ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فلیٹ نمبر 402 کا سایہ ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

نقطہ نظر
almas fatimah

لاریب نے جب سے یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی تھی، اس کی زندگی ایک عجیب مایوسی اور الجھن کا شکار ہو گئی تھی۔ نوکری وہ چھوڑ چکی تھی اور اب گھر والوں نے اس کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا تھا۔ لوگوں کا آنا جانا لگا تھا، لیکن لاریب اس بات پر سخت پریشان تھی کہ جس چھوٹے سے فلیٹ میں وہ مقیم تھے، وہاں اتنے مہمانوں کی آمد و رفت اور خاطر تواضع کیسے ممکن ہوگی۔ مگر یہ پریشانی تو محض ایک ظاہری بہانہ تھی، اصل خوف تو اس فلیٹ کے اندر چھپا ہوا تھا جہاں وہ چند ماہ پہلے ہی شفٹ ہوئے تھے۔ اس فلیٹ میں کچھ ایسے پراسرار مسائل تھے جن کا ذکر وہ بدنامی کے ڈر سے کسی سے نہیں کر سکتے تھے۔


لاریب کے کمرے کی واحد کھڑکی باہر سڑک کی طرف کھلتی تھی۔ دن کے وقت تو وہاں زندگی کی چہل پہل ہوتی، لیکن جیسے ہی رات کا اندھیرا پھیلتا، وہاں کچرے کے ڈھیر کے گرد ایک گہرا سناٹا چھا جاتا۔ لاریب خوف کے مارے رات کو کھڑکی کے پٹ مضبوطی سے بند کر دیتی، لیکن وہ دیواریں آوازوں کو روکنے میں ناکام رہتیں۔ رات کے پچھلے پہر اسے کھڑکی کے پار سے کبھی کسی کے زار و قطار رونے کی دلدوز آواز آتی، تو کبھی اچانک کسی کی بھیانک اور پراسرار ہنسی گونجنے لگتی جو سناٹے کا سینہ چاک کر دیتی۔ خوف کی انتہا تو تب ہوئی جب ایک رات سوتے میں لاریب کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی نادیدہ وجود اسے بستر سے اوپر اٹھا رہا ہو۔ وہ خوف سے منجمد ہو گئی، اس کا گلا خشک ہو گیا اور وہ چیخنے کے قابل بھی نہ رہی۔


اس فلیٹ میں عجیب و غریب واقعات کا سلسلہ اسی دن سے شروع ہو گیا تھا جب وہ یہاں منتقل ہوئے تھے۔ شفٹ ہونے کے اگلے ہی دن، لاریب جب گیلری میں گئی تو وہاں فرش پر لکڑی کا ایک پرانا "رحل" (قرآن پاک رکھنے کا اسٹینڈ) کھلا ہوا ملا۔ یہ بات حیران کن تھی کیونکہ ان کا اپنا رحل سامان کے کارٹن میں بند تھا۔ انہوں نے حیرت اور عقیدت کے مارے اسے اٹھا کر پہلے الماری کے اوپر رکھ دیا، لیکن جب فلیٹ کے حالات خراب ہونے لگے تو پاپا نے اسے قریبی مسجد میں رکھوا دیا۔ مگر اس سے بھی حالات نہ بدلے۔ شروع شروع میں فلیٹ کی لائٹس خود بخود جلنے اور بجھنے لگتی تھیں، اور وہ بھی اس طرح جیسے کوئی باقاعدہ سوئچ کو پکڑ کر اوپر نیچے کر رہا ہو۔


خوف کا سب سے بڑا دھماکہ اس رات ہوا جب فلیٹ کا دوسرا کمرہ نشانہ بنا۔ لاریب کے پاپا تھکے ہارے اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹے ہی تھے کہ اچانک اندھیرے میں کسی نے ان کا ہاتھ پوری طاقت سے اپنی طرف کھینچا۔ پاپا خوف اور درد سے چیخنے چلانے لگے۔ لاریب اور اس کی امی بھاگتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں تو منظر دیکھ کر ان کے خون جم گئے۔ پاپا بستر پر تڑپ رہے تھے اور ہوا میں یوں جکڑے ہوئے تھے جیسے کسی طاقتور نادیدہ مخلوق نے انہیں اپنے مہیب حصار میں لے رکھا ہو۔ پاپا کی آنکھیں باہر کو ابل رہی تھیں اور وہ بمشکل سانس لے پا رہے تھے۔ لاریب نے ہڑبڑا کر آیت الکرسی پڑھنا شروع کی تو چند لمحوں بعد وہ گرفت ڈھیلی ہوئی اور پاپا نڈھال ہو کر گر پڑے۔


اگلی ہی صبح، خوفزدہ فلیٹ خالی کرنے کا فیصلہ کر کے جب پاپا نیچے بلڈنگ کے چوکیدار کے پاس گئے اور رات کا ماجرا سنایا، تو چوکیدار نے افسوس سے سر ہلایا اور ایک ایسی بات کہی جس نے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ چوکیدار نے سرگوشی میں بتایا: "صاحب! اس فلیٹ میں پانچ سال پہلے ایک بزرگ رہتے تھے جو رات بھر رحل پر قرآن کی تلاوت کرتے تھے اور تہجد کے وقت لائٹ جلایا بجھایا کرتے تھے۔ ایک رات کچھ چوروں نے فلیٹ میں گھس کر انہیں اسی دوسرے کمرے میں ہاتھ باندھ کر تشدد کر کے مار ڈالا۔ تب سے وہ بزرگ کسی گنہگار یا بے نمازی کو اس فلیٹ میں ٹکنے نہیں دیتے۔ وہ رحل مسجد میں بھیجنے سے پہلے ان کا تھا... اور صاحب! شاید وہ رات کو آپ کو اٹھا کر نماز کے لیے جگاتے تھے، اور تلاوت نہ ہونے پر ان کی روح تڑپ کر روتی اور ہنستی ہے!"


لاریب نے جب یہ سنا تو اسے احساس ہوا کہ وہ جسے عذاب سمجھ رہے تھے، وہ دراصل اس فلیٹ کے اصل مقیم کا ان کو راہِ راست پر لانے کا ایک خوفناک مگر پراسرار اشارہ تھا۔