پاکستان ہے یا اشرافیشتان،تحریر: غنی محمود قصوری
نقطہ نظر
میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم آج بھی پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں مگر ہم جی بہت بے حسی میں رہے ہیں, قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ترقی ضرور ہوئی ہے سڑکیں بنی ہیں، عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں، تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں، ٹیکنالوجی آئی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں تبدیلیاں بھی آئی ہیں
لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری ترقی کی رفتار اتنی سست کیوں ہے؟
دنیا کے کئی ممالک ہم سے آگے نکل گئے جبکہ ہم آج بھی بنیادی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں
جس کی بڑی وجوہات میں کرپشن، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کو نوازنے کا نظام شامل ہے
آج ہمارے معاشرے کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ محنت کرنے والا طبقہ زندگی بھر محنت کرتا ہے لیکن اسے اس محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا جبکہ دوسری طرف مراعات یافتہ طبقہ ملازمت کے دوران بھی بہتر سہولتیں حاصل کرتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسے ایسے مالی فوائد ملتے ہیں جن کا ایک عام شہری تصور بھی نہیں کر سکتا
ذرا ایک ضلعی یا تحصیل سطح کے سرکاری دفتر کی مثال لیجیے، وہاں کام کرنے والے ایک چپڑاسی کی تنخواہ اگر 30 سے 35 ہزار روپیہ ہو گی جبکہ اسی دفتر کے سربراہ کی تنخواہ ڈھائی سے 3 لاکھ روپیہ تک ہوتی ہے
تو پھر یہ فرق اپنی جگہ ایک سوال ضرور پیدا کرتا ہے
میں یہ نہیں کہتا کہ سربراہ کی ذمہ داریاں کم ہیں
یقیناً اس کے فرائض، فیصلوں اور انتظامی امور کی اپنی اہمیت ہے لیکن کیا نچلے درجے کے ملازم کی محنت، ضروریات اور انسانی وقار کی کوئی اہمیت نہیں؟
دفتر کھلنے سے لے کر بند ہونے تک چھوٹے ملازمین مختلف نوعیت کے کام کرتے ہیں، فائلیں اٹھانا، دفتری امور میں معاونت، لوگوں کی رہنمائی اور افسران کی ہدایات پر عمل کرنا، یہ سب ان کی روزمرہ ذمہ داریوں کا حصہ ہوتا ہے
مگر ان کی تنخواہ محدود ہوتی ہے، گھر کے اخراجات بڑھتے رہتے ہیں، بچوں کی تعلیم، علاج، بجلی اور گیس کے بل ان کے سامنے کھڑے رہتے ہیں ،مہینے کے اختتام سے پہلے ہی تنخواہ ختم ہونے لگتی ہے
پھر جب یہی ملازم ریٹائر ہوتا ہے تو اس کے سامنے ایک نیا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ اگر اس کی پنشن صرف 15 سے 20 ہزار روپیہ ماہانہ رہ جائے تو وہ اس رقم میں اپنے گھر کا خرچ کیسے چلائے؟
اس کے بچے ہیں، ان کی ضروریات ہیں، گھر کے اخراجات ہیں اور خود اس کی عمر بھی ایسی ہوتی ہے کہ جسم پہلے جیسی محنت کرنے کی اجازت نہیں دیتا
اس کے برعکس اعلیٰ عہدے پر فائز افسر کی تنخواہ، پنشن، جی پی فنڈ اور دیگر مراعات کا حجم کہیں زیادہ ہو جاتا ہے
بعض صورتوں میں ریٹائرمنٹ کے وقت ملنے والی رقم بھی لاکھوں یا کروڑوں روپیہ تک پہنچ جاتی ہے جس سے وہ کاروبار کرکے الگ سے پیسہ بھی کماتا ہے اور ماہانہ پنشن بھی لیتا ہے
میرا سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کا تقاضا صرف یہ ہے کہ جس کی تنخواہ پہلے زیادہ ہے، اسے بڑھاپے میں بھی زیادہ سے زیادہ سہولتیں ملتی رہیں؟
جبکہ کم تنخواہ لینے والا شخص اپنی زندگی کے آخری حصے میں بنیادی ضروریات کے لئے بھی پریشان رہے؟
