امریکی رکن کانگریس کے سابق منگیتر سمیت تین افراد پر جنسی جرائم کے الزامات عائد

امریکی رکن کانگریس نینسی میس کے سابق منگیتر پیٹرک برائنٹ سمیت تین افراد پر جنسی جرائم کے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔
یہ کارروائی کانگریس کی رکن کی جانب سے فروری 2025 میں ایوانِ نمائندگان میں خواتین کے خلاف مبینہ جنسی جرائم سے متعلق انکشافات کے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے بعد سامنے آئی ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق پیٹرک برائنٹ اور ان کے ساتھی ایرک برنارڈ بومن پر 2018 میں ایک 23 سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے دوران نگرانی کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ استغاثہ کے مطابق خاتون اس وقت شدید نشے کی حالت میں تھیں اور مبینہ طور پر اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھیں۔تیسرے ملزم جان ڈگلس اوسبورن کو تیسرے درجے کے جنسی حملے کے دو الزامات، جبکہ پہلے درجے کے حملے اور تشدد کے الزام کا بھی سامنا ہے۔ حکام کے مطابق مبینہ واقعے کے دوران تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی گئیں۔رپورٹ کے مطابق مبینہ واقعہ جنوبی کیرولائنا کے علاقے سلیوانز آئی لینڈ میں 2018 میں پیش آیا تھا، جبکہ نینسی میس اور پیٹرک برائنٹ کی منگنی 2022 میں ہوئی اور دونوں نے 2023 میں علیحدگی اختیار کر لی تھی۔نینسی میس نے فروری 2025 میں ایوانِ نمائندگان کے فلور پر تقریر کرتے ہوئے تینوں افراد کے خلاف خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی غیر رضامندانہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے، جنسی زیادتی اور استحصال سے متعلق الزامات کا ذکر کیا تھا۔نینسی میس نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ انہیں خواتین کے خلاف سنگین مبینہ جرائم کا علم ہوا، جن میں غیر رضامندانہ تصاویر اور ویڈیوز بنانا اور متاثرین کا منصوبہ بندی کے تحت استحصال کرنا شامل تھا۔رپورٹ کے مطابق پیٹرک برائنٹ نے بعد ازاں نینسی میس کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ بھی دائر کیا، جبکہ میس نے امریکی آئین کی شقِ آزادیٔ اظہار و مباحثہ کے تحت تحفظ کا مؤقف اختیار کیا۔
مزید پڑھیں





