دریائی پانی اور سندھ طاس معاہدہ،تحریر: مرزا عارف رشید
نقطہ نظر
پاکستان میں بارشوں کی کمی کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی بہت نیچے ہوتا جا رہا بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال بہت خراب ہوتی جا رہی ہے ڈیم کی۔ صفائی نہ ہونا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے ان پر ابھی تک کسی نے بھی توجہ نہیں دی گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے گلیشیرز پانی کی صورت اختیار کرتے جا رہیں ہیں اگر بات کی جائے ملکی دریاؤں کی تو اس وقت سندھ طاس معاہدہ پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا 19ستمر 1960 کو پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم پر عالمی معاہدہ کیا گیا تھا ولڈ بینک اس معاہدے کا ضامن بنا اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان اور بھارت کے وزیر اعظم جوہر لال نہرو کے درمیان کراچی میں معاہدے پر دستخط کیے تھے جن میں 6 دریاؤں کی تقسیم کی گئی عالمی معاہدے کے تحت ان دریاؤں پر پاکستان کا حق ہے بھارت بہتے ہوئے پانی پر بجلی پیدا کر سکتا جبکہ پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا لیکن بھارت نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور پھر بھارت نے پاکستان کے دریاؤں پر پن بجلی گھر تعمیر کرنا شروع کردیئے پاکستان کے لیے 3 مغربی دریا سندھ جہلم اور چناب مختص کیے گئے جن کا 80 فیصد پانی کا حق پاکستان کو ہوگا ان دریاؤں کا بہاو بھی کم نہیں کیا جائے گا لیکن بھارت کی نیت پہلے دن سے خراب تھی دونوں ملکوں نے سلال ڈیم کا تنازعہ 1978 میں حل کیا گیا پھر 2000 کی دہائی بگلیہار ڈیم کا تنازعہ اٹھایا گیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر دریا چناب پر ڈیم بنا شروع کر دیا پاکستان نے عالمی عدالت میں اعتراضات اٹھائے پاکستان نے 4 اعتراضات میں سے تین اعتراضات پر پاکستان کا موقف تسلیم کر لیا گیا جس پر بھارت کو ڈیم کا ڈیزائن تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا عالمی عدالت نے حکم دیا کی دریا چناب کے پانی کا بہاو کم نہ کیا جائے بھارت کی نیت شروع دن سے ہی ٹھیک نہیں تھی 2007 میں دوبارہ بھارت نے دریا جہلم پر ڈیم بنانا شروع کر دیا یہ معاملہ بھی عالمی ثالثی عدالت میں اٹھایا گیا 2013 میں عالمی عدالت نے کہا کے اگرچہ بھارت ڈیم نہیں بنا سکتا ہے دریا کے بہاو کو کم نہیں کر سکتا بھارت کو کہا گیا کہ پانی کے بہاو کو یعقینی بنایا جائے بھارت عالمی عدالت کے فیصلہ سے نہ خوش ہے بھارت کی موجودہ حکومت نے متعدد بار دریا چناب کا پانی روکے رکھا اور مودی سرکار نے اس معاہدے کی خلاف ورزی بھی کرتی رہتی ہے جبکہ عالمی معاہدے کے دستاویز پر لکھا گیا تھا کے دونوں ملکوں کے درمیان ہوا تھا اور اب اس معاہدے کو توڑنا نہ مکمکن ہوگا لیکن مودی سرکار نے اس معاہدے پر کبھی بھی عملدرآمد نہیں کیا بھارت نے عالمی معاہدے کی پاسداری نہیں کی جس پر مشرقی دریا ستلج بیاس اور راوی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا مغربی دریاؤں سے بھارت صرف محدود پیمانے پر پانی لے سکتا تھا بھارت نے چناب پر بگلیہار ڈیم کا منصوبہ بنایا اور نیلم جہلم پر کشن گنگا ڈیم منصوبہ بنایا معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمشن قائم کیا گیا جو اجلاس ہر سال ہونا ہوتا ہے معاہدے کے تحت پاکستان کو آپنے آبی ذخائر بڑھانے ہوتے ہیں جس میں عالمی بینک امریکہ کینڈا اور دیگر ممالک سے پاکستان کو 90 کروڑ ڈالر امداد دی گئی جس میں پاکستان نے تربیلا اور منگلا جیسے بڑے ڈیمز تعمیر کیے سندھ طاس معاہدے کے مطابق جنگی حالات میں بھی دریاؤں کا پانی