منگل، 3 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پولیس افسران کی ترقیوں کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیلیں خارج


سپریم کورٹ نے 2 پولیس افسران مصطفیٰ حسن اور رضا عباس کی ترقیوں کے فیصلوں کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے دائر اپیلیں زائد المعیاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دیں۔


جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس کے دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ موجودہ کیسز زائد المعیاد ہیں اور ایسی درخواستیں بظاہر جان بوجھ کر تاخیر سے دائر کی جاتی ہیں۔


افسران کا مؤقف ہے کہ اپیلیں دائر کرنے کے لیے وقت نہیں تھا اور وہ دیگر مصروفیات کے باعث بروقت درخواستیں دائر نہیں کر سکے۔


جسٹس عرفان سعادت نے تاخیر کی وجوہات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواستوں میں تاخیر کے لیے جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ انتہائی غیر معقول ہیں، عدالتیں ایسی وجوہات کو کیسے تسلیم کر سکتی ہیں, جسٹس محمد علی مظہر نے بھی ریمارکس دیے کہ ایسی وجہ کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔


دوران سماعت ایڈیشنل پروسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ بظاہر درخواستیں صرف دکھاوے کے لیے دائر کی گئی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں خود درخواستوں کے زائد المعیاد ہونے کا علم نہیں تھا موجودہ کیس میں انہیں تقریباً 50 افسران کی فون کالز موصول ہوئی ہیں، جبکہ میرٹ پر یہ بہت اچھا کیس ہے اور اگر اس حوالے سے فیصلہ آتا ہے تو اس کے اثرات ہزاروں مقدمات پر مرتب ہو سکتے ہیں۔


اس پر جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ افسران جان بوجھ کر اپیلیں تاخیر سے دائر کرتے ہیں، پھر درخواستیں خارج ہونے کی صورت میں عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ ڈال دیا جاتا ہے,ہم انسانوں کو تو جوابدہ ہیں، اللہ کو نہیں، جس دن ہم اللہ کو جوابدہ ہوں گے اس دن معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا۔


عدالت نے قرار دیا کہ اپیلیں مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی ہیں اور تاخیر کی بیان کردہ وجوہات بھی قابل قبول نہیں، جس کے بعد پنجاب حکومت کی اپیلیں زائد المعیاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی گئیں۔