پشاور میں منہدم ہونے والے اسکول مالک کا بیان سامنے آ گیا

پشاور: منہدم ہونے والے اسکول مالک کا بیان سامنے آ گیا-
نجی اسکول کے مالک خان محمد نے بتایاکہ اسکول کی بنیاد ڈیڑھ سال پہلے رکھی تھی، کئی دنوں سے بارشیں ہوئیں، اس وجہ سے واقعہ پیش آیاصبح خود متاثرہ کلاس میں گیا تھا، واقعہ ہوا تو تمام اساتذہ کو بلاکر بچوں کو نکالنا شروع کیا، دوسری منزل پر صرف ایک کمرہ گرا، ایک کمرےکی وجہ سےنیچے کے کمرے بھی گرے،متاثرہ کلاس میں تقریباً 30 بچے تھے،مجموعی طور پر اسکول میں 350 طلبہ زیرتعلیم تھے-
دوسری جانب سیکرٹری ایجوکیشن عنایت اللہ وسیم کا کہنا ہے کہ عمارت مخدوش حالت میں تھی، ہمیں عمارت سے متعلق کسی نے نہیں بتایا، واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی بنادی ہے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا معائنہ کیاجائے گا، زخمی بچوں کے علاج کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے میں زخمی ہونے والے 32 بچوں کی فہرست جاری کردی گئی ہے، جبکہ ریکارڈ کے مطابق ایک بچی کی میت بھی موصول ہوئی ہے۔
دستیاب فہرست کے مطابق زخمی بچوں میں احمد، مزمل، سارہ، عتیق، مرتضیٰ، احمد علی، ولید، ماہ نور، محمد عمران، محمد، معاویہ، عادل، فاروق، عبید، عمران، موسیٰ، حسنین، عتیق الرحمٰن، شاہ فہد، رابعہ، آفتاب، رومان، اسلام، مزمل، ودود، خان ایاز، زوہیب، سائرہ، موسیٰ، انور، رفعت اور دعا شامل ہیں۔
فہرست میں زیادہ تر بچوں کو معمولی چوٹیں آنے کا اندراج ہے، تاہم ماہ نور اور موسیٰ کے سر پر چوٹیں آنے، جبکہ دعا کے پاؤں میں فر یکچر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بعض دیگر بچوں کے جسم اور گھٹنوں پر چوٹیں آنے کا بھی ذکر ہے،دستیاب ریکارڈ میں رومیصہ کے نام کے سامنے ’میت موصول ہوئی‘ درج ہے، جبکہ رومان کے نام کے سامنے معمولی چوٹ آنے کا اندراج موجود ہے۔
مزید پڑھیں



