آن لائن لائیو اسٹریمنگ مہنگی پڑ گئی،خواتین کی نجی ویڈیوز لیک

بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں آن لائن لائیو اسٹریمنگ ایپس کے ذریعے رقم کمانے والی نوجوان خواتین کی نجی ویڈیوز مبینہ طور پر ان کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرکے مختلف ویب سائٹس پر اپ لوڈ کیے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ شملہ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ایسے پانچ معاملات کی شکایات موصول ہوئی ہیں، جن کی سائبر کرائم پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ خواتین نے شکایت کی ہے کہ لائیو اسٹریمنگ کے دوران ان کی ویڈیوز ریکارڈ کی گئیں اور بعد ازاں انہیں مختلف ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردیا گیا۔ سائبر کرائم سیل متاثرہ ویڈیوز کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے بھی کارروائی کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک متاثرہ خاتون نے سائبر کرائم سیل کو بتایا کہ اس نے رقم کمانے کے لیے لائیو اسٹریمنگ ایپ جوائن کی تھی، جس کے ذریعے وہ تین سے چار لاکھ روپے کمانے میں کامیاب رہی۔ تاہم، بعد میں اسے معلوم ہوا کہ لائیو اسٹریمنگ کے دوران شیئر کی گئی اس کی ویڈیو قابل اعتراض ویب سائٹس پر اپ لوڈ کردی گئی ہے۔ خاتون نے اس معاملے میں سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کرائی۔رپورٹ کے مطابق تقریباً تین سے چار ماہ قبل شملہ کے علاقے چوپال سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔ خاتون نے پولیس سے رابطہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ شملہ کے رج میدان، مال روڈ اور دیگر علاقوں سے متعلق دو خواتین کی قابل اعتراض ویڈیوز ایک ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیے جانے کے معاملات بھی سامنے آئے، جن کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔حکام کے مطابق سماجی بدنامی کے خوف کے باعث ایسے واقعات کی تمام متاثرین کی جانب سے شکایات سامنے نہیں آتیں، جس کی وجہ سے ان معاملات کی مکمل تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔شملہ کے سائبر کرائم سیل نے ان واقعات کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، جبکہ متاثرہ خواتین کی نجی ویڈیوز کو متعلقہ ویب سائٹس سے ہٹانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
مزید پڑھیں



