بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جھگڑالو والدین ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

معاشرے کی بنیاد خاندانی نظام پر قائم ہے اور خاندانی عمارت کا سب سے اہم ستون والدین ہوتے ہیں لیکن جب یہی ستون محبت اور سکون کی بجائے ذہنی اذیت اور تناؤ کا مرکز بن جائیں تو اسے جھگڑالو یا ٹاکسک پیرنٹنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش ناسور ہے جو اولاد کے بچپن، جوانی اور پوری زندگی کی ذہنی صحت کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹتا رہتا ہے، اور اس المیے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے اس کے ہر ایک پہلو کا سنجیدہ تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہو جاتا ہے۔


ٹاکسک یا منفی رویے والے والدین سے بنیادی طور پر ایسے ماں باپ مراد ہیں جو اپنے بچوں کی جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کو سمجھنے یا پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اس کے برعکس اپنے کنٹرول، غصے، مسلسل تنقید اور جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے بچوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتے ہیں۔ ایسے گھرانوں میں پیار اور شفقت شرطیہ بن جاتی ہے جہاں ہر قدم پر بچے کو یہ جتلایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح والدین کے معیار پر پورا نہیں اتر رہا، اور یوں گھر جو اصل میں پناہ گاہ ہونا چاہیے، ایک میدانِ جنگ بن جاتا ہے۔


اس تلخ رویے اور مزاج کے پیچھے کئی پوشیدہ نفسیاتی اور سماجی وجوہات کارفرما ہوتی ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ خود ان والدین کا اپنا بچپن ہوتا ہے جو شدید سختی یا محرومیوں میں گزرا ہوتا ہے، اور وہ لاشعوری طور پر وہی تلخ طریقہ اپنے بچوں پر دہراتے ہیں۔ اس کے علاوہ شدید ذہنی دباؤ، مالی مشکلات، زندگی کی فرسٹریشن، اور نارسزم جیسی ذہنی کیفیات بھی شامل ہوتی ہیں جن میں انسان کو اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کا دکھ درد محسوس ہی نہیں ہوتا اور وہ اپنی ناکامیوں کا غصہ بے قصور بچوں پر نکالتے ہیں۔


اس ماحول میں پلنے والے معصوم بچے لاشعوری طور پر بہت سے منفی اور زہریلے رویے سیکھ جاتے ہیں، جن میں سب سے نمایاں چیز یہ ہے کہ وہ محبت کو ایک مشروط شے سمجھنے لگتے ہیں اور یہ مان لیتے ہیں کہ تعریف صرف اس وقت ملتی ہے جب وہ دوسروں کی مرضی کے غلام بن جائیں۔ وہ ہر بات پر خود کو قصوروار ٹھہرانا، اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھانا، اور ڈر کے سائے میں جینا اپنی زندگی کا معمول بنا لیتے ہیں، جس سے ان کی اپنی آنے والی گھریلو زندگی بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔


بچوں کی شخصیت اور مزاج پر اس کے انتہائی گہرے اور دیرپا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ مسلسل تو تو میں میں اور خوف کے سائے میں پروان چڑھنے والے بچے شدید اینزائٹی، ڈپریشن، اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کے اندر فیصلے کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، وہ زندگی کے ہر موڑ پر خود کو ناکام سمجھتے ہیں، اور معاشرے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ صحت مند تعلقات استوار کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ ان کے دل میں ہر رشتے کے ٹوٹ جانے کا خوف بسا ہوتا ہے۔


اس صورتحال سے نجات حاصل کرنے اور بچاؤ کے لیے یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے تو اس زہریلے ماحول کی حقیقت کو تسلیم کیا جائے، پھر بچوں کو چاہیے کہ وہ والدین کے غیر ضروری دباؤ سے جذباتی فاصلہ قائم کریں اور اپنی ذاتی حدود کا تعین کریں۔ خود کو قصوروار سمجھنا چھوڑ کر پروفیشنل کونسلرز یا ماہرینِ نفسیات کی مدد لی جائے تاکہ بچپن کے زخموں کا مداوا ہو سکے اور انسان اپنی انفرادی شناخت اور اعتماد کو بحال کرتے ہوئے ایک پراعتماد زندگی کی طرف قدم بڑھا سکے۔


اس جذباتی اذیت، مسلسل ذہنی تناؤ اور اس سے جنم لینے والی اینزائٹی کے علاج کے لیے ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں انتہائی موثر ادویات موجود ہیں جیسے کہ 'نیٹرم میور' جو صدمات اور پرانے غموں کو دل میں دبانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اداسی اور غصے کو رفع کرتی ہے، 'اگنیشیا' جو جذباتی دھچکوں، رنج و غم اور اعصابی کمزوری کا بہترین مداوا ہے، اور 'ارسینیکم البم' جو بے چینی، خوف اور شدید وہم کی کیفیت کو ختم کر کے ذہنی سکون اور اعصابی توازن بحال کرنے میں مدد دیتی ہے۔