ذمہ داریوں کے فرق کو تسلیم کیا جانا چاہیے مگر اس فرق کا مطلب یہ تو نہیں کہ ایک انسان بڑھاپے میں آسودگی سے زندگی گزارے اور دوسرا دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہو
انصاف کا مطلب سب کی تنخواہ ایک جیسی کرنا بھی نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی انسان کی بنیادی ضروریات اور عزتِ نفس کو اس کی آمدن کی کمی کی وجہ سے پامال نہ ہونے دیا جائے
میرا ایک اور سوال ہے کہ
چھوٹا موٹا دکاندار،ریڑھی لگانے والا اور دیگر گیکٹری و رنگ روغن،تعمیراتی کام کا مزدور کیا اس ملک کا شہری نہیں؟
اب ذرا سرکاری ملازمت سے باہر نکل کر اس مزدور کی طرف دیکھیے جو 40، 50 بلکہ 60 سال تک محنت مزدوری کرتا ہے
کوئی اینٹیں اٹھاتا ہے، کوئی سڑک بناتا ہے، کوئی کھیتوں میں کام کرتا ہے، کوئی ورکشاپ میں پسینہ بہاتا ہے اور کوئی سارا دن دھوپ میں کھڑا ہو کر اپنے بچوں کے لیے روٹی کماتا ہے
وہ بھی پاکستان کا شہری ہے وہ بھی اس ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتا ہے
اس کے ہاتھوں سے عمارتیں بنتی ہیں، سڑکیں تعمیر ہوتی ہیں، فصلیں اگتی ہیں اور صنعتوں کا پہیہ چلتا ہے لیکن جب اس کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، کمر جھک جاتی ہے اور جسم محنت کے قابل نہیں رہتا تو اس کے لئے کون سا نظام موجود ہے جو اسے گھر بیٹھے کو پنشن دے؟
ایک عام مزدور کو نہ ملازمت کے دوران لازماً پنشن کی سہولت حاصل ہوتی ہے، نہ ہر مزدور کو سوشل سکیورٹی میسر ہوتی ہے اور نہ بڑھاپے میں علاج اور بنیادی ضروریات کی ضمانت ہوتی ہے
کچھ اداروں اور شعبوں میں مزدوروں کے لئے سماجی تحفظ کی اسکیمیں ضرور موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان کا دائرہ ہر ضرورت مند محنت کش تک پہنچتا ہے؟
کیا مزدور نے اس ریاست کے لیے محنت نہیں کی؟
کیا اس نے اس ملک کی معیشت میں حصہ نہیں ڈالا؟ کیا اس کے بچوں کو تعلیم، اس کے گھر کو بجلی اور اس کے جسم کو علاج کی ضرورت نہیں ہوتی؟
اگر ایک شخص ساری زندگی محنت کرتا رہا اور بڑھاپے میں اس کی آمدن ختم ہو گئی تو کیا ریاست اسے بے سہارا چھوڑ دے؟
کیا اس کا مقدر صرف یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے، رشتہ داروں کی مدد کا محتاج ہو یا معاشرے میں بھیک مانگنے پر مجبور ہو جائے؟
یہ سوال صرف مزدور کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے
کاروباری شخص نے ٹیکس دیا، بڑھاپے میں کیا ملے گا؟
ایک ایسا شخص بھی ہماری توجہ کا مستحق ہے جس نے ساری زندگی کاروبار کیا اس نے اپنی محنت سے روزگار پیدا کیا، قانونی طور پر ٹیکس ادا کیا، اپنے گھر کا نظام چلایا اور ملک کی معیشت میں حصہ ڈالا مگر بڑھاپے میں جب اس کا کاروبار کمزور پڑ جائے، جسم جواب دینے لگے اور آمدن کے ذرائع محدود ہو جائیں تو اس کے لئے کیا انتظام ہے؟
یہ درست ہے کہ ہر کاروباری شخص کی مالی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی
کچھ لوگ کروڑوں کے مالک ہوتے ہیں جبکہ بہت سے چھوٹے دکاندار اور کاروباری افراد اپنی پوری زندگی محدود آمدن میں گزارتے ہیں اس لئے صرف کاروبار کرنے کی بنیاد پر کسی کو خوش حال سمجھ لینا بھی درست نہیں
ریاست کو ایسے شہریوں کے لیے بھی ایک منصفانہ سماجی تحفظ کا نظام بنانا چاہیے جو بڑھاپے میں اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہتے اور جن کے پاس مناسب بچت یا پنشن نہیں ہوتی