چلتا رہے گا لیکن افسوس بھارت اج بھی اپنے معاہدے پر پورا نہیں اتر رہا انے والے دنوں میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے جس طرح بھارت تیزی سے ڈیم تعمیر کر رہا ہے لیکن افسوس پاکستان میں ابھی تک اس بارے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا جا رہا قصور میں دریا ستلج میں واقع ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 4 لاکھ کیوسک کی گنجائش ہے دریا دیپالپور کے نزدیک دریا ستلج اور سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر 3 لاکھ 25 ہزار کی گنجائش بہاولنگر کے نزدیک ہیڈ اسلام پر 3 لاکھ کیوسک کا نکاس ہو سکتا ہے لاہور کے نزدیک دریا روای پر ہیڈ بلوکی کے مقام 2 لاکھ 25 ہزار کی گنجائش ہے سیالکوٹ مرالہ ہیڈ ورکس کے مقام پر 11لاکھ کیوسک کی گنجائش ہے خانیوال سدھنائی ہیڈ ورکس کے مقام پر 1 لاکھ 27 ہزار کیوسک کی گنجائش ہے گوجرانوالہ کے نزدیک دریاے چناب ہیڈ خانگی کے مقام پر 11لاکھ کیوسک کی گنجائش موجود ہے منڈی بہاوالدین قادرآباد کے مقام پر 8 لاکھ کیوسک کی گنجائش رکھتا ہے چنیوٹ برج دریا چناب کے مقام پر 6 لاکھ کیوسک پانی گزر سکتا جھنگ کے نزدیک تریموں اور جہلم پر واقع 8 لاکھ 75 ہزار کی گنجائش ہے ملتان کے نزدیک ہیڈ محمد والا 6 لاکھ کیوسک کی گنجائش موجود ہے اوچشریف کے مقام پر ہیڈ پنجند پر تمام دریا اکٹھے ہوتے ہیں یہاں سے 8 لاکھ 65 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش موجود ہے دریاے جہلم پر دوسرا بڑا آبی ذخیرہ منگلا ڈیم واقع کشمیر کے پانچ دریاؤں کا پانی اس ڈیم سے گزرتا ہے جہلم رسول بیراج سے 8 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزرتا ہے میانوالی کے نزدیک دریا سندھ جناح برانچ سے 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارا جا سکتا ہے میانوالی کے چشمہ برانچ میں ایک ہی وقت میں 11لاکھ کیوسک پانی گزرنے کی کنجائش موجود ہے ڈیڑہ غازی خان میں واقع تونسہ برانچ سے 10 لاکھ کیوسک سے پانی گزارنے کی گنجائش موجود ہے کشمور میں دریا سندھ گڈو بیراج سے 12لاکھ کیوسک کی گنجائش موجود ہے دریاے سندھ میں واقع سکھر بیراج 11لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزرنے کی گنجائش موجود ہے دریاے سندھ جام شورو کوٹری کے مقام پر 8لاکھ 75 ہزار کیوسک پانی گزارنے کی گنجائش موجود ہے لاکھوں کیوسک پانی دریا سندھ سے ہوتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر سمندر کی نظر ہو جاتا ہے دنیا اپنا پانی ذخیرہ کرتی ہے تو دوسری طرف ہمارے دریاؤں کا پانی سمندر میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ ہمارے پاس دریاؤں میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ ڈیم تعمیر ہو سکتے لیکن کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی سیلابی صورتحال میں فصلیں برباد ہو جاتی ہیں لاکھوں گھروں کا نقصان اور معیشت تباہ ہو جاتی ہے اج تک ملک میں ڈیم نہ بن سکے ڈیم سیاست کی بھینٹ چڑھ گئے بتایا جاتا ہے بھارت نے 5 ہزار سے زائد ڈیم بنا رکھے ہیں پاکستان میں بیشتر علاقے اب بھی پانی سے محروم ہیں دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے ہم ابھی بھی لوڈشیڈنگ کر کے گزرا کر رہیں ہیں بارشوں میں بہت زیادہ کمی ہوتی جا رہی ہے زیر زمین پانی کی سطح بھی بہت نیچے چلی گئی ہے پاکستان میں ہر سال ایک میٹر پانی نیچے ہوتا جا رہا صاف پانی سیوریج کی نظر ہوتا جارہا ہے بیشتر علاقوں میں لوگ سیوریج کا گندہ پانی استمعال کر رہیں ہیں ملک میں ڈیم بنانا انتہائی ضروری ہوگیا ہے اس پر توجہ نہیں دی جا رہی اگر یہی حال رہا تو ایک دن آئے گا جب پانی پر جنگیں ہوگی
مزید پڑھیں




