تک 15 نشستوں پر لیڈ کررہی ہیں, اس وقت نیتن یاہو اتحاد اور آئزن کوٹ اتحاد دونوں اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ میں اکثریت کے لیے درکار 61 نشستوں تک پہنچنے سے دور نظر آرہے ہیں۔
ایک اور ایگزٹ پول کے مطابق نیتن یاہو اور حریف گادی آئزنکوٹGadi Eisenkot کے بلاک برابر ہیں جبکہ ایک پول میں نیتن یاہو اتحاد کو برتری کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سیکیورٹی خدشات اور غصے کی لہر کے دوران ہونے والی اس پولنگ میں عوام کی غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی اور مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق تقریباً 73 لاکھ قابلِ اعتماد ووٹرز میں سے 57 لاکھ سے زائد افراد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جس سے ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا جو کہ 1999 کے بعد سے بلند ترین شرح ہے۔
ابتدائی ایگزٹ پولز کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکمران پارٹی ’لکویڈ‘ سب سے بڑی سنگل پارٹی کے طور پر سامنے تو آئی ہے لیکن ان کا دائیں بازو اور کٹر مذہبی اتحادیوں پر مشتمل بلاک 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
اسرائیلی نیوز چینل ’چینل 12‘ کے ایگزٹ پول اور ابتدائی تخمینوں کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد ماضی کی 68 نشستوں کے مقابلے میں گر کر 52 نشستوں تک محدود ہوتا نظر آ رہا ہے، جس میں لکویڈ کو 27 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کے مرکزی رہنما اور سابق فوج کے سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد ’یشار‘ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں 49 نشستیں حاصل کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جن میں آئزن کوٹ کے اپنے اتحاد کو 21 سے 22 نشستیں مل سکتی ہیں۔
تاہم، حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی سادہ اکثریت فی الحال کسی بھی فریق کو حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی، جس کے باعث پارلیمنٹ میں شدید سیاسی جوڑ توڑ کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
اس انتخابی معرکے کا سب سے اہم پہلو عرب جماعتوں مشترکہ فہرست (جوائنٹ لسٹ) اور ’رعام‘ کا تاریخی ابھار ہے، جن کے 19 نشستیں حاصل کرنے کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں جو کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی تاریخ میں عرب نمائندگی کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
یہ پیشر فت حکومت سازی کے ممکنہ عمل میں عرب جماعتوں کو ایک کلیدی اور فیصلہ کن حیثیت میں لا کھڑا کر سکتی ہے۔
تاہم، بدھ کی صبح یروشلم میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بلاک کی نشستوں میں کمی کو تسلیم کرنے کے باوجود دعویٰ کیا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں صیہونی اور یہودی عوام کی اکثر یتی حمایت حاصل ہے، جبکہ انہوں نے عرب جماعتوں کو صیہونیت مخالف قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا۔
ایگزٹ پولز کی روشنی میں اپوزیشن رہنما گیڈی آئزن کوٹ نے کہا ہے کہ عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دے دیا ہے، لیکن حکومت سازی کا واضح اور آسان راستہ ان کے لیے بھی فی الحال چیلنج بنا ہوا ہے۔
اسرائیلی آئینی طریقہ کار کے مطابق حتمی نتائج کی سرکاری توثیق کے بعد ملک کے صدر سب سے زیادہ اکثریت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے والے رہنما کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے۔
آئزن کوٹ کو دیگر جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اور 61 نشستوں کا اتحاد بنانے کے لیے چار سے چھ ہفتے مل سکتے ہیں، تاہم اگر وہ یا نیتن یاہو اکثریت ثابت کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور پارلیمنٹ کسی نام پر متفق نہیں ہوتی تو اسرائیل کو ایک بار پھر دوبارہ عام انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے، جبکہ حتمی نتائج کے اعلان تک نیتن یاہو نگران وزیراعظم کے طور پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
عرب حامیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے جانے کے باعث ’رام‘ (Ra’am) اور ’جوائنٹ لسٹ‘ (Joint List) جماعتیں 18 نشستیں جیت سکتی ہیں-
آئزن کوٹ نے دفاعی اسٹیبلشمنٹ کو بتایا کہ نیتن یاہو عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں، بولے اسرائیلی عوام نے تبدیلی کے حق میں اور نیتن یاہو کے خلاف ووٹ دیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطا بق الیکشن کے حتمی نتائج میں کئی دن لگ سکتے ہیں، حکومت سازی میں بھی طویل وقت لگ سکتا ہے اور اس دوران نیتن یاہو بطور نگراں وزیر اعظم اقتدار میں رہیں گے۔
یاد رہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی 120 نشستوں پر حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہوگی۔