آخر ریاست کا مقصد صرف ٹیکس جمع کرنا تو نہیں بلکہ ریاست کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کا شہری کمزور، بوڑھا، بیمار اور بے سہارا ہو جائے
آخر یہ مراعات صرف اوپر والوں کے لئے کیوں ہیں؟
یہ معاملہ کسی ایک محکمے تک محدود نہیں، انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں میں تنخواہوں، پنشن، رہائش، گاڑیوں، علاج اور دوسری مراعات کے الگ الگ قواعد موجود ہیں
ہر ادارے کی ذمہ داریوں اور قانونی حیثیت کو سامنے رکھ کر جائزہ لینا چاہیے لیکن کسی بھی ادارے کو عوامی وسائل کے استعمال کے معاملے میں شفافیت اور جواب دہی سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے
اگر کسی اعلیٰ افسر کو دورانِ ملازمت سرکاری گاڑی، رہائش، ایندھن یا دوسری سہولتیں ملتی ہیں تو ان کی قانونی بنیاد، ضرورت اور مالی لاگت واضح ہونی چاہیے
اگر کسی عہدے کی ذمہ داریوں کے باعث خصوصی سہولت ضروری ہے تو اس کی معقول وجہ بھی ہونی چاہیے لیکن یہ سوال ضرور اٹھنا چاہیے کہ جب ایک عام ملازم اپنے بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے لئے پریشان ہے تو کیا عوامی خزانے سے ملنے والی مراعات کی تقسیم کا نظام واقعی منصفانہ ہے؟
اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کی ذمہ داریوں کا احترام اپنی جگہ مگر ماتحت ملازم کی عزتِ نفس بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا افسر کا عہدہ اسے قانونی اختیار دیتا ہے
ہمارا مسئلہ کسی افسر یا ادارے سے ذاتی دشمنی کا نہیں مسئلہ ایسے نظام کا ہے جس میں سہولتیں اوپر جمع ہوتی جائیں اور محرومیاں نیچے منتقل ہوتی رہیں
میرا سوال ہے کہ 60 سال کی عمر کے بعد ہر پاکستانی سرکاری و غیر سرکاری شہری کے لئے وظیفہ کیوں نہیں کیا جا سکتا ؟
میری رائے میں پاکستان میں ایسا نظام ہونا چاہیے کہ 60 سال کی عمر کے بعد ہر ضرورت مند شہری کو باعزت زندگی گزارنے کے لیے بنیادی ماہانہ وظیفہ ملے
اس کا تعلق صرف سرکاری ملازمت سے نہ ہو، بلکہ اس میں مزدور، چھوٹا کاروباری شخص، کسان اور وہ عام شہری بھی شامل ہوں جنہوں نے ساری زندگی محنت کی مگر بڑھاپے کے لیے مناسب بچت نہ کر سکے
یہ وظیفہ یعنی پنخن ایسی ہونی چاہیے کہ انسان اپنی خوراک، رہائش، بنیادی علاج اور روزمرہ ضروریات کسی حد تک پوری کر سکے
اس کی رقم مہنگائی کے مطابق وقتاً فوقتاً بڑھائی جائے، تاکہ چند سال بعد اس کی حقیقی قدر ختم نہ ہو جائے
البتہ جن لوگوں نے باقاعدہ ملازمت کی، پنشن فنڈ میں رقم جمع کرائی یا کسی قانونی اسکیم کے تحت اضافی فوائد حاصل کئے ان کے حقوق بھی محفوظ رہنے چاہییں
اصول یہ ہونا چاہیے کہ ہر شہری کے لیے بنیادی سماجی تحفظ موجود ہو اور ملازمت یا جمع شدہ رقوم کی بنیاد پر اضافی فوائد الگ دیے جا سکیں
اس نظام کے لئے حکومت کو مالی وسائل، مستحق افراد کی شناخت، موجودہ سماجی تحفظ کی اسکیموں اور پنشن کے اخراجات کا مکمل جائزہ لینا ہو گا
آخر ایک مزدور کی بھی تو زندگی ہوتی ہے اس نے بھی اپنے بچوں کی شادیاں کرنی ہوتی ہیں اس نے بھی بیماری کا علاج کرانا ہوتا ہے اس کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ بڑھاپے میں اپنے گھر میں سکون سے بیٹھے، اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے
مگر ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں تو ان کے بچوں کی اپنی ذمہ داریاں اور مجبوریاں سامنے آ جاتی ہیں
کچھ بچے والدین کا خیال رکھتے ہیں، کچھ حالات کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں اور بعض اپنے والدین سے غفلت بھی برتتے ہیں ایسے میں ریاست کا ایک مؤثر سماجی تحفظ کا نظام بزرگ شہریوں کے لیے سہارا بن سکتا ہے
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آج جو نوجوان محنت کر رہا ہے، کل وہ بھی بوڑھا ہوگا
آج جو شخص اپنے جسم کی طاقت سے روزی کماتا ہے کل اس کے ہاتھ بھی جواب دے سکتے ہیں
بڑھاپا کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں یہ انسانی زندگی کی حقیقت ہے
آخر میں ریاست سے چند سوال میں پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان صرف ان لوگوں کا ملک ہے جو بڑے عہدوں پر فائز ہیں؟
کیا اس ملک کے خزانے پر صرف ان لوگوں کا حق ہے جنہیں اچھی تنخواہیں، پنشن اور سرکاری مراعات حاصل ہیں؟
کیا ایک مزدور، کسان، ریڑھی بان، چھوٹا دکاندار اور عام محنت کش اس ریاست کا شہری نہیں؟
اگر ایک سرکاری ملازم کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن مل سکتی ہے تو ایک عام شہری کے لیے بنیادی بڑھاپا وظیفہ دینے کا راستہ کیوں نہیں نکالا جا سکتا؟
اگر حکومت مختلف طبقات کے لیے مالی وسائل مختص کر سکتی ہے تو سب سے کمزور طبقے کے لیے باعزت زندگی کی ضمانت دینے پر سنجیدہ غور کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
یہ درست ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی پنشن ختم کرنا یا سب کو یکساں پنشن دینا مسئلے کا حل نہیں
اسی طرح ہر شہری کو بلا امتیاز ایک ہی رقم دینے سے پہلے مالی استطاعت اور مستحق افراد کی ضروریات کا جائزہ لینا ضروری ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اصلاحات کے نام پر کمزور طبقے کو مذید مشکلات میں دھکیلنا ظلم ہے
ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں مراعات کا تعین شفاف اصولوں کے تحت ہو، عوامی خزانے کا حساب لیا جائے، کرپشن پر قابو پایا جائے، نچلے درجے کے ملازمین کو مناسب معاوضہ ملے اور ہر بزرگ شہری کے لیے بنیادی مالی تحفظ یقینی بنانے کی عملی کوشش کی جائے
ریاست صرف طاقتوروں کی سہولت کا نام نہیں، کمزوروں کے تحفظ کا نام بھی ہے
اگر ایک مزدور ساری زندگی محنت کرنے کے بعد بڑھاپے میں دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے، اگر ایک بزرگ شہری علاج کے لیے پیسے نہیں رکھتا اور اگر ایک محنت کش کو اپنی زندگی کے آخری حصے میں دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے تو ہمیں اپنے نظام پر ضرور غور کرنا چاہیے اور سوچنا ہو گا کہ کیا ہمارا ملک پاکستان ہے یا اشرافیشتان
ہمیں کمزور جسموں کی آہیں اور مجبور انسانوں کی بددعائیں لینے کے بجائے ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہو گا جہاں محنت کی عزت ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور بڑھاپا کسی انسان کے لیے سزا نہ بنے
میرا مطالبہ سادہ ہے: کہ سرکاری ملازم کے جائز حقوق بھی محفوظ رہیں مگر غیر سرکاری محنت کش کو بھی بڑھاپے میں بے سہارا نہ چھوڑا جائے
عوامی خزانہ عوام کی امانت ہے اور اس کے استعمال میں انصاف، شفافیت اور جواب دہی ہر حال میں ضروری ہے
کیونکہ سوال آج بھی وہی ہے کیا ریاست کے خزانے پر صرف اشرافیہ کا حق ہے یا اس ملک کے ہر محنت کرنے والے شہری کا بھی کوئی حصہ ہے؟
ارباب اختیار خدارا قبر میں بہت اندھیرا اور کڑا حساب ہو گا سو کچھ سوچئیے گا ضرور
مزید پڑھیں




